Alme Islam Ki Ithadi Fojj Kaha hy - Special Articles - UrduPoint
UrduPoint

عالم اسلام کی اتحادی فوج کہاں ہے؟



Alme Islam Ki Ithadi Fojj Kaha hy

رحمت خان وردگ:
کتنی حیرت کی بات ہے کہ دنیا کہ کسی دورافتادہ گوشے میں اگر کسی غیر مسلم کی نکیر بھی پھوٹ جائے تو انسانی حقوق کی علمبردار اور ٹھیکیدار نام نہاد تنظیمیں آسمان سر پر اٹھا لیتی ہیں۔ جبکہ مسلمانوں پر ظلم وستم کے پہاڑ بھی ٹوٹ جائیں تو یہ نام نہاد تنظیمیں ٹس سے مس تک نہیں ہوتیں۔ عالم اسلام میں عید الضحیٰ کی ادائیگی کے دوران تقریباََ پانچ کروڑ جانور قربان ہوئے، اس کے برعکس ایک طرف عالم السلام کی ایک قوم برما میں جونوروں کی طرح قربان ہورہی ہے اور انسانی حقوق کی علمبردار اور ٹھیکیدار تنظیمیں جہاں غیر مسلم کی نکیر کا شوشہ اچھالتی ہیں وہ تو بہت دور کی بات ہے چونکہ روہنگیا میں ذبح کئے گئے مسلمان ہیں۔
میانمار میں بدھ مت وحشی درندوں کا روپ دھار کر مسلمانوں پر ظلم وتشدد کررہے ہیں کیا مسلمان انسان نہیں کہلاتے؟۔

(خبر جاری ہے)

برما میں سرکاری فوج اور انتہا پسند بدھ مت کے پیرو کار جن کے مذہب ہے لیکن میانمار میں یہ بدھ مت وحشی درندوں کا روپ دھار کر مسلمانوں پر ظلم وتشدد کررہے ہیں۔ روہنگیا مسلمانوں کی آبادی پر نظر دوڑائی جائے تو نصف صدی قبل 4 ملین آبادی کو قتل عام اور دباؤ کی پالیسیوں کی مدد سے تقریباََ ایک تہائی تک گرادیا گیا ہے اور عالم اسلام کی خاموشی ایک الگ المیہ ہے۔

