NAB Ny Ahtesab Ka Amal Waseeh Kr Diya - Special Articles - UrduPoint
UrduPoint

نیب نے احتساب کا عمل وسیع کردیا



NAB ny ahtesab ka amal waseeh kr diya

سید شعیب الدین
پاکستان میں آئین بننے کے بعد ملک میں وفاقی سرکاری افسران اور اداروں کی کرپشن کو پکڑنے کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارہ بھی بن گیا لیکن بدقسمتی سے دیگر سرکاری اداروں کی طرح یہ ادارہ بھی اپنے اردگرد کے ماحول سے الگ نہ رہ سکا اور وہی کام کرنے لگا جو دیگر ادارے کررہے تھے کرپٹ افسران کی سرپرستی بحالت مجبوری کاروائی کرنا پڑجائے تو ایک بے حد کمزور کیس ہوتا ہے تاکہ رہائی بھی یقینی بنائی جاسکے ایف آئی اے افسران کو راتوں رات امیر بننے کا ایک دھندا امیگریشن برانچ کی شکل میں ملا پاکستان سے جعلی دستاویزات پر جانے والے مسافروں سے بھرے جہاز یورپ امریکہ کینیڈا بھجوائے جاتے رہے ان تمام ممالک میں جہاں جہاں پاکستانی امیگریشن کی ہاتھ کی صفائی کا سراغ لگتا رہا وہاں پاکستانیوں کا داخلہ مشکل ہوتا گیا اور پھر نائن الیون کے بعد پاکستانیوں کی چیکنگ سخت کرنے کے لیے غیر ملکی معاونت سے کمپیوٹر سسٹم تمام ائیر پورٹوں پر لگایا گیا ایف آئی اے کی بدنامی صرف بیرون ملک نہیں اندرون ملک بھی اس قدر بڑھی کہ پہلے میاں نواز شریف نے ایف آئی اے کو قلیل ڈالنے کے لئے اپنت قریبی ساتھی سیف الرحمن کی سربراہی میں احتساب سیل بناڈالا سیف الرحمن کو احتساب الرحمان کا نام دیا گیا اور پھر باکمال احتساب کے منظر دیکھنے کو ملے ایف آئی اے کے 36 اختیارات میں سے نصف اس سے چھین کر اسے بے بس بنانے کی پوری کوشش کی گئی12 اکتوبر1999 کو جنرل پرویز مشرف کا مارشل لاءآیا تو احتساب کا نیا ادارہ نیب بن گیا،بیوروکریسی خصوصاً ڈی ایم جی والے پریشان ہیں کہ ان کا کہنا ہے کہ بھائی لاکھ پتی سے کروڑ پتی اور کروڑ پتی سے ارب پتی بننے کا سفر طے کرتے وقت سوچا تھا کہ حساب دینا ہے نہیں تو اب حساب دینا ہوگا جسٹس جاوید اقبال نے بیک وقت بہت سے کیس کھول کر کافی محاذوں پر جنگ شروع کردی چنانچہ اب طاقتوروں سے بچنے کے لیے رینجر کاتحفظ حاصل کیا جارہا ہے پانامہ کیس کہاں سے شروع ہوا؟نیب پر مسلم لیگ(ن) کیخلاف مہم چلانے کے الزامات کی بوچھاڑ ہوگئی حالانکہ اسی نیب کے چئیرمین قمر الزمان چودھری نے پانامہ کیس دبانے کی ہر ممکن کوشش کی تھی نیب کا قمر الزمان چودھری کا دور یقینا سیاہ دور کہا جائے گا جسٹس جاوید اقبال نے صرف سیاستدانوں کے احتساب کی گالی سے بچنے کے لئے احتساب کا دائرہ بڑھادیا انہوں نے جہاں بارہ میڈیکل کالجوں کے الحاق میں بدعنوانی کے الزام میں وفاقی وزیر سائرہ افضل تارڑ اور پاکستان میڈیکل ڈینٹل کونسل کے صدر کیخلاف انکوائری شروع کردی وہیں ریلوے میں کرپشن کے الزام میں لیفٹیننٹ جنرل(ر) سعید الظفر میجر جنرل(ر) حسن