ٹکا خان

Tikka Khan

سابق مشرقی پاکستان کے گورنر اور سابق چیف آف آرمی سٹاف، ٹکا خاں کا تعلق ضلع راولپنڈی کے ایک گاؤں میرامٹور سے تھا۔ برطانوی فوج میں سپاہی کے حیثیت سے عملی زندگی کا آغاز کرنے کے بعد ٹکا خان کی 1940ء کی دہائی کے اوائل میں کمیشنڈ افسر کی حیثیت سے ترقی ہو گئی۔ انہوں نے 1965ء کی جنگ میں رن آف کچھ میں ایک بریگیڈ کی کمان کی اور ہلال جرات حاصل کیا۔ ٹکا خاں پاکستان کی تاریخ کے ایک انتہائی نازک دور میں سابق مشرقی پاکستان میں فوج کے کمانڈر اور گورنر بھی رہے۔ اور ان کے اسی کردار نے ان کو ایک متنازع شخصیت بنا دیا۔ بہت سے لوگوں کے نزدیک ان کا شمار ان افسران میں ہوتا ہے جنہوں نے مشرقی پاکستان میں انتہائی ناپسندیدہ کردار ادا کیا جبکہ ان کے ساتھ کام کرنے والے سابق فوجی افسران ان کو ایک سادہ اور محنتی فوجی کی حیثیت سے یاد کرتے ہیں۔ ان کے مطابق پچیس مارچ 1971ء کی رات کو ہونے والے ایک ظالمانہ آپریشن نے جس میں شیخ مجیب الرحمٰن کو گرفتار کیا گیا تھا جنرل ٹکا خاں کو متنازع بنا دیا۔ لیکن ان افسران کے مطابق جنرل ٹکا خان کے ساتھ انصاف نہیں ہوا اور ذرائع ابلاغ میں مبالغہ آرائی سے کام لیا گیا۔ سابق صدر ایوب خان نے اپنی یاداشت میں آپ کو "goof" کے لقب سے پکارا ہے۔[1] [2] 1972ء میں وہ چیف آف آرمی سٹاف بنے اور تین سال بعد فوج سے ریٹائر ہونے پر وہ صوبہ پنجاب کے گورنر بنے۔ 1988ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کے دوبارہ اقتدار میں آنے پر وہ دوبارہ اس عہدے پر فائز ہوئے۔ اسی سال انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر راولپنڈی سے قومی اسمبلی کی ایک نشست پر الیکشن لڑا جس میں وہ ہار گئے۔

'ٹکا خان' کی خبریں




ٹکا خان سے متعلقہ تصاویر

پشاور: اخبار فروش فیڈریشن کے .. پشاور: اخبار فروش فیڈریشن کے .. ٹکا خان کی مزید تصاویر