سولہویں صدی سے آباد روہنگیا مسلمان جن کی کئی نسلیں یہاں پروان چڑھیں لیکن اس کے باوجود ان کو میانمار کی شہریت سے محروم رکھا جارہا ہے کوکھلی زیادتی ہے۔ عالمی اداروں نے اگرچہ اس بات کو تسلیم کرتو لیا ہے کہ میانمار میں مسلمانوں کو چن چن کر ختم کرنے کا سلسلہ بلاتسلسل جاری وساری ہے۔ افسوس کا مقام ہے کہ عالمی برادری کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی سب سے زیادہ افسوس اور دکھ کی بات یہ ہے کہ اسلامی ممالک کو مظلوم روہنگیا کے مسلمان بھائیوں کی فلگ شگاف چیخیں سنائی نہیں دے رہیں اور مسلمان حکمران اپنے اقتدار کے نشے میں دھت ہیں۔
حالیہ دنوں میں روہنگیا کے مسلمانوں کے 600 کے قریب گھروں اور جھونپڑیوں کو آگ لگا کر ان مسلمانوں کو زندہ جلادیا گیا جو بچ گئے ان کے جسموں کو کاٹ کر پھینک دیا گیا جن کی تعداد ہزاروں میں بتائی جاتی ہے۔ اتنا سب کچھ ہوگیا مگر افسوس انسانی ہمدردیوں کی سب سے بڑی عدالت اقوام متحدہ نے بھی اس معاملے پر کبھی کوئی خاص توجہ نہیں دی۔ اس وقت ایک بہت بڑی قوت اس مسئلے میں اپنا کردار اداکر سکتی ہے اور وہ ہے چین کیونکہ چین بھی مہاتما بدھ کے پیروکاروں کا ملک ہے اور چین کی حکومت اور عوام پاکستان کے ساتھ بہت لگاؤ رکھتے ہیں پاکستان چین کو اس بات پر آمادہ کرے کہ وہ برما کی صدر آنگ سان سوچی سے حکومتی سطح پر اور بدھ مت کے دہشت گردوں کو مذہبی سطح پر سمجھانے کی کوشش کرے کہ وہ ان روہنگیا کے مسلمانوں کی آبروریزی اور قتل وغارت گری کو بند کرے۔
اس سلسلے میں اب ترکی نے ہی بین الاقوامی سطح پر میانمار کے لئے آواز کو بلند وبالا کیا ہے۔ ترک صدر ایردوان نے میانمار کے حکام کو للکار کر یہ تنبیہ کی ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام پر دنیا خاموش رہے تو بھی ترکی خاموش نہیں رہے گا۔ ترکی نے بنگلہ دیش کو کہا ہے کہ روہنگیا کے مسلمانوں کو اپنے ملک میں پناہ دے اس کے تمام اخراجات ترکی حکومت برداشت کرے گی۔ ترکی کی طرح پاکستان سمیت تمام اسلامی ممالک کو چاہیے کہ وہ روہنگیا کے مسلمانوں کے لئے اپنے اپنے ممالک میں خیمے لگائے تاکہ روہنگیا کے مسلمانوں کی جانی و مالی مدد کی جاسکے۔
عالم اسلام کی اتحادی فوج جو سعودی عریبیہ ، پاکستان اور کئی مسلم ممالک پر مشتمل ہے ، وہ اتحادی فوج کیا مسلمانوں کے حقوق کیلئے تشکیل دی گئی ہے یا پھر کسی اور کے کہنے پر حرکت میں لانے کیلئے؟ اتحادی فوج کا مقصد ہے کہ اسلامی ممالک کا ہر ممکن تحفظ کرنا اور ہر محاذ پر اسلامی ممالک کا دفاع کرنا۔ روہنگیا کے مسلمان چیخ وپکار میں اپنے مسلمانوں کو مدد کیلئے پکار رہے ہیں اور ترکی نے ان کی پکار پر لبیک کہا ہے اسی طرح پاکستان کو بھی روہنگیا کے مسلمانوں کی مدد کیلئے فوج کو بھیجنا چاہیے اور اس مسئلے کو عالمی طور پر اچھالنا چاہیے اور روہنگیا کے مسلمانوں کی ہر طرح سے جانی اور مالی مدد کرنا چاہیے۔
کیونکہ روہنگیا مسلمانوں کی جان بوجھ کر نسل کشی کی جارہی ہے۔ 20 ہزار مظلوم ، مجبور اور بے بس انسانوں کے دیہات اور گھروں کو نذرآتش کردیا جا چکا ہے۔ اور مسلسل تشدد کا نسانہ بنایا جارہا ہے۔ یہ لوگ در بدر ہوکر بنگلہ دیش کو رخ کررہے ہیں سینکڑوں روہنگیا مسلمانوں کو قتل کیا جارہا ہے اور یہ سب کچھ انسانیت کی نگاہوں کے سامنے ہو رہا ہے لیکن افسوس کہ انسانیت اس کے مقابل خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
پاکستان کو چاہیے کہ روہنگیا کے مسلمانوں کی مدد کیلئے انسانی حقوق کے تحفظ کی ملکی تنظیمیں اور مجاہدین کو وہاں مدد کیلئے روانہ کرے اورہوسکے تو پاکستان فوراََ روہنگیا کے مسلانوں کے لئے آواز بلند کرے اور ترکی کے ساتھ مل کر فوری حل تلاش کرے کیونکہ اسلامی ممالک مل کر ہی اس مسئلے کا حل نکال سکتے ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ کفر مسلسل اتحاد بنارہا ہے اور اپنی ناجائز دولت کو مسلم ممالک کے سربراہوں میں بانٹ کر انہیں ایک دوسرے کا دشمن بنا رہا ہے اس وقت مسلمانوں کو بکھیر دیا گیا ہے ان کو لالچ،بھوک اور پیسہ بنانے کے پیچھے لگا کر بے حس بنایا جارہا ہے مگر یہ بے دین لوگ اس بات کو بھول رہے ہیں وہ مسلمانوں کے ساتھ ہی نہیں بلکہ اپنے ہر ایک عمل سے اپنے ساتھ پوری دنیا کیلئے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔



متعلقہ عنوان

فوج


متعلقہ مضامین


مضامین و انٹرویوز کی اصناف