ای او بی آئی بدعنوانی کیس، چیئرمین کو ڈی ایچ اے سمیت دیگر فریقین سے اراضی کی فروخت بارے کئے گئے معاہدوں ، اراضی کی دوبارہ بولی دلوانے سمیت معاملات پر حتمی فیصلے کرنے کے لیے دو ہفتوں کی آخری مہلت،ای او بی آئی سکینڈل میں افسران بالا ملوث تھے ان کیخلاف سول اور فوجداری کارروائی کی ضرورت ہے۔ان کی غلطیوں کا خمیازہ کسی دوسرے کو نہیں بھگتنا،جسٹس انور جمالی، مقدمہ بازی والی اراضی چاہے جتنی بھی پرکشش ہو کوئی خریدنے کے لیے تیار نہیں ہوتا ، مخالف فریق سے اگر کوئی شکایت ہے تو اراضی واپس کرکے رقم لی جاسکتی ہے،ریمارکس، ای او بی آئی میں بس کرپشن ہی کرپشن ہے، آخر ایسی کون سے مجبوری تھی کہ دو سے تین ماہ میں ای او بی آئی نے اتنی بڑی ڈیل کی،جسٹس اعجاز چوہدری، اراضی کی بولی کے لیے اشتہار دیا تھا مگر کوئی بولی دینے نہ آیا، معاملے کا ازسرنو جائزہ لینا چاہتے ہیں، غیر شفاف ڈیل کے تمام فریقین ذمہ دار ہیں،چیئرمین ای او بی آئی