نواز شریف سے ملاقات میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بھی بات ہوئی اور ترکی مقبوضہ کشمیر پر پاکستانی موقف کی بھر پور حمایت کرتا ہے- کنٹرول لائن پر کشیدہ صورتحال پرتشویش ہے۔

پاکستان اورافغانستان کے درمیان بہترتعلقات چاہتے ہیں -دہشت گردتنظیموں کاخاتمہ کریں گے امید ہے ہماری مخالف دہشت گردتنظیم کو پاکستان میں بھی جگہ نہیں ملے گی۔ پاکستان اورترکی کے تعلقات منفرد ہیں اور ترکی کے ساتھ تعلقات کا فروغ چاہتے ہیں جب کہ مشکلات کے ماحول میں پاکستان اورترکی کے تعلقات اوربھی مضبوط ہوں گے اور یقین ہے امن اورخوشحالی کے لئے ترکی اپناکردارجاری رکھے گا۔ترک صدر رجب طیب اردوان کا وزیراعظم نوازشریف کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب ,