Baldiyati Membraan Saarpa Ehtejaj - National - UrduPoint
UrduPoint

بلدیاتی ممبران سراپا احتجاج



Baldiyati Membraan Saarpa Ehtejaj

راجہ منیر خان :
گورنر اقبال ظفر جھگڑانے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ۔ یہ صوبہ کے پی کے کے 39 ویں گورنر ہیں۔ گورنر اقبال اعظم جھگڑا مسلم لیگ ن اور وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے مخلص ساتھیوں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ جنہوں نے ہر مشکل وقت میں پارٹی اور ورزاعظم میاں محمد نواز شریف کیساتھ کھڑے رہے اور پارٹی سے کبھی دغا بازی نہیں کی۔ گو کے عوام میں انکی مقبولیت نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ انہوں نے متعدد انتخابات میں حصہ لیا لیکن کبھی کامیابی نہیں ہوئے۔
بلکہ حالیہ بلدیاتی انتخابات میں وہ اپنی آبائی یونین کونسل سے بھی مسلم لیگی امیدوار کو کامیاب نہیں کر سکے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ گورنر کے عہدے پر رہ کر کیا عوام کے دلوں میں جگہ بناپائیں کے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گاکہ گورنر کے عہدے پر رہتے ہوئے وہ صوبہ کے پی کے اور فاٹا میں مسلم لیگی عہدیداروں اور ورکروں کو کتنا ٹائم دیتے ہیں اور عوام کے دلوں میں جگہ بنانے کے لیے وہ کیا کچھ کردار ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے بھی جس طرح مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت کے دلوں میں اپنی جگہ بنائی ہے کیا عوام کے دلوں میں بھی جگہ بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔

(خبر جاری ہے)

البتہ تقریب حلف برادری کی تقریب شدید بدنظمی کا شکار رہی۔ مسلم لیگی رہنما امیر مقام کا تقریب کو خراب کرنے میں اہم کردار نظر آیا کیونکہ وہ صوبے میں اپنے طور پر صوبہ کے پی کے اور فاٹا میں اپنے گروپ کے ساتھ سیاست کر رہے ہیں اور سستی شہرت کے لیے اپنے ساتھ لائے ہوئے کرائے کے کارکنوں سے اپنے حق میں نعرے لگا کر تقریب کو خراب کرتے ہیں اور یہی عمل انہوں نے گورنر کی حلف برادری کی تقریب میں دھرانا۔
چند نوجوان مسلسل نعرے لگا کر تقریب میں بدمزگی پیدا کرتے رہے۔ جس پر گورنر کے پی کے نے خود اٹھ کر خاموش کرنے کی اپیل کی۔ صوبہ خیبر پی کے کی صوبائی حکومت نے بلدیاتی ممبران کے احتجاج سے تنگ آکر ورکرکنونشن پشاور میں بلایا لیکن وہاں بھی احتجاج نے ان کا پیچھا نہ چھوڑا۔ بلدیاتی ممبران کنونشن میں ا پنے حقوق کے لئے نعرے لگاتے نظر آئے۔ کنونشن سے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان وزیراعلیٰ کے پی کے پرویز خٹک، امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے خطاب کیا۔
جس میں انہوں نے کہا کہ پاکستانی سیاست کہ کسی حکومت میں پہلی دفعہ ہو اہے کہ کسی حکومت نے اپنے اختیارات نچلی سطح پر منتقل کئے ہیں اور زیادہ اختیار ہم نے دئیے ہیں۔ ملک کے دیگر تین صوبوں سے بہتر بلدیاتی نظام صوبہ خیبر پی کے میں ہے۔ عمران خان کا کہنا تھا صوبے کے بلدیاتی نظام کا پوری دنیا اعتراف کرتی ہے۔ لیکن حال یہ ہے کہ صوبے کے پی کے میں ضلع ناظم نائب ناظم، تحصیل ناظم، نائب ناظم کے پاس کوئی اختیارات نہیں ہیں بلدیاتی ایکٹ میں انہوں جو اختیارات دئیے گے تھے اگر اس پر مکمل طور پر عملدآمد ہوتا تو یقینا اچھا نظام ہوتا۔
عوام سول بیورو کریسی سے نکل جاتے لیکن جب پاکستان تحریک انصاف کو بلدیاتی انتخابات میں مطلوبہ کامیابی نہیں مل سکی تو فوری طور پر بلدیاتی ایکٹ میں نئی نئی ترمیم لاکر انہیں عملی طور پر بے اختیار کرتے ہوئے بیورو کریسی کو پھر ان پاور کر دیا جس پر بلدیاتی ممبران پچھلے 7ماہ سے احتجاج کرتے نظر آرہے ہیں کبھی وہ وزیراعلیٰ ہاوس کبھی وہ چیئرمین تحریک انصاف کے گھر کے باہر لیکن ان احتجاج کے باوجود بھی ان کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے۔



متعلقہ عنوان

پشاور تحریک انصاف احتجاج بلدیاتی انتخابات

مزید مضامین


مزید مضامین    -    پچھلے مضامین


متعلقہ مضامین


مضامین و انٹرویوز کی اصناف