حمید جتوئی

Hameed Jatoi

سندھ کے بزرگ سیاستدان ۔وفاقی وزیر لیاقت جتوئی کے والد۔ دادو کے گاؤں بیٹو جتوئی میں پیدا ہوئے۔تین مرتبہ ممبر قومی اسمبلی منتخب ہونے والےعبدالحمید جتوئی اپنے مخصوص انداز اور فکر کی وجہ سےگزشتہ چار دہائیوں تک سندھ کی سیاست پر چھائے رہے۔

انہوں نے مغربی پاکستان اسمبلی میں ون یونٹ کے خلاف ووٹ دیا تھا۔ اور شیخ مجیب کے چھ نکات کی حمایت کی تھی۔ وہ جی ایم سید اور میر غوت بخش بزنجو کے فکری ساتھی سمجھے جاتے تھے۔

حمید جتوئی نے ہمیشہ حزب مخالف کا ساتھ دیا اور حکومت پر تنقید کو شیوہ بنائے رکھا۔ انہوں نے خود کبھی سرکاری عہدہ نہیں قبول نہیں کیا تاہم ان کی سیاست کے طفیل ان کے بیٹے لیاقت جتوئی تین مرتبہ وزیر اور ایک مرتبہ وزیر اعلی سندھ رہے۔

جتوئی کا شمار سندھ کے بڑے قوم پرست رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ ساٹھ کے آخری عشرے میں جب ذوالفقار علی بھٹو نے پیپلز پارٹی بنائی تو وہ اس میں شامل ہوگئے۔ لیکن آگے چل کر ان کے اور بھٹو کےدرمیاں اختلاف پیدا ہوگئے اور وہ پہلے سندھی رہنما تھے جنہوں نے قومی اسمبلی میں ذوالفقار علی بھٹو کی مخالفت کی۔جس کی پاداش میں انہیں گرفتار بھی کیا گیا لیکن عدالت نے ان کی نظربندی کو کالعدم قرار دے دیا۔

اس واقعہ کے بعد وہ بھٹو اور پیپلز پارٹی کی سیاست کے مخالف ہوگئے اور آخر وقت تک اس موقف پر قائم رہے۔ انہوں نے مسلم لیگ کی جونیجو حکومت اور بعد میں نواز شریف حکومت کی حمایت کی۔ضیاء دور میں جب پیپلز پارٹی زیر عتاب تھی تب سندھ میں سیاسی خلا کو پر کرنے کے لیے محتلف سیاستدانوں، خاص طور پر قوم پرستوں کو اکٹھا کرنے کی کوشش کی گئی۔انہوں نے ایسے وقت میں وجود میں آنے والے سندھ قومی اتحاد کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔

انیس سو پچاسی میں غیر جماعتی انتخابات کے بعد جب ملک میں مارشل لا ہٹانے کے لیے اسمبلی کے اندر تحریک چلی تب جتوئی نے حاجی سیف اللہ کے ساتھ ملکر اہم کردار ادا کیا۔

حمید جتوئی آخر تک کالاباغ ڈیم کے مخالف رہے۔ گردوں کی تکلیف کی وجہ سے انتقال ہوا۔

ہم معزرت خواہ ہیں 'حمید جتوئی' کی کوئی خبر موجود نہیں ہے