NA 120 Siyasi Halqoo Ki Twajo Ka Markz - political - UrduPoint
UrduPoint

این اے 120 سیاسی حلقوں کی توجہ کا مرکز



NA 120 Siyasi Halqoo Ki  Twajo Ka Markz

رمضان اصغر:
حلقہ این اے 120 میں گھمسان کا رن پڑسکتا ہے لیکن حقیقت کچھ یوں ہے کہ 1985ء سے ہی یہ حلقہ مسلم لیگ ن کا گڑھ رہا ہے ، نواز شریف کا اس حلقے سے پرانا تعلق ہے ۔ حتیٰ کہ شریف خاندان کا پرانا گھر اور کارخانے بھی اسی حلقہ میں ہیں۔ اس حلقے کے چند علاقوں کے دورے کے دوران یہ واضح محسوس ہوا کہ لوگوں میں اس فیصلے کے خلاف سخت اضطراب پایا جارہا ہے اور لوگ خاصے سیخ پا ہیں۔ ٹکسالی، اسلام پورہ، ناصر باغ،موہنی روڈ، ہال روڈ، میو اسپتال اور کوپر روڈ سے گزرتے ہوئے متعدد جگہوں پر میاں دے نعرے وجن گے، شیر ساڈا اوے ہی اوے اور اسی طرح کے جوشیلے نعرے سنائی دیے۔
2013 میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں حلقے کی ہر گلی سے واقف ہوں، شاید ہی ایسا کوئی خاندان ہو جس کو میں نے نوکری اور فنڈ نہ دیا ہو۔

(خبر جاری ہے)

ان لوگوں سے میرا 35 سالہ پرانا تعلق ہے۔ این اے 120 کی کوئی ایک بھی بڑی برادری ایسی نہیں ہے جس کو میں ذاتی طور پر نہ جانتا ہوں لیکن تحریک انصاف یہاں سے پچاس ہزار ووٹ لینے میں کامیاب ہوگئی۔ عام انتخابات کے بعد پارٹی رہنماؤں نے حلقے کا تفصیلی جائزہ لیا تو سامنے آیا کہ آپس کے اختلافات اور نااتفاقی نے پی ٹی آئی کے امیدوار کی نوازشریف کے مقابلے میں 50 ہزار ووٹ حاصل کرنے کی راہ ہموار کی تھی۔

