Mulk Bhar Main Moonsoon Mausam Ka Aghaz - Special Articles - UrduPoint
UrduPoint

ملک بھر میں مون سون موسم کا آغاز



Mulk Bhar Main Moonsoon Mausam Ka Aghaz

خالد یزدانی:
محکمہ موسمیات نے اس سال پاکستان میں معمول سے زیادہ بارشوں کی پیش گوئی کی ہے اور حالیہ دنوں میں مون سون کے موسم کی آمد کے ساتھ ہی ملک بھر میں طوفانی بارشوں نے نظام زندگی مفلوج کرکے رکھ دیا ،خیبر تا مہران شدید گرم موسم کے بعد مون سون کا جیسے ہی آغاز ہوا ہر طرف جل تھل ہوگئی جبکہ لوگوں نے بارشوں کی آمد کا خیر مقدم کیا کہ شدید گرمی سے نجات ملی مگر اس کا ایک المناک پہلو یہ بھی سامنے آیا کہ ملک کے کئی شہروں کے نشیبی علاقے پانی میں ڈوب گئے ،درجنوں مکانات گرنے سے متعدد افراد ہلاک و زخمی ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں ان بارشوں سے نظام زندگی مفلوج ہوکر رہ گیا شدید بارشوں کی وجہ سے نہ صرف آمدورفت کا نظام بری طرح متاثر ہوا بلکہ جہاں جہاں بارشیں ہوئیں وہاں وہاں بجلی کے فیڈرز بھی ٹرپ ہونے لگے جس سے کاروبار زندگی بھہ بری طرح متاثر ہوا۔

(خبر جاری ہے)

ملک بھر میں بارشوں کا یہ سلسلہ اب بھی وقفے وقفے سے جاری ہے۔ کبھی لاہور میں تو کبھی پشاور میں موسلادھار بارش ہورہی ہے۔ دیکھا جائے تو سندھ، خیبر پختونخواہ اور پنجاب میں مون سون کے آغاز سے ہی اگرچہ گرمی کے بعد حبس بڑھا مگر بارشوں کے سلسلے نے اسے ختم کردیا اگر صوبوں کی انتظامیہ بروقت انتظامات کرلے تو ہر سال بارشوں کی وجہ سے عوام کو جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس میں کمی آسکتی ہے۔
پنجاب میں شدید بارشوں کی وجہ سے وزیراعلیٰ پنجاب نے ہدایت کی ہے کہ ممکنہ سیلاب کے پیش نظر تمام متعلقہ وفاقی و صوبائی ادارے ہمہ وقت چوکس رہیں اور صوبائی و وفاقی محکمے آپس میں قریبی رابطہ رکھ کر کام کریں۔
ضروری مشینری و آلات مکمل فنکشنل ہونے چاہئیں۔ صوبائی، ڈویڑن اور اضلاع کی سطح پر فلڈ ایمرجنسی کنٹرول رومز 24 گھنٹے فنکشنل رکھے جائیں۔ بارش کی صورت میں شہری علاقوں سے نکاسی آب کے حوالے سے انتظامات میں کوتاہی برداشت نہیں ہوگی۔ شدید بارشوں کے باعث ہونیوالے مختلف حادثات میں جاں بحق ہونیوالے افراد کے لواحقین کے لئے مالی امداد میں اضافے کی منظوری دیتے ہوئے وزیر اعلی پنجاب نے کہا کہ جاں بحق افراد کے ورثاء کی مالی امداد 5 لاکھ روپے سے بڑھا کر 8 لاکھ روپے کردی گئی ہے جبکہ حادثات میں زخمی ہونیوالے افراد کیلئے بھی مالی امداد میں اضافہ کردیا گیا ہے۔
جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنا ہیلی کاپٹر صوبائی کابینہ برائے فلڈ کے اراکین کے دوروں اور پنجاب حکومت کا ہیلی کاپٹر استعمال کرسکیں گے۔ وزیراعلیٰ نے ان اقدامات کی منظوری ایک طویل ویڈیو کانفرنس کے دوران دی تھی۔ جس میں مون سون اور ممکنہ سیلاب کے پیش نظر کئے جانیوالے حفاظتی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا تھا۔ وزیراعلیٰ نے خطا ب میں کہا کہ دریاؤں اور نالوں میں پانی کی صورتحال کو 24 گھنٹے مانیٹر کیا جائے۔
محکمہ موسمیات اگر مگر سے کام نہ چلائے بلکہ جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے موسم کے بارے میں مستند معلومات فراہم کرے۔انھوں نے محکمہ موسمیات کیلئے بروقت راڈار نہ خریدنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برس واضح ہدایات کے باوجود فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونا انتہائی افسوسناک ہے۔موجودہ بارشوں کے سلسلے کو دیکھا جائے تو بالائی علاقوں میں ہونے والی حالیہ بارشوں کی وجہ سے دریائے چناب کے پانی کی سطح میں اضافہ ہوگیا اور ہیڈ مرالہ کے مقام پر دریائے چناب کا پانی بڑھ گیا ہے ،محکمہ ایری گیشن کے مطابق پانی مسلسل بڑھ رہا ہے‘ لیکن خطرے کی کوئی بات نہیں ہے۔
سی پیک منصوبے میں شامل خضدار سے گزرنے والی اہم قومی شاہراہ ایم 8 سیلابی ریلے میں بہہ گئی۔ گوادر ٹو رتوڈیرو شاہراہ سی پیک کا حصہ ہے۔ این ایچ اے افسران کی مجرمانہ غفلت اور لاڈلے ٹھیکیداروں پر دست شفقت نے اس بین الاقوامی منصوبے کو ناکام بنا دیا۔ ڈپٹی کمشنر خضدار کی جانب سے فوری طور پر سیلاب متاثرین کو امداد کی فراہمی کے لئے بروقت ٹیمیں روانہ کرتے ہوئے سیلاب میں پھنسے افراد کو ریسکیو کیا گیا اور انہیں امداد دی گئی۔
بھلونک میں سیلابی پانی آنے سے آمدورفت معطل ہوگئی تھی جس کی وجہ سے وہاں بڑی تعداد میں لوگ پھنس گئے تھے۔ حب ڈیم میں پانی کی سطح بلند ہونا شروع ہوگئی ہے۔ دریائے چناب میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافے کے پیش نظر صورتحال کو مانیٹر کرنے کیلئے مختلف سرکاری محکموں کی ڈیوٹیاں لگا دی گئیں۔ دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد 82 ہزار 4 کیوسک اور اخراج 55 ہزار 470 کیوسک ہے۔ اسی طرح ہیڈ خانکی کے مقام پر پانی کی آمد 68 ہزار 880 کیوسک اور اخراج 57 ہزار 9 سو کیوسک ہے، ہیڈ قادر آباد کے مقام پر پانی کی آمد 62 ہزار 5 کیوسک اور اخراج 52ہزار 9 سو کیوسک ہے۔
بارشوں کا یہ ساسلہ اب بھی وقفے وقفے سے جاری ہے اور صو بوں کی انتظامیہ اس حوالے سے مناسب اقدامات بھی کر رہی ہے تاکہ عوام کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ،کیعنکہ اگر بارشوں کا یہ ساسلہ بڑھا تو دریاوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہوکر مسائل پیدا کر سکتی ہے جسے مناسب اقدامات کرکے اس پر قابو پایا جاسکتا ہے۔



متعلقہ عنوان

پاکستان موسم گرمی

مزید مضامین


مزید مضامین    -    پچھلے مضامین


متعلقہ مضامین


مضامین و انٹرویوز کی اصناف