pasand Na Pasand k Faisly Pakistan ki Badnami - Special Articles - UrduPoint
UrduPoint

پسندنا پسند کے فیصلے پاکستان کی بدنامی اور شرمندگی کا باعث



pasand Na Pasand k Faisly Pakistan ki Badnami

امیر محمد خان:
گزشہ کم از کم دس سال سے جدہ میں پاکستانی سکولوں کو درپیش مسائل یہاں پاکستانی کمیونٹی کیلئے ایک مسئلہ بنے ہوئے ہیں، یہ مسائل کسی اور کے پیدا کردہ نہیں بلکہ خود ہمارے اور خاص طور پر یہاں موجود پاکستانی سفارتکاروں کی ” اہلیت“ (نااہلیت لکھنا بری بات ہے) کی وجہ سے ہیں نیز سکولوں سے جسے میں سفارتکاروں کی سرپرستی کی بناء پر اساتذہ میں گروہ بندی ہے جسے کبھی ختم کرنے کی کوشش نہیں کی گئی بلکہ ایسے اقدامات کئے گئے کہ اسے مزید تقویت حاصل ہو،اور یہ صورتحال آج تک ہے ۔
یہاں کی مقامی عدالتیں اسکول کے اساتذہ کے روزانہ کے مقدمات سے بخوبی آگاہ ہوچکی ہیں اسی حوالے سے ایک مرتبہ مجھے بھی ایک مقدمہ کے سلسلے میں عدالت جانا پڑاتو دیکھا کہ عدالت کے قاضی پاکستانی اسکول کے نام سے اپنے کانوں کو ہاتھ لگا رہے تھے جس سے کم از کم مجھے شرمندگی محسوس ہوئی کہ ہم یہاں روزگار کے لئے آئے ہیں مگر اپنے مسائل کو ہم ایماندرانہ طور پر کسی مصلحت یا مفادات سے بالاتر ہوکر حل نہیں کرسکتے، اسکولوں کو تباہی کے دہانے پر لارہے ہیں بلکہ پاکستان کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں، بجائے اسکے کہ قابلیت اور سنسیارٹی کے مطابق اساتذہ کو ان کا مقام دیا جائے، سینئر اساتذہ کو دھمکیاں ، انہیں جھوٹے الزامات کے تحت مقامی جیلوں میں بند کرانا، کوشش کرنا کہ وہ سعودی عرب سے ہی چلے جائیں یہ ہمارے افسران کی روش رہی ہے ۔

(خبر جاری ہے)

اس پر کمال یہ کہ ان افسران کے افسران بالا جھوٹی کہانیوں کو سن کر اس پر من وعن یقین کرتے ہوئے انکے آلہ کار بنے رہے۔ جدہ میں دو اسکول ہیں،ان میں ایک اردو سیکشن کہلاتا ہے جبکہ دوسرا انگریزی سیکشن ہے، اردو سیکشن تو حال سے بے حال ہے جس کا تذکرہ کرتا ہوں، دوسرے انگریزی اسکول جسکے متعلق کمیونٹی کہتی ہے کہ سابق پرنسپل سحر کا مران جو سیاست میں جانے اور مالی معاملات میں شکائتوں کی بنا پر اسکول سے فارغ ہوگئیں وہ اسوقت پی پی پی کی سینٹر ہیں اقامہ ہمارے دیگر سیاسی رہنماؤں کی طرح سعودی عرب کا بھی ہے، ان کے دور میں اسکول کا تعلیمی نظام بہت بہتر تھا اور انتظامی طور پر بھی بہتر تھا، نئے پرنسپل سنیا ہے تعلیم یافتہ ہیں مگر دوسال گزرنے کے بعد بھی ان سے ملاقات نہ ہوسکی سنا ہے ملا قات کیلئے پیشگی وقت لینا پڑتا ہے، نیز چونکہ اسکول کی تقریبات میں وہ صرف من پسند افراد کو بلاتے ہیں اسلئے نہ ملاقات ہوئی اور نہ اسکول میں ان کی آمد کے بعد بہتری کی کوئی خبر مل سکی۔
کمیونٹی کی زبانی بہت سی باتیں معلوم ہوتی ہیں مگر کہاں تک سچ ہیں پتہ نہیں اسلئے ان کے معاملات کوفی الحال قلم بند نہیں کررہا۔ یہاں ایک اسکول میں تقریباََ سات ہزار بچے اور دوسرے اسکول میں تقریباََ چار ہزار بچے زیر تعلیم ہیں۔ سات ہزار بچوں کے اسکول کا جو حشر ہے وہ کچھ اسطرح ہے کہ ایک پرنسپل اساتذہ سے مقدمہ بازی کے نتیجے میں عدالتی فیصلے سے قبل ہی قونصلیٹ کی مرضی سے راتوں رات اپنے تمام تر واجبات جو لاکھ ریال سے زائد تھے لیکر مستقبل پاکستان روانہ ہوگئے انہیں خوف ہوچلا تھا کہ اساتذہ کوغیر قانونی برطرف کرنے کی وجہ سے عدالت انہیں کوڑون اور سزا کا حکم دے گی، دوسرے آنے والے پرنسپل کے ساتھ یہ ہوا انہیں قائم مقام بنایاگیا مگر عدالتی معاملات میں قونصلیت اور سفیر پاکستان نے انہیں منع کردیا کہ یہ آپکے ذاتی مقدمات ہیں خود ہی وکلاء پر پیسے خرچ کریں اور مقدمہ لڑیں۔
وہ بھی اپنے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے پاکستان روانہ ہوگئے ، اسکے بعد مقدمات کی ایک طویل تاریخ ہے، جس میں قونصلیت نے کوئی اصلاح کا پہلو ادا نہیں کیا بلکہ معاملات حل کرنے کے بجائے برطرف اساتذہ اور انکے وکیل جو سعودی ہیں ان پر یہ الزام لگاتے ہوئے کہ وہ ہندوستانی ہے پاکستانی اسکول کو خراب کررہا ہے کسی بھی موقع پر متاثر اساتذہ جو اپنی تعلیم اور تجربے میں سینئر ہیں سے بات کرنا مناسب نہ سمجھی اور کوشش جاری رکھی کہ کسی طرح انہیں سعودی عرب سے نکال یا نکلوایا جائے۔
وہ اساتذہ کے وکیل بغیر فیس کے مقدمہ لڑرہے ہیں جبکہ دوسری جانب سے اسکول کا جمع شدہ فنڈ اسکول انتظامیہ قونصلیٹ کے ایماء پر لاکھوں ریال کی ادائیگی کے بھی ہیں جن پر ماضی قریب کے قائم مقام پر نسپل کے دستخط ہیں ، وہ بھی عدالت میں جھوٹ بولتے رہے کہ کاغذات پر دستخط ہیں ، وہ بھی عدالت میں جھوٹ بولتے رہے کہ کا غذات پر دستخط انکے نہیں ہے، مگر عدالتی تحقیق نے یہ بات ثابت کردی کہ دستخط انہیں کے ہیں۔
وہ بھی راتوں رات پاکستان سدھار گئے اور عدالت سے فیصلہ رقم لینے والوں کے حق میں ہوا اب وہ رقم بھی اسکول کے فنڈز سے جائے گی، آخر الذکر قائم مقام پرنسپل (جناب بلال) کی پاکستان روانگی کے بعد اسکول کی بد انتظامی کا یہ حال ہے کہ چوبیس گھنٹے میں دو پرنسپل مقرر کئے گئے، سعودی وزارت تعلیم کے قانون کی رو سے یہاں والدین کمیٹی ہوتی ہے جسے انتظامی اختیارات ہوتے ہیں، پاکستان قونصلیٹ اور سفارت خانہ اپنی مرضی کیلئے اسے استعمال کرتا ہے ۔
یہ کمیٹی صرف اسی پاکستانی اسکول میں ہے جبکہ دوسرا پاکستان اسکول عرف عام میں انگریزی اسکول کی ایسی کمیٹی کوئی نہیں،ا سکول، ”پیا“ کو (قونصلیٹ)کو پیارا ہے اسلئے وہاں کمیٹی کوئی نہیں نہ ہی کوئی اسے پوچھتا ہے ، سعودی وزارت تعلیم کے قوانین کی رو سے یہ غیر قانونی بات لگتی ہے مگر جب تک کوئی شکائت نہ کرے وہ بھی توجہ نہیں دیتے۔ دفتری فائل پر کرنے کیلئے اسکول کے اندر ہی سے اپنے لوگوں کی کمیٹی بن جاتی ہے۔
عزیر یہ اسکول میں فنڈز کی ہمیشہ کمی رہتی ہے ایک طرف لاکھوں ریال کے قانونی اخراجات خواہ مخواہ ہے دوسری جانب پاکستان کے قومی دنوں پر ان اسکولوں کو مجبور کیا جاتا ہے کہ سفارت کاروں کی جانب سے اخبارات میں اشتہارات دیئے جائیں تاکہ خصوصی ضمیہ شائع ہوسکے، سکول کی کہانیاں ان صفحات پر پہلے بھی شائع ہوچکی ہیں مگر ہمارے کرتا دھرتا لوگوں کی توجہ اسطرف دلائی جائے تو وہ کہہ دیتے ہیں”اسکول ہمارے دائر ہ اختیارات میں نہیں“ اب اگر پاکستان میں کسی حکومتی عہدیدار کو اللہ توفیق دے اور دلچسپی دے تو شائد وہ پوچھ لے کہ اسکولوں کے فنڈز کا کیا مصرف ہے ؟؟ جو ایک سنگین مسئلہ ہے، نیز توتعلیمی معاملات کیسے ٹھیک ہونگے، اسکولوں سے وابستہ تقریباََ آٹھ ہزار خاندان اپنے بچوں کی تعلیم سے کیسے مطمئن ہونگے؟؟ ہماری نوکر شاہی اگر کسی معاملے کو حل کرنا چاہے تو اسکے لئے بہت آسانیاں ہوتی ہیں۔
ایک مرتبہ سابق وزیراعظم کو اسکول کے معاملات پر یہاں کمیونٹی نے بریف کیا انہوں نے فوری تحقیقات کا حکم دیا،ایک جواب نے وزیراعظم کو مطمئن کردیا جواب تھا”سر اسکول ہمارے دائرہ اختیار میں نہیں یہ سعودی وزارت تعلیم کے زیر نگرانی وزیر انتظام ہے“ اس بیان کے بعد نہ ہی وزیراعظم کو توفیق ہوئی کہ مزید تحقیق کرائیں، دراصل تحقیق کرنے والے رپورٹ بنانے والے خرابیوں کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔



متعلقہ عنوان

پاکستان

مزید مضامین


مزید مضامین    -    پچھلے مضامین


متعلقہ مضامین


مضامین و انٹرویوز کی اصناف