Trump Ki Rozz Afzoo Trumpia - International - UrduPoint
UrduPoint

ٹرمپ کی روز افزوں ٹرمپیاں



Trump ki rozz afzoo trumpia


محسن فارانی
امریکی صدر ٹرمپ دھن کا پکا ہے ایک دنیا اس پر لعن طعن کرتی ہے مگر اس چکنے گھڑے پر کم ہی اثر ہوتا ہے حالیہ ڈیواس کانفرس میں15 منٹ تقریر کی اور تمام ممالک کو امریکی تعاون اور دوستی کی یقین دہانی کرائی ٹرمپ کے خطاب کے دوران شرکاءخاموش رہے لیکن بعد میں سوال جواب کے سیشن میں انہوں نے ٹرمپ کو غلیظ مطلبی شیطان اور جعلی کے القابات سے نوازا ٹرمپ نے ایک سال ملکی اور عالمی سطح پر اودھم مچا کر گزارلیا پاکستان کے خلاف اس کی ہفوات نے برصغیر میں ہلچل مچادی اس کے جسٹس سکینڈل دستیوں کی شکایت کناں ہیں قصر ابیض میں اپنے ایک سال کی تکمیل پر اس نے رپورٹروں کو کینٹ روم میں چلنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا سٹوڈیو میں واپسی پر خوش آمدید یہ اس کا لبھانے والا انداز تھا مگر بسا اوقات وہ برہم ہوکر اول فول اگلنے لگتا اس کی پالیسیاں بس ٹرمپیاں ہیں،
ٹوسن یونیورسٹی کے پروفیسر رچرڈ وانز کہتے ہیں ڈونلڈ کی روزمرہ گفتگو عہد جدید میں کسی صدر کے شایان شان نہیں وہ جا بیجا بھاشن دیتا رہتا ہے اور اس کو کوئی پروا نہیں ہوتی کہ اس کے منہ سے نکلنے والے الفاظ کیا نتائج لائیں گے اس کے گردہ پیش اہلکار بعد میں وضاحتیں پیش کرتے رہتے ہیں وہ خود کو بہت عبقری قرار دیتاہے جبکہ امریکی سینیٹرز سے امیگریشن پر گفتگو کرتے ہوئے افریقی ممالک کو Shitholes گندے سندے کہہ کر اظہار نفرت کرتا ہے صحافی اینڈریوبیٹی کے بقول کئی امریکی صدور میڈیا نا قدین کو بائی پاس کرنے کی کوشش کرتے رہے بارک اوباما کے یو ٹیوب انٹرویو کل کی بات ہیں لیکن ٹرمپ ٹویٹر کو یوں استعمال کرتا ہے جیسے اندھے کے ہاتھ بٹیر لگا ہو وہ سب سے زیادہ اپنی ریٹنگ اور میڈیا کوریج پر توجہ دیتا ہے۔

(خبر جاری ہے)


