آئی پی گیس پائپ لائن منصوبہ پر اپنے حصہ کا کام مکمل نہ کرنے پر یکم جنوری 2015ء سے پاکستان کو یومیہ 3ملین ڈالر جرمانہ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، شاہد خاقان عباسی، حکومت ابھی بھی آئی پی گیس پائپ لائن پر پرعزم ہے ، ایرانی حکومت سے اس پر بات چیت جاری ہے ، کوشش کررہے ہیں کہ معاملات بات چیت سے طے ہوجائیں ورنہ عالمی ثالثی عدالتوں میں بھی جایا جاسکتا ہے ، پاکستان کے دیگر ممالک سے اپنے تعلقات ہیں ، قطر سے ایل این جی کی درآمد پر سعودی عرب سمیت کسی ملک کو اعتراض نہیں ہوگا ، تیل و گیس پر فروری تک حکومت ساڑھے اٹھارہ ارب کی سبسڈی دے چکی ہے ، گھریلو صارفین کے لئے گیس کی قیمتیں کافی کم ہیں ، نظر ثانی کرنا پڑے گی ، فرٹیلائزر اورتوانائی کے شعبہ کو گیس کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے ، میڈیا سے گفتگو