سپریم کورٹ نے 35 لاپتہ افراد کے مقدمے میں اٹارنی جنرل اور خیبر پختونخواہ حکومت سے 24 گھنٹے میں رپورٹ طلب کر لی ،عدالت سے مذاق بند کیا جائے، یاسین شاہ سمیت لاپتہ افراد کو بازیاب کرواکر آ ج پیش کیا جائے ، سپریم کورٹ،ہمارے صبر کا امتحان نہ لیا جائے تو بہتر ہے‘ تو چل میں چل سے ہٹ کر کوئی کام نہیں ہورہا۔سات ماہ گزرگئے صوبائی حکومت نے ایف آئی آر درج کی ہے اور نہ ہی کوئی تفتیشی افسر مقرر کیا ،جسٹس جواد ایس خواجہ کے ریمارکس