فوزیہ وہاب

Fauzia Wahab

فوزیہ پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی سیاستدان تھیں۔ انہیں طالب علمی کے دنوں سے سیاست سے دلچسپی رہی وہ ترقی پسند خیالات رکھتی تھیں۔ 1993ء میں جب وزیراعظم بینظیر بھٹو نے بلدیہ عظمیٰ کراچی کے لیے ایدھی ایئر ایمبولینس کے کپتان فہیم الزمان کو ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا تو دیگر امور چلانے کے لیے ایک مشاورتی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی، اس کمیٹی فوزیہ وہاب بھی شامل تھیں۔ انہی دنوں پیپلز پارٹی کی جانب سے انسانی حقوق سیل قائم کیا گیا اور فوزیہ وہاب اس کی کوآرڈینیٹر مقرر ہوئیں۔ وہ انسانی حقوق کی مقامی اور بین الاقوامی تنظیموں اور میڈیا سے رابطے میں رہیں اور اپنی جماعت کا بھرپور دفاع کرتی دکھائی دیں۔ یہ سرگرمیاں حقوقِ انسانی کے شعبے میں ان کی دلچسپی بڑھانے کی وجہ بنیں اور وہ خود انسانی حقوق کی کارکن بن گئیں۔ اسی پس منظر کے تحت وہ حدود آرڈیننس اور توہین رسالت کے قانون کے خاتمے کے لیے سرگرم رہیں۔2008ء کے انتخابات میں وہ دوسری بار خواتین کے لیے مخصوص نشست پر کامیاب ہوئیں اور جب شیری رحمان کو وفاقی وزیر اطلاعات کے عہدے سے ہٹایا گیا تو ان سے پارٹی کے شعبۂ اطلاعات کی سیکرٹری کی بھی ذمہ داری واپس لے لی گئی اور یہ ذمہ داری فوزیہ وہاب کے حصے میں آئی۔ بعد ازاں محترمہ بینظیر بھٹو نے انہیں پیپلز پارٹی شعبۂ خواتین کی سیکرٹری اطلاعات مقرر کیا اور جب 1996ء میں پیپلزپارٹی کی حکومت ختم ہو گئی تو 1997ء کے انتخابات میں انہوں نے حلقہ این اے 193 سے رکن ایوان زیریں کے امیدوار کے طور پر انتخابات میں حصہ لیا۔ یہ انتخابات پیپلز پارٹی ہار گئیں اور حزب اختلاف کے طور پر ایوان میں اپنا کردار ادا کیا۔ 17 جون 2012ء میں وفات کے وقت وہ پیپلز پارٹی کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات کے عہدے پر فائز تھیں۔

'فوزیہ وہاب' کی خبریں