قائمہ کمیٹی کی وزارت قو می صحت کو عدالتوں سے ادویات کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق کیسز پر حکم امتناع کے جلد خاتمے کیلئے موثر پیروی کی ہدایت

پاکستان میں 2فیصد سے زائد ادویات غیر معیاری اور جعلی ہیں ،یہ ادویات ہمسایہ ممالک سے افغانستان کے راستے درآمد کی جاتی ہیں، مقرر کردہ قیمت سے زائد پر فروخت کرنے والوں کیلئے سزاؤں میں اضافہ کیا جا رہا ہے ،ادویہ ساز ادارے کے مالک کو 1 کروڑ سے 10 کروڑ روپے جرمانہ اور تین سال قید اور ڈسٹری بیوٹر کو ایک لاکھ سے دس لاکھ روپے جرمانہ اور دو سال قید ری ٹیلر کو ایک لاکھ روپے جرمانہ اور ایک سال قید کا قانون بنایا جا رہا ہے، جعلی ادویات کی روک تھام کے لیے تھری ڈی (ڈی کوٹنگ) کی جا رہی ہے ،دوائی خریدنے والا اپنے موبائل سے ڈی کوٹنگ کے ذریعے دوائی کو چیک کر سکے گا ،ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے سی ای او کی بریفنگ