بٹ جی ایم ریلوے اقبال محمد خان جی ایم ائیر بس خورشید احمد خان ممبر فنانس بریگیڈئر(ر)اختر علی بیگ ڈائریکٹر عبدالغفار رمضان شیخ ڈائریکٹر حسن کنسٹرکشن وہ دیگر کیخلاف قومی خزانے کو دو ارب کے نقصان کو پوچھ گچھ شروع کرنے کی اجازت دی ہے سابق چئیرمین واپڈا طارق حمید ممبر پاور انور خالد ممبر واٹر واپڈا محمد مشتاق ممبر فنانس امتیاز انجم اور دیگر کیخلاف ریفرنس دائر کرنے کی منظوری ہوچکی ہے جنہوں نے عام قوانین کیخلاف ورزی کرکے من پسند کمیٹی کو ٹھیکہ دے کر اربوں کا نقصان پہنچایا سی ڈی اے کے سابق چئیر مین فرخند اقبال سابق ممبر سٹیٹ خالد محمود مرزا جاوید جہانگیر دیگر کیخلاف تحقیقات کی منظوری ان کا جرم تجارتی پلاٹ کوڑیوں کے دام دینا بتایا گیاجس سے صرف پچاس کروڑ کا نقصان ہوا سندھ سمال انڈسٹریز میں غیر قانونی تقرریوں الاٹمنٹوں کے الزام میں سابق وزیر عبدالروف صدیقی عادل صدیقی ثروف فہیم مشتاق علی غفاری،محمود احمد غلام نبی مہر عبدالغنی دھارہ،امداد علی شاہ،امید علی شاہ دیگر کیخلاف انکوائری کا حکم جاری ہوچکا ہے پشاور ترقیاتی ادارہ کے سابق ڈی جی صاحبزادہ سعید احمد سید طاہر شاہ سریر احمد سابق جی ایم محمد طارق عبدالعلیم دیگر کیخلاف انکوائریز ناظم پشاور کے خلاف انکوائری وزیر صحت بلوچستان کے خلاف انکوائری سمیت دیگر بڑے بڑے کیس کھول دیتے ہیں جس کی ایک مثال وفاقی وزیر ریاض پیرزادہ اور ان کے ماتحت محکمے سپورٹس بورڈ کے ڈائریکٹر اختر گنجرا کیخلاف بھی انکوائری شروع ہوچکی ہے پنجاب میں افسران پر ہاتھ ڈالنے کا آغاز ہوتے ہی شور مچ گیا لاہور ویسٹ مینیجمنٹ کمیٹی کے سربراہ بلال مصطفی سید دو مرتبہ حاضری دینے میں ناکامی کے بعد بیماری کی رخصت بھجواچکے ہیں جبکہ سابق ڈی جی ایل ڈی اے احمد چیمہ کو نیب نے بیرون ملک فرار ہونے سے روکنے کے لیے گرفتار کرلیا احمد چیمہ پنجاب کے ان افسران میں شامل ہیں جو میاں شہباز شریف کے اس قدر قریب ہیں کہ چیف سیکرٹری بھی اگر کسی میٹنگ میں احد چیمہ بول رہے ہوں تو مداخلت سے گریز کرتے ہیں احمد چیمہ کی گرفتاری پنجاب میں بیوروکریسی کے لیے اس قدر ڈراﺅنی ثابت ہوئی ہے کہ دوسروں کو ہڑتال سے روکنے کے ذمہ دار ڈی ایم جی افسر اپنے دفتروں کو تالے لگا کر نیب عدم تعاون کا کھلا پیغام دے رہے ہیں ان افسران کو بخوبی علم ہے کہ احد چیمہ کی گرفتاری آخری نہیں بلکہ یہ تو اس بارش کا پہلا قطرہ ہے جو ابھی برسے گی کہا جارہا ہے کہ اس قدر دھواں دھار ہوگی کہ تمام چہیتے خوف کے مارے فرار کا راستہ ڈھونڈ رہے ہیں مگر جائے فرار میسر نہیں ہے پنجاب حکومت بولنے نہیں دیتی نیب کہتی ہے کہ منہ کھولو ایک بے حد مشکل امتحان کا سامنا ہے ان افسران کو جو سفید پوشی سے ارب پتی بننے کا سفر چند برسوں کی نوکری میں پورا کرچکے ہیں ان افسران کے صرف پاکستان نہیں بیرون ملک