2011 ڈی جی خان مزار پر حملہ

2011 DG Khan shrine bombing

ڈی جی خان کے قریب واقع حضرت سخی سرورؒ کے عرس کے موقع پر دربار پر یکے بعد دیگرے دو خودکش بم دھماکوں سے 44 افراد جاںبحق اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے، 80 افراد شدید زخمی ہیں۔ 11کی حالت نازک ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایک دھماکہ مرکزی دروازے کے قریب‘ دوسرا پچھلی جانب ہوا جبکہ کچھ وقفے کے بعد تیسرا دھماکہ بھی ہو گیا اور چوتھا دھماکہ حملہ آور کی گرفتاری کے باعث نہ ہو سکا، دھماکوں سے ہر طرف چیخ و پکار مچ گئی۔ انسانی اعضا دور دور تک بکھر گئے۔زخمیوں کو ہسپتالوں میں طبی امداد کیلئے منتقل کر دیا گیا ہے۔ پولیس اور امدادی اداروں کے اہلکاروں نے امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا۔ دھماکے کے وقت سینکڑوں زائرین موجود تھے۔ دھماکے سے مزار کو معمولی نقصان پہنچا۔ دھماکوں کے بعد ینگ ڈاکٹر ہڑتال ختم کرکے ہسپتالوں میں پہنچ گئے۔ جاں بحق اور زخمیوں میں خواتین اور بچے شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق 7 بچے اور 8 خواتین جاں بحق ہوئیں‘ بم دھماکوں کے بعد صوبے بھر میں مساجد عبادت گاہوں اور مزارات پر سکیورٹی کو سخت کردیا ہے۔ مزار سخی سرورؒ کو بند کر دیا گیا ہے۔ تحریک طالبان پاکستان نے دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی.

ہم معزرت خواہ ہیں '2011 ڈی جی خان مزار پر حملہ' کی کوئی خبر موجود نہیں ہے