قومی اسمبلی کی ریلوے کمیٹی نے آئندہ مالی سال کے دوران نئے ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کی مخالفت ،دستیاب مالی وسائل کے اندر رہ کر ترقیاتی منصوبے شروع کرنے اورمنصوبوں کی حتمی تجاویز مرتب کرکے ایک ہفتے کے اندر منظوری کیلئے پیش کرنے کی ہدایت،خوابوں میں زندہ رہنے کی بجائے حقیقت کو مدنظر رکھا جائے ایسے منصوبوں کا تذکرہ نہ کیا جائے جو حقیقت نہیں بن سکتے،نوید قمر،ریلوے قابض زمینوں کو واگزار کرا کر کمرشل استعمال میں لائے تو منافع بخش ادارہ بن سکتا ہے، امجد خان، ریلوے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کیلئے ریلوے کو 150ارب روپے درکار ہیں جاری منصوبوں کو آئندہ تین سال میں مکمل کرلیا جائے گا،کمیٹی کو حکام کی بریفنگ