یحییٰ خان

Yahya Khan

جنرل آغا محمد یحٰیی خان (4 فروری 1917ء - 10 اگست 1980ء) پاکستان کی بری فوج کے تیسرے سربراہ اور پانچوے صدر مملکت تھے۔ صدر ایوب خان نے اپنے دور صدارت میں انھیں 1966ء میں بری فوج کا سربراہ نامزد کیا۔ 1969ء میں ایوب خان کے استعفٰی کے بعد عہدۂ صدارت بھی سنبھال لیا۔ یحیی خان کے یہ دونوں عہدے سقوط ڈھاکہ کے بعد 20 دسمبر 1971ء میں ختم ہوئے جس کے بعد انھیں طویل عرصے تک نظر بند بھی رکھا گیا۔ ء میں پنجاب کے شہر چکوال[1] میں پیدا ہوئے۔ سات بہن بھائیوں میں چھٹے نمبر پر تھے۔[1] ان کے علاوہ ان کا ایک بھائی آغا محمد علی اور پانچ بہنیں بنام حسینہ بی بی، حمیدہ بی بی، حمایت بی بی، وفا بی بی اور اختر بی بی تھیں۔[1] یحٰیی خان کے بیٹے علی یحٰیی کے بقول ان کے آباواجداد 200 سال قبل براستہ افغانستان برصغیر میں آئے اور پشاور کو مسکن بنایا۔ یحٰیی خان کے خاندان کا تعلق قزلباش ذات سے ہے۔[1] والد خان بہادر آغا سعادت علی خان انڈین پولیس میں ایک اعلی عہدیدار تھے۔ ابتدائی تعلیم گجرات سے حاصل کرنے کے بعد جامعہ پنجاب سے گریجویشن کیا۔ اس کے بعد انڈین ملٹری اکیڈمی ڈیرہ دون چلے گئے۔ 1938ء میں فوج میں کمیشن حاصل کیا۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران متعدد محاذوں پر خدمات انجام دیں۔ 1945ء میں سٹاف کالج کوئٹہ سے کورس مکمل کرکے مختلف سٹاف عہدوں پر متمکن رہے ۔ بعد ازاں سٹاف کالج کوئٹہ میں انسٹرکٹر مقرر ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد مختلف ڈویژنل ہیڈ کوارٹروں اور جنرل ہیڈ کوارٹر میں اعلی عہدوں پر فائز ہوئے۔ 1962ء میں مشرقی پاکستان کے گیریژن آفیسر کمانڈنگ مقرر کیے گئے۔ ستمبر 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں نمایاں خدامت کے صلے میں ہلال جرات کا اعزاز دیا گیا۔ ستمبر 1966ء میں جنرل محمد موسی خان کے ریٹائر ہونے پر افواج پاکستان کے کمانڈر انچیف مقرر ہوئے۔ 1965ء کی جنگ کے بعد طلباء نے معاہدۂ تاشقند کے خلاف تحریک کا آغاز کیا جو کافی شدت اختیار کر گئی رفتہ رفتہ ایوب خان خلاف ایک قوت کی شکل اختیار کر گئی لیکن اس بعد ازاں بزور قوت دبا دیا گیا۔ وزارت خارجہ کا قلمدان چھننے کے بعد بھٹو نے پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی اور عوام میں موجود ایوب مخالف جذبات کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ 1966ء میں مشرقی پاکستان کی سیاسی جماعت عوامی لیگ سے تعلق رکھنے والے شیخ مجیب الرحمن نے 6 نکات پر مشتمل مطالبات پیش کر دیے۔ ان نکات کو مغربی پاکستان میں، سیاسی اور عوامی دونوں سطوح پر، شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور علیحدگی پسندی کا مترادف قرار دیا گیا۔ اس کے بعد شیخ مجیب الرحمن کو گرفتار کر لیا گیا۔ جبکہ مغربی پاکستان میں ایوب خان کے خلاف تحریک زور پکڑتی گئی اور امن عامہ کی صورت حال خراب سے خراب تر ہوتی چلی گئی۔ نومبر 1968ء میں مخالف جماعتوں کے متحدہ محاذ نے ملک میں بحالی جمہوریت کی تحریک چلائی جس نے خوں ریز ہنگاموں کی شکل اختیار کر لی۔ مارچ 1969ء تک حکومت پر ایوب خان کی گرفت بہت کمزور ہو چکی تھی۔ 23 مارچ 1969ء کو یحیٰی خان نے ایوب خان کی حکومت کا تختہ الٹنے کی تیاریوں کو حتمی شکل دی اور کور کمانڈروں کو ضروری ہدایات دیں۔ 25 مارچ 1969ء کو ایوب خان نے قوم سے خطاب میں اقتدار سے الگ ہونے کا اعلان کر دیا جس کے بعد یحیٰی خان باقاعدہ مارشل لاء نافذ کرنے کا اعلان کر دیا اور اگلے سال عام انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا۔ 30 جون 1970ء کو سرحد اور بلوچستان کی صوبائی حیثیت بحال کر دی۔ سابق ریاست بہاول پور کو پنجاب میں اور کراچی کو سندھ میں شامل کر دیا گیا۔ اور سابق سرحدی ریاستوں سوات، دیر اور چترال کو ملا کر مالاکنڈ ایجینسی قائم کی گئی ۔ 7 ستمبر 1970ء کو قومی اسمبلی اور 17 دسمبر کو صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ہوئے۔ جنھیں ملکی و غیر ملکی مبصرین نے پاکستان کی تاریخ میں پہلے آزادانہ و منصفانہ انتخابات قرار دیا۔ 16 دسمبر 1971ء کو مشرقی پاکستان پر بھارتی افواج کے قبضے اور مغربی پاکستان کے محاذ پر پاکستانی افواج کی غیر تسلی بخش کارکردگی کی بنا پر ملک میں فوجی حکومت کے خلاف مظاہرے شروع ہو گئے۔ 20 دسمبر 1971ء کو جنرل یحیٰی نے اقتدار پیپلز پارٹی کے چیرمین ذوالفقار علی بھٹو کے حوالے کر دیا ۔ 8 جنوری 1972ء کو انھیں، عوامی غیظ و غضب سے بچانے کے لیے ، نظر بند کر دیا گیا۔ جولائی 1977ء میں ملک میں مارشل لاء کے نفاذ کے بعد خرابی صحت کی بنا پر رہا کر دیے گئے- یحییٰ خان کو بھاری شرابی کے طور پر جانا جاتا تھا شراب میں انکی ترجیح وہسکی تھی۔ دور حکومت میں یحییٰ خان کی قریبی دوست اور گھریلو ساتھی اکلیم اختر تھیں جنہیں جنرل رانی کے نام سے جانا جاتا تھا-

'یحییٰ خان' کی خبریں




'یحییٰ خان' سے متعلقہ کالم




یحییٰ خان سے متعلقہ تصاویر

کوئٹہ: ڈپٹی میئر محمد یونس بلوچ .. یحییٰ خان کی مزید تصاویر