بینظیر بھٹو شہادت

Assassination of Benazir Bhutto

دسمبر 2007ء کو جب بے نظیر لیاقت باغ میں عوامی جلسے سے خطاب کرنے کے بعد اپنی گاڑی میں بیٹھ کر اسلام آباد آرہی تھیں کہ لیاقت باغ کے مرکزی دروازے پر پیپلز یوتھ آرگنائزیشن کے کارکن بے نظیر بھٹو کے حق میں نعرے بازی کر رہے تھے۔ اس دوران جب وہ پارٹی کارکنوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے گاڑی کی چھت سے باہر نکل رہی تھیں کہ نامعلوم شخص نے ان پر فائرنگ کر دی۔ اس کے بعد بے نظیر کی گاڑی سے کچھ فاصلے پر ایک زوردار دھماکہ ہوا جس میں ایک خودکش حملہ آور جس نے دھماکہ خیز مواد سے بھری ہوئی بیلٹ پہن رکھی تھی، خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ اس دھماکے میں بینظیر بھٹو جس گاڑی میں سوار تھیں، اس کو بھی شدید نقصان پہنچا لیکن گاڑی کا ڈرائیور اسی حالت میں گاڑی کو بھگا کر راولپنڈی جنرل ہسپتال لے گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گئیں۔ بے نظیر کی وصیت کے مطابق پیپلز پارٹی کی قیادت ان کے 19 سالہ بیٹے بلاول زرداری بھٹو کو وراثت میں سپرد کر دی گئی۔دسمبر 2007 کو لیاقت باغ کے باہر ہونے والے خود کش حملے اور فائرنگ میں بے نظیر بھٹو کو شہید کیا گیا.اْس وقت گاڑی میں ناہید خان، شیریں رحمان اور امین فہیم موجود تھے۔جس وقت یہ واقعہ رونما ہوا اْس وقت رحمان ملک بینظیر بھٹو کے سیکورٹی ایڈوائزر تھے اور اْس روز کیے جانے والے سکیورٹی کے انتظامات پر وہ متعدد بار خدشات کا اظہار کرچکے تھے۔ سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو شہید پر حملے کی تحقیقات میں‌مدد کے لئے اسکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹيم اسلام آباد پہنچی ٹیم نے پولیس افسران کے بیانات قلمبند کئے۔ ان سے سوالات کئے۔ محترمہ بینظیر بھٹو کی گاڑی سمیت دیگر تباہ ہونے والی گاڑیوں کو معائنہ کیا جبکہ ٹیم نے بے نظیر شہید اسپتال کا دورہ بھی کیا جہاں انہیں پروفیسر مصدق نے بریفنگ دی۔ ٹیم نے لاہور میں آئی جی پنجاب سے بھی ملاقات کی جہاں انہیں بریفنگ دی گئی۔ ٹیم نے دورے میں اٹارنی جنرل پاکستان لطیف کھوسہ، وزارت داخلہ کے اعلیٰ اور اہم سیاسی شخصیات سے ملاقاتیں کیں اور تفصیلات لیں۔

ہم معزرت خواہ ہیں 'بینظیر بھٹو شہادت' کی کوئی خبر موجود نہیں ہے



'بینظیر بھٹو شہادت' سے متعلقہ مضامین