مولانا فضل الرحمن نے وفاقی وزیر کے عہدے کے برابر کا عہدہ قبول کرنے سے معذرت کرلی ، حکومت کا طالبان سے مذاکرات کا ٹریک درست نہیں ہے، مذاکرات کامیاب ہوتے نظر نہیں آتے،مولانا فضل الرحمن، طالبان سے مذاکرات کی کامیابی کا میکنزم ہمارے پاس ہے، کوئی ہم سے رابطہ کرے گا تو سب ہی میں بتاؤں گا ، افغانستان اور بھارت کے انتخابات ان کا اندرونی معاملہ ہے ہمیں اپنی خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کرنا ہوگی،جب تک ہمارے اور حکومت کے مابین تمام معاملات طے نہیں ہوجائینگے اس وقت تک کوئی عہدہ قبول نہیں کرونگا ۔ صرف دو چار حلقوں کیلئے نہیں بلکہ پورے ملک میں ہونے والی دھاندلی کیلئے اٹھنا ہوگا ، اسمبلی اپنی مدت پوری کرے گی ملک میں امن وامان کی ذمہ داری حکومت کی ہے جو اسے پوری کرنی چاہیے ۔ دینی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوجائیں ،عالمی قوتیں ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی،مدرسہ قاسم العلوم ملتان میں خطاب ومیڈیا سے بات چیت