Hakomat K Khilaf Ehtejaji Tehreek - National - UrduPoint
UrduPoint

حکومت کیخلاف احتجاجی تحریک



Hakomat K Khilaf Ehtejaji Tehreek

ادیب جاودانی:
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے حکومتی رویے کیخلاف اور وزیراعظم کے احتساب کیلئے ہفتہ وار احتجاجی مارچ کا اعلان کردیا 7 اگست کو پشاور تا راولپنڈی احتجاجی مارچ ہوگا، چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ خیبر سے کراچی تک عوام کو متحرک کرکے وزیراعظم نواز شریف کو قانون کی تابعداری پر مجبور کر دینگے۔ بنی گالا میں گذشتہ روز تحریک انصاف کا مشاورتی اجلاس ہوا جس میں جہانگیر ترین ، شیریں مزاری، سیف اللہ نیازی، اسد قیصر، چوہدری سرور، نعیم بخاری سمیت دیگر رہنماوٴں نے شرکت کی۔
اجلاس سے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ کرپٹ اور بدعنوان سیاسی ٹولہ جمہوریت کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے پاکستان تاریخ کے اہم ترین دوراہے پرکھڑا ہے انہوں نے کہا کہ قوم کی امیدوں کا واحد مرکز تحریک انصاف ہے، 7 اگست سے پاکستان میں ایک نئی تاریخ کا آغاز ہوگا۔

(خبر جاری ہے)

تحریک انصاف سات اگست کو پشاور سے براستہ اٹک پنجاب میں داخل ہوگی ریلی کا مقصد عوام میں کرپشن کیخلاف شعور کی بیداری اور حکومت پر پاناما لیکس کی تحقیقات میں پہلے وزیراعظم نواز شریف اور انکے خاندان کا احتساب کرنے کیلئے دباوٴ بڑھانا ہے۔


دریں اثناء پاکستان عوامی تحریک نے حکومت کیخلاف سانحہ ماڈل ٹاوٴن پر 8 نکاتی مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا جس میں سانحہ ماڈل ٹاوٴن کے انصاف اور قصاص کی حمایت کیساتھ ساتھ پاناما لیکس کے حوالے سے وزیراعظم اور انکے خاندان سے تحقیقات کا آغاز کرنے کا مطالبہ شامل ہے۔ اعلامیہ میں پنجاب میں دہشتگردوں، انتہاء پسندوں، انکے سہولت کاروں اور جرائم پیشہ گروہوں کے خاتمے کیلئے فوج کی نگرانی میں آپریشن کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
پاناما لیکس کی تحقیقات کیلئے 6 اگست سے ملک گیر احتجاجی تحریک چلانے ا علان کر دیا گیا ہے۔ یہ اعلان سربراہ عوامی تحریک ڈاکٹر طاہر القادری نے اپوزیشن جماعتوں کے قومی مشاورتی اجلاس کے بعد کیا جسکی تمام جماعتوں نے تائید کی۔ وزیراطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ عمران خان نے حکومت مخالف تحریک کا اعلان بہت غلط وقت پر کیاوہ پہلی بار مٹھائی کھانے کے شوق میں چھوارے کھا کر ناکام واپس گئے اور اب کی بار بھی ایسا ہی ہوگااسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پرویز رشید نے کہا کہ عمران خان نے حکومت مخالف تحریک کا اعلان بہت غلط وقت پر کیا اگست آزادی کا مہینہ ہے خان صاحب آزادی کی تقریبات میں انتشار پھیلانا چاہتے ہیں۔

قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ عمران خان نے حکومت مخالف تحریک پر اپنی پارٹی کے اہم رہنماوٴں سمیت ہمیں بھی نظر انداز کیا اس لئے وہ اس بار بھی 2014ء کی تحریک کی طرح ناکام ہوں گے۔ پارلیمنٹ ہاوٴس میں اپنے چیمبر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے حکومت مخالف تحریک چلا نے کے اعلان سے پہلے کسی اپوزیشن جماعت کو اعتماد میں نہیں لیا اور مجھے یقین ہے کہ انہوں نے اپنی پارٹی کے اہم رہنماوٴں شاہ محمود قریشی سمیت دیگر کو بھی نظر انداز کیا ہے اسلئے عمران خان کی 2014ء کی تحریک بھی اسی وجہ سے ناکام ہوئی تھی اور اس بار بھی انہیں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑیگا۔
وطن عزیز جن مشکلات میں گھرا ہوا ہے ان سے نمٹنے کیلئے اسکے سوا کوئی راستہ نہیں کہ حکومت اور اپوزیشن مل کر چلیں اور متنازعہ معاملات باہمی بات چیت کے ذریعے طے کریں۔ جمہوری ملکوں میں سیاستدانوں نے ہی قومی امور نمٹانے ہوتے ہیں۔ ماضی میں نگران حکومت الیکشن کمیشن جوڈیشل کمیشن اور دہشتگردی کے خاتمے کیلئے نیشنل ایکشن پلان سمیت کئی معاملات آپس کی مشاورت سے ہی متفقہ طور پر طے کئے گئے اس لئے کوئی وجہ نہیں کہ حکومت اور اپوزیشن کے با اختیار نمائندے مل بیٹھ کر موجودہ مسائل خاص طور پر پانامہ لیکس کے ٹی او آرز کا معاملہ خوش اسلوبی سے حل نہ کرسکیں۔
وزیراعظم کے لہجے سے پتہ چلتا ہے کہ ان مسائل پر وہ لچکدار رویہ رکھتے ہیں اسی لئے انہوں نے اسحاق ڈار کو نئے سرے سے اپوزیشن سے رابطے کی ہدایت کی ہے اپوزیشن کو بھی قومی مفاد میں کسی بات کو انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیئے ۔ فریقین جب صاف دل و دماغ سے مذاکرات کی میز پر بیٹھیں گے تو ٹی او آرز کے مسئلے کا متفقہ حل نکل آئیگا اور دوسرے معاملات پر بھی اتفاق رائے کی راہ ہموار ہو جائیگی۔ موجودہ حالات میں مفاہمت ہی مسائل کے حل کا درست راستہ ہے۔
عمران خان نے 2013ء کے انتخابات کے بعد سے آج تک دھرنوں اور جلسوں کی جو سیاست جاری رکھی ہوئی ہے اس کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ شریف برادران اور مسلم لیگ کی وفاقی اور صوبائی حکومتیں جو کچھ کریں وہ سب غلط ہے اور انکے ہر اقدام کیخلاف لوگوں کو سڑکوں پر لانا ضروری ہے۔ عمران خان کے اس موقف سے اب تک ملک میں خیر کا کوئی پہلو سامنے نہیں آیا، بلکہ انکے ایک سو چھبیس دنوں کے اسلام آباد دھرنے کا قومی معیشت کو شدید نقصان ضرور پہنچا۔
البتہ یہ پوچھنا ہر پاکستانی شہری کا حق ہے کہ اتنے سرمائے سے کتنے گھروں کے چولہے کب تک جل سکتے تھے۔ اس سے زیادہ کچھ کہنا فضول ہے کہ عمران خان شدید مایوسی کا شکار ہیں اور اپنی انا کی تسکین کیلئے وہ ملک کی دولت اور نوجوان نسل کا وقت ضائع کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور اب اپنی تیسری شادی کی تیاری میں بھی لگے ہوئے ہیں اور انہوں نے اب بہت جلد جلسوں اور جلوسوں میں کوئی دلہن ڈھونڈ نکالنی ہے۔



متعلقہ عنوان

کراچی عمران خان پشاور تحریک انصاف وزیراعظم

مزید مضامین


مزید مضامین    -    پچھلے مضامین


متعلقہ مضامین


مضامین و انٹرویوز کی اصناف