سانحہ پشاور، خوف کو حوصلے میں بدلا جائے

بدھ دسمبر    |    ڈاکٹر اویس فاروقی

سانحہ پشاور کوئی آنکھ ایسی نہیں جو خون کے آنسو روئی نہ ہو اور کوئی دل ایسا نہیں جو درد سے تڑپا نہ ہو ایک سو چالیس کے قریب بچوں کے خواب ہی مسمار نہیں کئے گئے ان کے خاندانوں کا زندگی پر سے اعتبار تک اٹھا دیا گیا ، جس دن اس ملک کے کسی پہلے سکول پر حملہ ہوا تھا یا کہیں خود کش دھماکہ تو اسی دن اگر اس جنگ کو اپنی جنگ سمجھ کر ساری قوم متفق ہو جاتی تو آج اتنے معصوم بچوں کی جانوں کی قربانی نہ دینی پڑتی 13 سال کے عرصے میں 70 ہزار سے زیادہ شہری دہشت گردی کے واقعات میں شہید ہو گئے اور یہ جنگ ہماری جنگ نہ بنی مگر بچوں کی شہادت نے ساری سیاسی قیادت کو اکٹھا کر دیا اور آج یہ جنگ ہماری اپنی جنگ اور اس کے خلاف متحد ہو کر لڑنے کا عزم ہمیں یہ سبق بھی دیتا ہے کہ دہشت گردی کو ختم کرنا ہے تو اس کی جڑوں کو ختم کرنا ہو گا۔

(خبر جاری ہے)