اثاثے موجود ہے جنہیں بچانے کے لئے یہ افسران کسی بھی حد تک جانے کے لئے تیار ہیں مسلم لیگ(ن) کے لئے مشکلات ہیں کہ بڑھتی جارہی ہیں اور مملک کے اداروں کیخلاف مسلم لیگ(ن) کے بڑوں کی زبان کی تلخی بڑھتی جارہی ہے میاں نواز شریف کو نظر آرہا ہے کہ ان کے طویل دور اقتدار کا خاتمہ ہونے جارہا ہے ان کے پاس اپنے بیرون ملک اثاثوں کی جائز ملکیت ثابت کرنے کے لیے ثبوت موجود نہیں ہیں عدالت کو ثبوت مانگنے ڈیڑھ سال سے زیادہ ہوچکا ہے اور عدالت جانے کا فیصلہ خود سابق وزیر اعظم کا تھا اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں جُگ گئیں کھیت وہی عدلیہ جس نے ماضی میں میاں نواز شریف کا بھرپور ساتھ دیا اب قانون کی بات کررہی ہے میاں نواز شریف دوسری مرتبہ نااہل ہونے پر اس قدر سیخ پاہیں کہ ان کا کہنا ہے کہ ان کا نام بھی ان سے چھین لیا جائے نام ان کا تو ان سے کوئی نہیں چھین سکتا مگر ان کی پارٹی اب ان کے نام سے منسوب نہیں رہے گی پارٹی کا نیا نام مسلم لیگ(م) یعنی مریم نواز ہوگا یا مسلم لیگ(ش)شہباز شریف ہوگا یہ بیحد اہم فیصلہ ہے پارٹی کا نیا سربراہ بنانا کس قدر مشکل ہورہا ہے اس کا کوئی میاں شہباز شریف سے پوچھے وہ بھائی جس نے اپنی ساری عمر ان کے اقتدار کو دام بخشنے میں صرف کردی جو اپنی تمام تر بیماریوں کے باوجود بڑے بھائی کے اقتدار کو بچانے کے لیے اپنا سب کچھ گنوانے پر بھی تیار رہتا ہے اب اسے کچھ دینے کا وقت آیا ہے تو فیصلوں میں تاخیر شکوک شبہات پیدا کررہی ہے میاں شہباز شریف کو پارٹی کا صدر بنانے کا اعلان کرکے فیصلہ واپس لے لیا گیا تھا جس کا جواز شہباز شریف کی مضبوط گرفت کمزور ہونے کا خدشہ تھا مگر اب جبکہ میاں نواز شریف بطور صدر پارٹی واپس ممکن نہیں میاں شہباز شریف کو مسلم لیگ کی صدارت نہ ملنے یقینا ان سے ناانصافی کہلائے گی میاں نواز شریف کے لیے مشکل فیصلوں کا وقت ہے اور مشکل فیصلوں کے لیے بڑا دل اور بڑا حوصلہ ضروری ہوتا ہے پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری مختصر دورے پر لاہور آتے تھے انہوں نے اس مختصر قیام میں میڈیا سے ملاقات اور ان کے سوالات کا جواب بھی دیا بلاول بھٹو زرداری نے واضح الفاظ میں نواز شریف کو مخاطب کرکے کہا کہ حساب تو دینا ہوگا اور30 برس کا دینا ہوگا ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو احتساب کی عادت نہیں ہے احتساب سے بچنے کے لئے وہ عدلیہ اور پارلیمنٹ میں محاذ آرائی چاہتے ہیں بلاول بھٹو اور ان کے والد آصف زرداری اب کھل کر مسلم لیگ(ن)تیر برسا رہے ہیں آصف زرداری شاید پچھتا رہے ہیں کہ مفاہمت کی سیاست کرکے نہ صرف پارٹی گنوائی ورکر گنوائے اور پنجاب بھی جو وفاق تک پہنچنے کی سیڑھی ہے ہاتھ سے گیا آصف زرداری جیسا دور اندیش اس کوتاہی کا شاید کبھی خود ہی جواب دے ہوگا۔




مزید مضامین