حالانکہ اس میں کوئی دو رائے ہیں ہے کہ نواز شریف کا اس حلقے میں بہت مضبوط حلقہ احباب ہے۔ بدترین حالات میں بھی نواز شریف کے لئے اس حلقے سے سیٹ نکالنا عام سی بات ہے۔ اگر کہا جائے کہ یہ حلقہ مسلم لیگ ن کا لاڑکانہ ہے تو غلط نہیں ہوگا۔ مگر پانامہ کے فیصلے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تحریک انصاف بھی بھرپور انتخابی مہم چلا رہی ہے۔ 2013 میں تحریک انصاف نے ڈاکٹر یاسمین راشد کو اپنا امیدوار نامزد کیا ہے،2013 ء کے انتخابات میں انہوں نے 52 ہزار 354ووٹ حاصل کئے جبکہ نواز شریف نے 91 ہزار 683 ووٹوں سے کامیابی حاصل کی ،پی پی پی کے زبیر کارادر نے 2605 جبکہ جماعت اسلامی کے حافظ سلمان بٹ نے953 ووٹ حاصل کیے تھے۔
2008ء کے انتخابات میں بیگم کلثوم نواز کے قریبی عزیز بلال یاسین نے 65 ہزار 946 ووٹوں سے پیپلز پارٹی کے جہانگیر بدر کو شکست دی، جہانگیر بدر صرف 24 ہزار ووٹ حاصل کر سکے۔ 2002ء میں جب پرویز مشرف دور میں بھی ن لیگ کے پرویز ملک نے پی پی پی کے الطاف قریشی کے مقابلے میں 33 ہزار 741 ووٹ سے کامیابی حاصل کی ․1990ء میں نواز شریف نے پی ڈی اے کے امیدوار بزرگ سیاست دان ائیر مارشل اصغر خان کو مات دی۔ این اے 120 میں بلدیاتی پوزیشن دیکھی جائے تو 99 فیصد مسلم لیگ ن کے امیدوار جیتے ہیں،جبکہ اس کی حدود میں دونوں صوبائی حلقے بھی ن لیگ کے پاس ہیں۔
کلثوم نواز اپنی بیماری کے باعث ملک سے باہر ہیں۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز اپنی والدہ کی انتخابی مہم بڑے زور وشور سے چلارہی ہیں۔ اس سلسلے میں لوگوں سے رابطے کررہی ہیں اور مختلف کنونشن ، ریلیوں سے خطاب کررہی ہیں۔ پورے حلقے میں بینروں کی بھرمار ہے۔ شام ہوتے ہی مختلف سیاسی دفتروں کی رونق بڑھ جاتی ہے اور لوگ اپنی پارٹی کو جتوانے کے لیے جوڑ توڑ شروع کردیتے ہیں۔ جیسے جیسے 17 ستمبر کا دن قریب آرہا ہے لوگوں کا جوش وخروش بڑھ رہا ہے۔
مریم نواز جو روزانہ کی بنیاد پر اس حلقے میں ریلی نکال رہی ہے انکی ریلی کے ساتھ نوجوانوں کا جم غفیر ہوتا ہے۔ ایم ایس ایف کے نوجوان بڑی تعداد مین سنی پرنس اور وسیم قریشی کی قیادت میں شرکت کرتے ہیں ۔صدر ایم ایس ایف سنی کا کہنا ہے کہ کلثوم نواز ہماری ماں اور مریم نواز ہماری بہن ہے۔ میں اور ایم ایس ایف کے نواجوان ہر موقع پر اپنی ماں بہن کے ساتھ ہیں۔ الیکشن والا دن میاں نواز شریف کا ہے۔ یہ حلقہ ن لیگ کا گڑھ ہے اور اس حلقے کا ہر گھر نواز شریف کاگھر ہے۔
نواجوان ایم ایس ایف لیڈر وسیم قریشی کاکہنا تھا کہ ہم نے ہمیشہ مشکل وقت میں اپنی جماعت کا ساتھ دیا ہے ۔ ہمارا یہ پہلا الیکشن نہیں اور نہ ہم اس کام میں نئے ہیں۔ ہم اس انتخاب کو ضرور جیتے گے۔ ہم مریم نواز کی قیادت میں دن رات کام کر رہے ہیں ۔ این اے 120 ضمنی انتخاب نواز شریف کی بیٹی مریم نواز کا پہلا ضمنی انتخاب ہے۔ اس سے پہلے 19 ضمنی انتخابات ہوئے ہیں۔ جن کی براہ راست نگرانی وزیراعلیٰ پنجاب کے بیٹے حمزہ شہباز شریف کرتے رہے ہیں۔
ان دنوں وہ لندن میں ہیں۔ مریم نواز این اے 120 کی انتخابی مہم کی براہ راست نگرانی کررہی ہیں ۔ مگر موجودہ حالات میں کسی ایک شخص ے لئے انتخابی مہم چلانا ممکن نہیں ہے۔ این اے 120 کا ضمنی الیکشن مسلم لیگ ن کے لئے فائنل کا درجہ رکھتا ہے۔ ماضی میں ایک ضمنی انتخاب کے علاوہ سارے انتخابات میں کامیابی حاصل کر چکی ہے۔ مگر این اے 120 کے نتائج 2018کے انتخابات کا فیصلہ کریں گے۔ مسلم لیگ ن کے لئے اس حلقے سے جیتنا ٹارگٹ نہیں ہونا چاہیے ، بلکہ بڑے مارجن سے جیتنا اصل فتح ہوگی۔
اگر مسلم لیگ ن نے 10 سے 15 ہزار کے مارجن سے کامیابی حاصل کی تو یہ نواز شریف کے لئے اچھی خبر نہیں ہوگی ۔ کم از کم2013 کی برتری برقراررکھنا لازم ہے۔ آج مریم نواز دن رات حلقے میں انتخابی مہم چلارہی ہیں۔ مگر حلقے کی سیاست کے کچھ موزواوقاف کافی پچیدہ ہوتے ہیں۔ جن کی سمجھ جوجھ کئی انتخابات کے بعد آتی ہے۔ ووٹر لسٹوں کی ترتیب،انتخابات کے روز اپنے ووٹرز کو باہر نکالنا، دوسرے شہروں میں مقیم اپنے ووٹرز کو بلانا، انتخابی نتائج اکھٹے کرنا سمیت بہت سے معاملات کو دیکھنا ہوتا ہے۔
تحریک انصاف کو پوری قیادت نے 120 میں ڈیرے لگائے ہوئے ہیں۔ تحریک انصاف کا ٹارگٹ مسلم لیگ ن کو ہرانا نہیں ہے بلکہ ان کا ٹارگٹ مسلم لیگ ن سے کم مارجن سے ہارنا ہے۔ اگر ایسا ہواتو اس کے دورس نتائج بہت خوفناک ہونگے۔ باقی رہی لیڈر شپ کی بات تو مسلم لیگ ن یں کسی کو بھی اس معاملے پر تنقید نہیں کرنی۔ ووٹ بنک نواز شریف کا ہے اور مسلم لیگ کے لئے لیڈر بھی نواز شریف ہی ہیں