پاکستان کی اعلیٰ سیاسی قیادت کا یہ اعلان کہ وہ اچھے اور برے طالبان میں تفریق نہیں کریں گے۔ میاں نواز شریف نے یہ بات ملک کی ساری قابل زکر سیاسی قیادت کے درمیان بیٹھ کر کی اور کہا کہ دہشت گردی کی یہ جنگ آخری دہشت گرد کے مرنے تک جاری رہے گی وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ ’اجلاس اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف یہ جنگ ہماری جنگ ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے ایک موٴثر اور قومی جذبات کا آئینہ دار لائحہ عمل تیار کرکے اس پر فوری عمل درآمد کیا جائے۔
‘وزیرِ اعظم نواز شریف نے کہا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ پشاور میں برپا کیا جانے والا انسانی المیہ، فرار ہوتے ہوئے دہشت گردوں کی ایک اور بزدلانہ کارروائی ہے جس سے ہمارے قومی عزم اور ولولے میں کوئی دراڑ نہیں ڈالی جا سکے گی۔‘وزیراعظم نواز شریف کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہم اس بات کا بھی واضح اعلان کرتے ہیں کہ اچھے اور برے طالبان کی کوئی تمیز کسی سطح پر روا نہیں رکھی جائے گی جب تک ایک بھی دہشت گرد باقی ہے یہ جنگ جاری رہے گی۔
‘ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سرحدوں کے اندر موجود دہشت گردوں سے کس طرح نمٹا جائے اس کا پلان جلد عوام کے سامنے آجائے گا۔ جہاں سیاسی تجزیہ نگاروں کے نزدیک وزیر اعظم کی زیر صدارت اجلاس میں کئے جانے والے فیصلوں کو خوش آئند قرار دیا جارہا ہے تو وہاں دوسری جانب عوام الناس کی ایک کثیر تعداد کا یہ بھی کہنا ہے کہ پورے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندون کے اس اجلاس کے بعد بھی کیا کمیٹی بنانے کی ضرورت رہ جاتی ہے جبکہ کسی معاملے کو موخر کرنا ہو تو کمیٹیاں بنا دی جاتی ہیں ،ہم سمجھتے ہیں اس بار شائد ایسا نہیں ہو گا کیونکہ جتنا بڑا یہ دکھ ہے اس کی تکلیف اور درد بھی اتنا ہی بڑا ہے دہشت گردوں نے پوری قوم کے خلاف جرم کا ارتکاب کیا ہے جس کی سزا انہیں ملنی چاہے جبکہ دوسری جانب فوج کے زیرِ انتظام چلنے والے 128 سکولوں میں 150000 طلبا تعلیم حاصل کرتے ہیں اور ان میں 90 فیصد بچے فوج کے حاضر سروس اہلکاروں کے ہی ہوتے ہیں۔
اس حملے نے لڑائی کو فوج کے گھر تک اپنی پوری ہولناکی کے ساتھ پہنچایا ہے۔
اب اس لڑائی کو اپنے منطقی انجام تک پہنچنا ہے ۔اب ابھی اگر ایسا نہ ہوا تو اس ملک کے در و دیوار خون سے رنگے نظر آئیں گے لیکن یہاں حکومت اور فوج کو اس بات کو بھی مد نظر رکھنا ہو گا کہ دہشت گرد صرف وہی نہیں ہیں جو نہتے شہریوں پر حملے کرتے ہیں بلکہ دہشت گرد وہ بھی ہیں جو شہریوں کے درمیان رہ کر دہشت گردوں کو مدد فراہم کرتے ہیں ۔
پوری قوم ،حکومت اور فوج کو وقت اب اس مقام پر لے آیا کہ انہیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ انہیں پر امن ،باوقار طریقے سے زندہ رہنا ہے یا یونہی خوف و دہشت کی فضا میں سہم کر زندگی گزارنی ہے بچے کسی بھی قوم اک اثاثہ اور مستقبل ہوا کرتے ہیں اور جو انہیں مارے وہ حوانیت اور درندگی کا مظاہرہ کرتا ہے اور درندوں کے خلاف سب کو ہی متحد ہونا پڑتا ہے تب ان کے شر سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔۔دہشت گردی کا عفریت جب تک ختم نہیں ہو گا ہم سکون سے رہ سکین اور اور نہ کوئی کام کر سکیں گے اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ پوری قوم یکسو ہو کر پاک فوج کے ساتھ شانے کے ساتھ شانہ ملاتے ہوئے اس ناسور کے خاتمے کے لئے کمر کس لے ,جبکہ حکومت کو اس سو چ کے خاتمے کی طرف توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے جو نفرت پھیلانے کے لئے ہر حربہ استعمال کرتی ہے ہر قسم کے ایسے لٹریچر پر پابندی ہونی چاہیے جس میں نفرت ،تعصب یا فرقہ واریت کو ہوا دی جارہی ہو ۔
جبکہ ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والے تمام گرہووں جتھوں، جماعتوں اور افراد کا کڑا محاسبہ کے بنا اور قانون کی عملداری کو یقینی بنائے بنا دہشت گردی جیسے ناسور پر قابو پانا مشکل ہو جائے گا ۔دہشت گردی اور انتہا پسندی کی ہر شکل کو ختم کئے بنا کوئی چارہ کار نہیں ریاست کو اپنی رٹ برقرار رکھنے کے لئے ثابت کرنا پڑئے گا کہ اس ملک پر کسی گروہ ، جتھے یا انتہا پسند جماعت کی کوئی اجارہ داری نہیں حکومت کو اپنی رٹ برقرا رکھنے اور اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ بنانے کے لئے ہر وہ اقدام اٹھانا ہو گا جس سے پاکستانیوں کی زندگیاں محفوظ ہو سکیں۔
حکومت کی توجہ اس جانب بھی مبذول کرانے کی جسارت کی جارہی ہے کہ سیکورٹی پر مامور ادارئے خصوصا ً پولیس جو انصاف کی بنیاد ہے کی زہنی تربیت بھی بہت ضروری ہے ریاستی اداروں کا تمام ترتعصبات سے پاک ہونا دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنے کے لئے ناگزیر ہے۔ لاہور پولیس کے سربراہ کی جانب سے سکولوں کی سکیورٹی کے حوالے سے بے جا پابندیوں سے تعلیمی نقصان کا خدشہ ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاستی اداروں کو چاہیے وہ اپنے سیکورٹی معیار کو بہتر کرنے کے ساتھ قوم کا حوصلہ بلند کریں نہ کہ خوف کی فضا میں اضافہ پیدا کرنے والے اقدامات اٹھائیں جیسا کہ تعلیمی اداروں کو قلعے بنانے کے احکامات جاری کیے جارہے ہیں جو خوف کی فضا میں اضافے کا سبب ہی بنیں گے ۔
اس سے بہتر تو یہ ہی کہ تمام تعلیمی ادروں میں حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کے حوالے سے طلباء میں شعور اجاگر کیا جائے تا کہ ان میں ہر قسم کے حالات کا سامنا کرنے کا نہ صرف حوصلہ پیدا ہو بلکہ وہ نا مسائد حالات کا مقابلہ بھی کر سکیں۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

متعلقہ عنوان

پشاور


متعلقہ کالم