Waderoon K Liye Alag Qanoon - Khaas - UrduPoint
UrduPoint

وڈیروں کے لیے قانون الگ ؟



Waderoon K Liye Alag Qanoon

ہمارے ہاں دو طرح کے قوانین رائج ہیں ایک تو وہ قانون ہے جو قانون کی کتب میں ملتا ہے اس قانون کے تابع ریاست پاکستاش کا ہر شہر ی ہے ۔ دوسری جانب یہاں ایک اور قانون بھی نافذ ہے ۔یہ دوسرا قانون ہمیں کسی کتاب میں نہیں ملتا لیکن عملی طور پر ضرور نظر آتا ہے۔ بااثر افراد، سیاسی اشرافیہ، بیوروکریسی، وڈیروں اور سرداروں کا یہ قانون ریاست پاکستان کے قوانین کو بھی تسلیم نہیں کرتا۔ مثال کے طور پر پنجاب حکومت نے مرغابیوں کے شکار پر پابندی عائد کی تھی۔
عام عوام سے جو اس پابندی کی خلاف روز کرتا ہے۔ اسے نہ صرف گرفتار کر لیا جاتا ہے بلکہ بھاری جرمانہ اور قید کی سزا بھی ملتی ہے۔ دوسری جانب حالیہ سیزن میں لغاریوں اور سرداروں نے وزیراعلیٰ پنجاب کے احکامات کی نہ صرف دھجیاں اڑا دیں بلکہ ان کا سر عام مذاق بھی اُڑاتے رہے۔

(خبر جاری ہے)

ریاست اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کے سامنے بے بس نظر آئے۔رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2015 سے مارچ 2016 کے دوران مرغابی کے شکار کے سیزن میں 25 ہزار سے زائد مرغابیوں ماری گئیں۔

ان شوقیہ شکاریوں نے اپنی سینکڑوں مرغابیوں کے شکار کی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کردیں جس سے واضح طور پر یہ بات سامنے آگی کہ ان کے نزدیک قانون کی کتنی اہمیت ہے۔ المیہ یہ ہوا کہ اس کے باوجود ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہو سکی اور مرغابیاں بہرحال ایف آئی آر دج کروانے کے لیے پولیس سٹیشن نہیں جا سکتیں۔ رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب سے سیاسی مفادات کے لیے ملاقاتیں کرنے والے لغاریوں نے وزیر اعلیٰ سے تعلقات کو ڈیرہ غازی خان ڈویژن میں سینکڑو مرغابیوں کے غیر قانونی شکار کے لیے استعمال کیا اور پھر اس شکار کی تصاویر بلاخوف فیس بک پر لگا کر ”مرغابی کنگ“ کااعزاز حاصل کیا۔
یا د رہے کہ تونسہ بیراج خصوص تحفظ کا علاقہ ہے اور ملحقہ دریائے سندھ پر بھی چھٹی کے دن فی شکاری آٹھ تا دس مرغابیوں سے زیادہ شکار کی اجازت نہیں۔ اس قانون شکار سے قبل شکاریوں نے ستمبر میں ہی قانون کی دھجیاں اڑانا شروع کر دی تھیں جو تاحال جاری ہیں۔ اس بارے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بااثر شکاریوں کی جانب سے محکمہ جنگلی حیات کے افسروں واہلکاروں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دے کر چپ کروا دیا جات اہے جس کا نتیجہ ہزاروں مرغابیوں کے غیر قانونی شکار کی صورت سامنے آتاہے۔
جھنگ کے دریائی علاقے کو بھی مرغابیوں کے غیر قانونی شکار کے حوالے سے کافی ”شہرت“ حاصل ہے۔ اسی طرح پنڈی بھٹیاں اور حافظ آباد کے دریائی علاقے میں بھی 6ماہ سے ناجائز شکار تسلسل سے جاری ہے۔ یہی صورت حال قاد ر آباد گیم ریزرو کے علاقے میں بھی ہے۔ یہاں بھی رشوت اور سفارش کو خاصی اہمیت حاصل ہے۔ اہلکاروں کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ سرخاب ،مگھ اور مرغابیوں کا شکار اپنی حفاظت میں کرواتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ سرکار خود بھی ریاست میں دو الگ ”قوانین“ کی حوصلہ افزائی کرتی ہے؟ ایک وقت تھا جب مجرم جرم کو چھپانے کی کوشش کرتا تھا اب خود ہی سوشل میڈیاپر اس کی تشہیر کر کے ”کنگ “ کا لقب حاصل کرتا ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ ریاستی ادارے اور ریاست کا قانون ان ” ملزمان“ سے نظریں کیوں چرالیتے ہیں۔



مزید مضامین


مزید مضامین    -    پچھلے مضامین