حکومت نے نجی پاور پلانٹس اور پی ایس او کو قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کنٹرولر جنرل اکاؤنٹس کی منظوری کے بغیر سرکاری خزانے سے ادائیگیاں کیں شاید یہی وجہ ہے کہ گورنر سٹیٹ بینک کو مستعفی ہونا پڑا، آڈیٹر جنرل آف پاکستان کا پی اے سی میں انکشاف، پی اے سی نے معاملے پر سیکرٹری خزانہ کو طلب کرلیا ، کمیٹی نے نجی پاور پلانٹس کو بجلی کی پیداوار بڑھانے کیلئے 40ارب روپے ایڈوانس میں دینے کے معاملے کو نمٹا دیا، این ٹی ڈی سی کی جانب سے غیر ضروری طور پر 5ارب 33کروڑ روپے کے سامان کی خریداری کے معاملے پر اشیاء کی تفصیلی فہرست طلب کرلی،کمیٹی نے کمپنی آرڈیننس اور وزارت خزانہ کے تنازعات کو حل کرنے کیلئے خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دے دی