انور سیف اللہ خان

Anwar Saifullah Khan

سیاست دان۔ سابق قومی اسمبلی اور سینٹ کے ممبر۔ سابق وزیر پیٹرولیم ، موجودہ ممبر صوبائی اسمبلی صوبہ سرحد۔ 7 جون 1946ء کو پشاور صوبہ سرحد میں پیدا ہوئے۔ بنیادی طور پر ان کا تعلق لکی مروت غزنی خیل سے ہے۔ صوبہ سرحد کے ایک نامور سیاسی خانوادے میں پیدا ہوئے۔ بیگم کلثوم سیف اللہ کے فرزند اور سابق صدر مملکت غلام اسحاق خان کے داماد ہیں۔انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے کیا۔ 1988ء کے عام انتخابات میں بنوں کے حلقے سے مسلم لیگ کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ۔ دسمبر 1990ء میں سینٹ کے ضمنی انتخابات میں وہ صوبہ سرحد سے بلا مقابلہ سینٹ کے رکن منتخب ہوئے۔ یہ نشت ان کے بھائی سلیم سیف اللہ کے صوبائی اسمبلی کا رکن بننے کی وجہ سے خالی ہوئی تھی۔ مارچ 1991ء میں وہ ایک مرتبہ پھر چھ سال کے لیے سینٹ کے رکن منتخب ہوئے۔ نواز شریف حکومت میں شہری امور اور ماحولیات کے وفاقی وزیر بنائے گئے ۔28 مارچ 1993ء کو انہوں نے وزیراعظم نواز شریف کو مسلم لیگ کا صدر نامزد کرنے کے فیصلے پر احتجاج کرتے ہوئے اپنا استعفیٰ صدر مملکت کو پیش کر دیا۔ یہیں سے وفاقی اور صوبائی وزراء کے استعفوں کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جو بالاخر نواز شریف کی حکومت کے خاتمے پر منتج ہوا۔ نگران وزیر اعظم میر بلخ شیر مزاری کی کابینہ میں ایک مرتبہ پھر وفاقی وزیر بنے۔ جنوری 1994ء میں ایک مرتبہ پھر بینظیر بھٹو کی وفاقی کابینہ میں بطور وزیر پیٹرولیم مقرر ہوئے لیکن 6 نومبر 1996ء کو بینظیر حکومت کے خاتمے کے ساتھی ہی ان کی وزارت ختم ہوئی۔ فروری 2008ء میں ہونے والے الیکشن میں لکی مروت کی صوبائی اسمبلی کی نشست سے صوبائی اسمبلی کے ممبر بنے۔ ان کے خاندان کو پاکستان کی سیاست میں کافی اہمیت حاصل ہے۔ اس خاندان کو کنک میکر بھی کہا جاتا ہے۔ جو کہ ہر حکومت کے ساتھ ہوتی ہے۔ اس خاندان کی وفاداریاں آج کل مسلم لیگ ق کے ساتھ ہیں۔ لیکن انور سیف اللہ کا جھکاو پیپلز پارٹی کی طرف زیادہ ہے۔

'انور سیف اللہ خان' کی خبریں