PPP Ka 49 Youm E Tasees - Political - UrduPoint
UrduPoint

پاکستان پیپلز پارٹی کا 49 واں یوم تاسیس



PPP Ka 49 Youm e Tasees

چودھری منور انجم:
برصغیر کی آزادی اور برطانوی استعمار سے نجات حاصل کرنے کے علاوہ ایک آزاد، مختار اور اسلامی نظریاتی ریاست کے قیام کیلئے برصغیر کے مسلمانوں نے بابائے قوم حضرت قائداعظم کی قیادت میںآ ل انڈیا مسلم لیگ کے پرچم تلے جو جدوجہد کی اسکے نتیجے میں پاکستان کا قیام عمل میں آیا۔ قیام پاکستان کے بعد ملک میں کئی سیاسی و مذہبی جماعتوں نے بھی جنم لیا۔ اگرچہ قیام پاکستان سے پہلے بھی برصغیر میں مسلم لیگ کے علاوہ بھی کئی مذہبی و سیاسی جماعتیں موجود تھیں لیکن حصول آزادی کیلئے کی جانیوالی جدوجہد میں آل انڈیا مسلم لیگ کا کردار ہی سب سے نمایاں تھا۔
قیام پاکستان کے بعد پیدا ہونیوالے سیاسی انتشار نے بھی کئی سیاسی جماعتوں کو جنم دیا لیکن ہر جماعت کے اغراض و مقاصد نہ صرف محدود تھے بلکہ وہ مکمل طور پر عوامی مفادات سے بھی مطابقت نہ رکھتے تھے۔

(خبر جاری ہے)

اس پس منظر میں یہ اعزاز صرف پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو شہید کو حاصل تھا کہ انہوں نے دور ایوبی میں ملکی مفادات کے منافی بعض اقدامات خاص طور پر معاہدہ تاشقند میں ایوب خاں کی پالیسی اور مسئلہ کشمیر کے پائیدا حل کیلئے قومی موقف سے انحراف کے بعد نہ صرف حکمران جماعت سے علیحدگی اور وزارت خارجہ کے منصب سے الگ ہونے کا اعلان کیا بلکہ ملک کی سب سے بڑی اور مقبول عوامی سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی بھی بنیاد رکھی۔