ٹرمپ کی کھوپڑی میں نسلی امتیاز کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے 1970 کی دہائی میں وہ اپنے باپ فریڈ ٹرمپ کے ساتھ تعمیراتی منصوبوں میں مصروف کار تھا اپریل1973 میں مین ہٹن نیو یارک میں110 منزلہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر مکمل ہوچکا تھا اور اس کا افتتاح صدر رچرڈ نکسن کے ہاتھوں عمل میں آیا تھا انہی دنوں ٹرمپ کمپنی کے خلاف سیاہ فارم کرایہ داروں کے حوالے سے نسلی مناظرات اور تعصب برتنے کے الزام میں مقدمہ دائر کیا گیا تھا باپ بیٹا نیویارک کی ایک بڑی قانونی فرم کے دفتر کے باہر پہنچے توانہیں مشورہ دیا گیا کہ عدالت سے باہر حکومت سے معاملہ طے کرلیں لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے مقدمہ لڑنے کی ٹھان لی اگلے روز وہ لی کلب نامی ڈسکو کلب گیا جہاں شہر کی دولت اور حسن گلتے ملتے ہیں وہیں ٹرمپ کی راکو ہن نامی وکیل سے ملاقات ہوئی وہ ایک پھڈے باز شخص تھا اس نے ٹرمپ کو حکومت کیخلاف ڈٹ جانے کی تلقین کی لی کلب کے ارکان میں 13 شہزادے13 راجکمار(کاﺅنٹ)4 نواب(بیرن)3 شہزادیاں اور 2 ڈیوک بھی تھے شروع میں لی کلب نے ڈونلڈ کو رکنیت دینے سے انکار کردیا تب اس تگڑم لڑائی او ر پھر اس شرط پر اسے رکنیت دی گئی کہ وہ کلب میں آنے والی شادی شدہ خواتین سے دور رہے گا گوریا غیر شادی حسیناﺅں سے عشق لڑانے پر کوئی پابندی نہ تھی ڈونلڈ ٹرمپ کے وکیل راکو کوہن نے عدالت کو گمراہ کرنے اور مقدمہ لٹکانے کے لیے ہر ہتھکنڈہ استعمال کیا لیکن وہ مقدمہ جیت نہ سکا عدالت کے حکم پر ٹرمپ کو اس امر کا اشتہار بھی دینا پڑا کہ ٹرمپ کمپنی کی ملکیت ہاﺅسنگ سکیموں میں جگہ حاصل کرنے کے لئے تمام لوگوں کو یکساں مواقع حقوق اور سہولتیں حاصل ہونگی اور رنگ و نسل کی بنیاد پر کسی سے امتیازی سلوک نہ ہوسکا ستمبر1976 میں ریاست میری لینڈ اور نیویارک میں پھر کمپنی پر نسلی امتیاز برتنے اور سیاہ فاموں کو مکان کرائے پرنہ دینے کے الزامات لگے اور راکو ہن تین سال محکمہ انصاف کے خلاف ٹرمپ کمپنی کی جنگ لڑتا رہا جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک ہزار ڈالر کے مچلکے پر ضمانت قبل ازگرفتاری کرانی پڑتی راکو ہن یہ مقدمہ بھی ہار گیا اس کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ اور راکو ہن کے یارانے میں دراڑ نہ پڑی کہ پھڈے بازی دونوں میں قدر مشترک تھی راکو ہن اب اس کا مشیر غیر اعلانیہ ترجمان اور رابطہ کار بھی تھا ڈونلڈ ٹرمپ کی فرمائش پر راکو ہن نے نیویارک ٹائمز میں ایک مضمون لکھاجس میں اس کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملادئیے اس مضمون نے نوجوان ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنی ترقی کے لیے میڈیا کو استعمال کرنے کا گُر سکھایا جسے برﺅے کار لاتے ہوئے نومبر 2016 میں صدارتی انتخابات جیت لیاوائٹ ہاﺅس قصر ابیض میں داخل ہوکر پھڈے باز ڈونلڈ ٹرمپ نے کئی محاذ کھول رکھے ہیں ایک طرف وہ ایران اور شمال کوریا کو دھمکیاں دیتا ہے دوسری طرف افغانستان کی طویل صلیبی جنگ میں امریکی ناکامی پر بھنا کر پاکستان کو دھمکانے لگتا ہے داخلی سطح پر