جمرود مسجد خودکش حملہ

Jamrud mosque suicide bomber

جمرود: خیبر ایجنسی کی تحصیل جمرود کے علاقے "سخی پُل" کے قریب غونڈئے کی جامع مسجد المدینہ میں جمعہ کی نماز ادا کی جارہی تھی کہ اس دوران مسجد میں موجود خود کش حملہ آور نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا لیا جسکے نتیجے میں مسجد میں موجود 60 نمازی شہید اور 100 سے زائد زخمی ہوگئے، دھماکے کے بعد ہر طرف خون اور انسانی اعضاء بکھر گئے۔ علاقہ قیامت کا منظر پیش کررہا تھا۔عینی شاہدین کے مطابق مسجد میں 500 کے قریب نمازی موجود تھے کہ نماز جمعہ کے دوران خود کش حملہ کیا گیا، دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی اور اس سے آس پاس کی عمارتیں بھی لرز گئیں۔ جبکہ مسجد کی چھت بھی شہید ہوگئی، ایک عینی شاہد کے مطابق دن کے ایک بج کر 40 منٹ پر جوں ہی امام نے اللہ اکبر کہا تو اس وقت 15 سے 16 سال کی عمر کے ایک نوجوان نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا لیا جس سے پوری مسجد دھوئیں سے بھر گئی۔ دھماکے کے بعد مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت زخمیوں اور لاشوں کو خیبر ٹیچنگ اور حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں منتقل کیا۔ امدادی ٹیمیں اور بم ڈسپوزل اسکواڈ 2 گھنٹے تک موقع پر نہ پہنچ سکے۔ دھماکے کے بعد پشاور کے تمام اسپتالوں میں ایمر جنسی نافذ کر دی گئی، اسپتال انتظامیہ کے مطابق خیبر ٹیچنگ اسپتال میں 12 لاشیں اور 40 زخمی جبکہ حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں 15 لاشیں اور 33 زخمی لائے گئے ہیں۔ دھماکے کے بعد خاصہ دار فورس کے ایک افسر نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ دھماکے میں 60 نمازی شہید اور 100 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے کہا کہ حملے کے وقت مسجد میں 500 نمازی موجود تھے جن میں سے 50 شہید ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کا کسی مخصوص علاقے مذہب یا گروہ سے کوئی تعلق نہیں بلکہ وہ ایک بین الاقوامی ایجنڈے کے تحت کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان امریکا اور افغانستان کو اعتماد بحال کرکے موثر کاروائی کرنا ہوگی۔ 

ہم معزرت خواہ ہیں 'جمرود مسجد خودکش حملہ' کی کوئی خبر موجود نہیں ہے