اس طرح 30 نومبر 1967ء کو لاہور میں ایک اجتماع کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کا قیام عمل میں آیا۔ پارٹی کے منشور میں عوام کے مفادات کو جو بنیادی اہمیت دی گئی تھی اس کی بنیاد پر یہ جماعت ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت بن کر ابھری اور انتخاب میں کامیابی کے حوالے سے یہ جملہ ہر شخص کی زبان پر تھا کہ بھٹو اگر بجلی کے کھمبوں کو بھی ٹکٹ دیدیں تو وہ بھی انتخاب میں اپنے حریف امیدوار کو شکست دیکر کامیابی سے ہمکنار ہوگا۔
اس سے بڑی کسی سیاسی جماعت کی مقبولیت اور کیا ہوسکتی ہے۔ چنانچہ اسی بنیاد پر دسمبر 71ء کے المیے کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی نے اقتدار سنبھالا اور اپنے دور اقتدار میں وہ کارنامے سرانجام دئیے جن کی پہلے سے کوئی مثال نہ تھی۔ انکے انقلابی اقدامات نے ملک کی تعمیر و ترقی کی رفتار تیز تر کردی اور بیرونی ممالک میں سب سے زیادہ افرادی قوت بھٹو شہید کے دور میں ہی برآمد کی گئی جس سے پاکستان نے زرمبادلہ کمانے کی زبردست صلاحیت حاصل کی۔
سب سے زیادہ پاکستانیوں نے سعودی عرب اوردوسرے عرب ممالک میں روزگار کے مواقع حاصل کئے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو شہید نے پارٹی منشور پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کا اہتمام کر کے پارٹی اور اپنی ذاتی سیاسی مقبولیت میں بھی زبردست اضافہ کیا۔ انہوں نے عوام سے روٹی کپڑا اور مکان کا وعدہ پورا کرنے کیلئے جو اقدامات کئے وہ ہماری قومی سیاسی تاریخ کا حصہ ہیں اورانہیں کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔
بھٹو دور میں ملک کی بڑی بڑی صنعتوں، بنکوں اور مالیاتی اداروں کے علاوہ تعلیمی اداروں کو بھی قومی تحویل میں لے لیا گیا اگرچہ ملک کے سرمایہ دار اور جاگیر دار طبقے نے اس کی مخالفت کی لیکن عوام کی بھاری اکثریت نے پارٹی کا ساتھ دیا کیونکہ اس پالیسی کا مقصد دولت کی مساویانہ تقسیم کی راہ ہموار کرنا تھا چنانچہ اس پالیسی کی بدولت نہ صرف دولت کا ارتکاز ختم ہوا بلکہ ملک میں روزگار کے مواقع میں بھی زبردست اضافہ ہوا ہے بے روزگاری میں کمی آئی اور عوام کی مالی مشکلات بھی کم سے کم ہوتی چلی گئیں۔
ان اداروں کے ملازمین کو ملازمت کا تحفظ حاصل ہوا اور وہ پوری دلجمعی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دینے لگے۔ تعلیم کا معیار بلند ہوا۔ جناب بھٹو کا دوسرا بڑا کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے اس سرزمین بے آئین کو پہلا اسلامی آئین دیا جس کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں نے مکمل تائید و حمایت کی یہاں تک کہ بعض آزاد خیال اور سوشلزم پر یقین رکھنے والی سیاسی جماعتوں کے قائدین اورارکان اسمبلی نے آئین کی مکمل حمایت کی اور اس آئین کی رو سے پہلی مرتبہ اسلامی نظریاتی ریاست کے تقاضوں کو پورا کیا گیا۔
بھٹو صاحب نے عالم اسلام کے اتحاد کو فروغ دینے کیلئے پاکستان میں اسلامی کانفرنس کی تنظیم کا پہلا اجلاس لاہورمیں طلب کر کے تمام آزاد اسلامی ملکوں کے قائدین کو اس میں شرکت کی دعوت دی اور ان کی دعوت پر تمام اسلامی ممالک کے سربراہ کانفرنس میں شریک ہوئے جس سے عالمی سطح پر عالم اسلام کے درمیان اتحاد و یکجہتی کو فروغ حاصل ہوا اور مسلمان ممالک کے درمیان خوشگوار تعلقات کو بھی فروغ ملا خاص طور پر تمام اسلامی ملکوں سے پاکستان کے تجارتی، ثقافتی، سفارتی تعلقات میں بھی زبردست اضافہ ہوا۔
عالمی برادری میں بھی پاکستان کے وقار میں اضافہ ہواغرض زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہ تھا جس میں بھٹو شہید نے انقلابی اقدامات کے ذریعے عوام کا مقدر بدلنے کی کوشش نہ کی ہو۔ ذولفقار علی بھٹو شہید کا مشن آج بھی پی پی پی جاری رکھے ہوئے ہے چنانچہ بے سہارا اور غریب خاندانوں کو جن کی تعداد 70 لاکھ سے زیادہ ہے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت امداد فراہم کی جارہی ہے۔ یہ اعزاز بھی پاکستان پیپلز پارٹی کو حاصل ہے کہ اس نے تاریخ میں پہلی مرتبہ اتنی بڑی تعداد میں بے سہارا اور غریب خاندانوں کو ایک خاص پروگرام کے تحت مالی امداد فراہم کر کے انہیں زندہ رہنے کا حوصلہ بخشا ہے۔
سابقہ صدر زرداری ملک میں مفاہمت اور مصالحت کی فضا پیدا کرنے اور تمام ملکی جماعتوں کے رہنماؤں سے مسلسل رابطے میں رہتے ہیں ۔ غرض پاکستان پیپلز پارٹی عوام کی ترقی، خوشحالی فلاح و بہبود اور ملکی سلامتی کیلئے پوری طرح سرگرم عمل ہے جو اسکے کردار کا ایک مستقل حصہ ہے ار یہی کردار اسکی سیاسی مقبولیت میں اضافے کا باعث ہے۔ آج ان کا بیٹا چیئرمین بلاول بھٹو زرداری محترمہ کی دی ہوئی تربیت کا نمونہ ہے۔ وہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی تصویر ہے۔ انہوں نے ثابت کیا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کا نواسہ اور محترمہ بے نظیر بھٹو کا بیٹا ان کی صحیح وراثت کا حقدار ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی لیڈر شپ میں متحد ہو کر ملک کی ترقی کیلئے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔ ہم پارٹی کے اندر اور باہر ان لوگوں کا ڈٹ کر مقابلہ بھی کرینگے جو پارٹی کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔



متعلقہ عنوان

پاکستان بھارت پیپلز پارٹی قائداعظم

مزید مضامین


مزید مضامین    -    پچھلے مضامین


متعلقہ مضامین


مضامین و انٹرویوز کی اصناف