اس نے پانچ چھ مسلم ممالک کے باشندوں پر سفری پابندیاں عائد کررکھی ہیں ادھر میری لینڈ اور واشنگٹن ڈی سی کے اٹارنی جنرلز نے صدر ٹرمپ پر آئین کی غیر معمولی خلاف ورزیوں اور کرپشن سے امریکی سیاسی نظام کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کے سنگین الزامات عائد کئے ہیں میری لینڈ کی وفاقی عدالت میں دائر کئے گئے مقدمے میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ نے برسر اقتدار آنے کے بعد غیر ملکی حکومتوں سے لاکھوں ڈالر اوردیگر مالی فوائدو تحائف وصول کئے جو انسداد عنوانی قوانین کی خلاف ورزی ہے نیز انہوں نے خود کو اپنے کاروباری اداروں کے مفادات سے بھی الگ نہیں کیا حالانکہ جنوری 2017 میں انہوں نے اپنا کاروبار اپنے بیٹوں کے سپرد کرنے کا وعدہ کیا تھا پروفیسر وانز کے بقول ٹرمپ کبھی معذرت نہیں کرتا اور اکھڑپن ان کا وتیرہ ہے شرق اوسط کے لیے سابق امریکی مذاکرات کار آرون ڈیوڈملر کہتے ہیں ہمارے اتحادیوں اور مخالفین کے سامنے سوال یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کتنے قابل اعتبار یا قابل اعتماد ہیں؟اینڈریو بیٹی کہتے ہیں بطور صدر ٹرمپ نے 180 مرتبہ Fake News جعلی خبر کے متعلق ٹویٹ کیا ہے اور کم و بیش 170 مرتبہ صرف فاکس نیوز کے متعلق جو اس کی تعریف کے پل باندھتا رہتا ہے چین کے شی پنگ جاپان کے شنزوابیے اور روس کے پوٹن جیسے عالمی رہنماﺅں نے ٹرمپ سے ملاقاتوں میں خوشامد کو بہترین سٹریٹجی پایا ہے برطانیہ سے ناروے تک کے لیڈر تعریف کے ڈونگرے برسانے وائٹ ہاﺅس آتے ہیں اور کبھی تو وہ ٹرمپ کے سامنے شکنجے میں کسے قیدی نظر آتے ہیں ایک حالیہ پول کے مطابق 69 فیصد ووٹروں کا خیال ہے کہ وہ دماغی طور پر صحت مند نہیں جبکہ 57 فیصد کے خیال میں وہ بحیثیت صدر خدمات انجام دینے کے لئے موزوں نہیں دریں اثناءوالٹر ریڈ ہسپتال نے ٹرمپ کے طبی معائنہ کی رپورٹ میں شاندار صحت کی سند دی ہے ٹرمپ کا تازہ کارنامہ یہود نوازی میں حد سے گزر کر بیت المقدس کو اسرائیلی دارلحکومت تسلیم کرتے ہوئے وہاں امریکی سفارتخانہ منتقل کرنے کا اعلان ہے المیہ یہ ہے کہ عالم اسلام خصوصاً عرب ممالک انتشار اور خانہ جنگیوں کا شکار ہیں ورنہ ٹرمپ ایسا قدم اٹھانے کی جرا¿ت نہ کرتا ٹرمپ کے اس اعلان نے اسرائیل کو فلسطین میں من مانی کرنے کی کھلی چھٹی دیدی ہے اور غرب اردن و غزوہ میں آزاد فلسطینی ریاست کا قیاناممکن دکھائی دینے لگا ہے لیکن فلسطینی مشرقی بیت المقدس سے دستبرداری کبھی قول نہیں کرینگے جہاں مسلمانوں کا قبلہ اول ہے دوہفتے پہلے ٹرمپ نے یہ کہا کہ امریکہ بیٹی ویسٹ انڈیز اور افریقی شِٹ ہول ممالک کے مزید تارکین وطن کو قبول کیوں کرے تو مختلف ملکوں میں شِٹ ہول کے مختلف ترجمے کئے گئے جاپان کے چینل کیوڈو نیوز نے ترجمہ کیا کیسوٹئیر فضلہ گراناNHK چینل کا ترجمہ تھا گندا چینی سنہوا نیوز ایجنسی فین کینگ گندے پانی کی بہودی تنزانیہ کا ایک اخبار مطیفہ چافو گندے ممالک کینیا کے ڈیلی نیشن نے انچی زاکینسی لکھا جو فضلے کے لیے مہذب لفظ ہے اخبار کے ایڈیٹر گلبرت نے لکھا کہ سواحلی میں زیادہ براہِ راست ترجمہ ہے مگر وہ چھپ نہیں سکتا۔