واہگہ بارڈر خودکش حملہ

2014 Wagah border suicide attack

لاہورواہگہ بارڈردھماکہ خود کش تھا جو 5بج کر 30 منٹ پر ہوا اس میں کم از کم 5کلو گرام بارود استعمال کیا گیا۔ آئی جی پنجاب کے مطابق کہ دھماکے میں بال بیرنگ بھی استعمال ہوئے ، خود کش حملہ آور نے ہجوم کی موجودگی کا فائدہ اٹھایا جبکہ ایسے مقامات پر خود کشن حملہ آور کو روکنا انتہائی مشکل کام بھی ہے۔امریکہ کی جانب سے واہگہ بارڈر خودکش دھماکے پر اظہار افسوس اور تحقیقات میں معاونت کی پیشکش کی گئی .واہگہ بارڈر پر مبینہ خودکش حملے میں صرف گھرکی ہسپتال میں48لاشیں لائی گئیں. ایم ایس گھرکی ہسپتال نے تصدیق کرتے ہوئے کہا  کہ ہسپتال میں 48لاشیں لائی گئیں۔وزیر داخلہ پنجاب نے بتایا کہ واہگہ بارڈر پر ہونے والا حملہ خود کش تھا اور اس بمبار کا اصل ہدف رینجرز اور بی ایس ایف تھا، لیکن رینجرز کی سخت سیکورٹی کے باعث وہ اپنے ہدف تک پہنچ نہیں سکا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اس خود کش حملے میں غیر ملکی ہاتھ کے ملوث ہونے کا امکان مسترد نہیں کر سکتے۔شجاع خانزادہ نے بتایا کہ رینجرز اور دیگر اداروں کو 31 اکتوبر کو ہی ممکنہ دہشت گردی کی اطلاع کر دی تھی۔ وہاں کی سیکورٹی بھی سخت تھی اسی لیے خود کش حملہ آور اصل ہدف تک پہنچنے میں ناکام رہا۔حملہ آورنے پرچم اتارنے کی تقریب کے بعد دھماکہ کیا.دھماکے کے روزچھ ہزار افراد نے پریڈ دیکھی تھی۔واہگہ بارڈر پر پرچم اتارنے کی تقریب کے بعد ہونے والے خود کش حملے کے بعد بھارتی بارڈر فورسز کی طرف سے آئندہ تین روز تک یہ تقریب منعقد نہ کرنے کا اعلان کیا گیا۔ ڈی جی بارڈر فورسز کے مطابق یہ فیصلہ پاکستانی حکام کی درخواست پر کیا گیا ۔ واہگہ بارڈر پر پاکستانی علاقے میں ہونے والے اس دھماکے میں پچاس سے زائد افراد جاں بحق جبکہ سو سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔ جنہیں گھرکی ٹرسٹ اور شالیمار ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق یہ دھماکہ پریڈ ختم ہونے کے فوراً بعد ہوا اور جاں بحق ہونے والوں میں رینجرز اہلکار بھی شامل ہیں۔

ہم معزرت خواہ ہیں 'واہگہ بارڈر خودکش حملہ' کی کوئی خبر موجود نہیں ہے