مناواں پولیس اکیڈمی حملہ لاہور

2009 Lahore police academy manawan attacks

نتہائی تربیت یافتہ نوجوان حملہ آوروں نے جنہوں نے ہلکے آسمانی رنگ کا لباس پہنا رکھا تھا صبح تقریبا ساڑھے سات بجے کے قریب مناواں پولیس سینٹر میں داخل ہو کر تربیتی سینٹر میں پریڈ کرنے والے پولیس اہلکاروں پر حملہ کردیا فائرنگ کی اور دستی بم سے حملہ کیا، مسلح دہشت گرد پولیس اہلکاروں کو یرغمال بناکر ٹریننگ سینٹر کی بالائی منزل میں موجود اسلحہ ڈپو میں داخل ہو گئے ۔ حملے کے وقت پولیس ٹریننگ سینٹر میں چھ سو سے سات سو اہلکار وں کے علاوہ ایف آئی اے کے چالیس اہلکار بھی موجود تھے ۔ عمارت سے دہشت گردوں کا قبضہ چھڑانے اور یرغمال اہلکاروں کو رہا کرانے کے لئے ایلیٹ فورس ر، پاک فوج اور رینجرز کو طلب کرلیا گیا،حملہ کی منصوبہ بندی بیت اللہ محسودکے پاس ہوئی ۔ لاہور رینجرز ہیڈ کوارٹر میں آئی جی پولیس پنجاب اورڈی جی رینجرز سے بریفنگ کے بعد میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ گرفتاردہشت گرد افغانستان کا رہائشی ہے ، جو پندرہ دن پہلے لاہور آکر کرائے کے مکان میں رہائش پذیر تھا، مشیر داخلہ نے کہاکہ دہشت گردوں کی بیرونی عناصر مدد کررہے ہیں جو پاکستان کے دشمن ہیں اور ملک میں عدم استحکام پیدا کرناچاہتے ہیں اس آپریشن میں چھ پولیس اہلکار شہید ہوئے جبکہ جاں بحق ہونے والے دو افراد کی شناخت نہیں ہوسکی.

ہم معزرت خواہ ہیں 'مناواں پولیس اکیڈمی حملہ لاہور' کی کوئی خبر موجود نہیں ہے