نواز شریف کو استعفی کیوں دینا چاہیے؟

اتوار اپریل    |    عمار مسعود

وزیر اعظم نواز شریف کو اس لیئے استعفی دینا چاہیے کہ جب ہماری ایک نامور وزیراعظم کے شوہر نے ایک شخص کی ٹانگوں پر بم باندھ کی اس کی ساری کمائی دھروا لی تھی تو اس وقت کی وزیر اعظم نے اخلاقی تقاضوں کو مدنظر رکھ کر فورا استعفی دے دیا تھا۔نواز شریف کو استعفی اس لئے دے دینا چاہیے کہ جب آصف علی زرداری کو سارا ملک چیخ چیخ کر مسٹر ٹین پرسینٹ کہ رہا تھا تو اس وقت کی وزیر اعظم نے عوامی اخلاقیات کے تقاضوں کو نبھاتے ہوئے فورا استعفی دے دیا تھا۔
نواز شریف کو استعفی اس لیئے دے دینا چاہیے کی جب چودھری شجاعت پینتالیس دن کے لیئے وزیراعظم بنے تو کوریا سے انکے ذاتی کاروبار میں حیرت انگیز اضافہ ہوا اور جب شوگر ملوں کی خبریں اخباروں میں چھپنے لگیں تو انہوں نے بھی فورا استعفی دے دیا تھا۔

(خبر جاری ہے)

نواز شریف کو استعفی اس لیئے دے دینا چاہیے کہ جب بے نظیر بھٹو پر کرپشن کے پیسے سے سرے محل خریدنے کا الزام لگا تو انہوں نے فورا استعفی دے دیا تھا۔ نواز شریف کو استعفی اس لیئے دے دینا چاہیے تھا کہ جب جرنل کیانی کے بھائی لوٹ مار میں مصروف تھے تو انہوں نے فی الفور اپنے ادارے کے وقار کی بحالی کے لیئے اپنا استعفی جمع کروا دیا تھا۔

نواز شریف کو استعفی اس لیئے دے دینا چاہیے کہ جب یوسف رضاگیلانی پر کرپشن کے بہت سے الزامات لگے۔ ان میں سے ایک الزام ترک وزیراعظم کی بیوی کے ہار کی چوری کا الزام بھی تھا جو انہوں نے سیلاب زدگان کی مدد کے لیئے دیا تھاوہ ہار غصب کرنے کا الزام لگا تو انہوں نے وسیع تر قومی مفاد میں استعفی دے دیا تھا۔نواز شریف کو استعفی اس لیئے دے دینا چاہیے تھاجب راجہ پرویز اشرف کو لوگوں نے راجہ رینٹل کہنا شروع کر دیا تو انہوں نے استعفی دے دیا تھا۔
نواز شریف کو اس لیئے استعفی دے دینا چاہیے کہ جب آصف علی زرداری کا نام مسٹر ٹین پرسینٹ سے بڑھ کر مسٹر ہنڈرڈ پرسینٹ ہو گیا تو انہوں نے استعفی دے دیا تھا۔ نواز شریف کو اس لیئے استعفی دے دینا چاہیے کہ جب عمران خان پر شوکت خا نم کے رقم آف شور کمپنیوں میں رکھنے، جوئے خانوں میں سرمایہ کاری کرنے کا الزام لگا تو انہوں نے پی ٹی آئی کی قیادت سے استعفی دے دیا تھا۔ نواز شریف کو اس لیئے بھی استعفی دے دینا چاہیے کہ جب اسلامی جمہوریہ پاکستان میں حج سکینڈل جیسا شرمناک سکینڈل سامنے آیا تو اس وقت کے وزیر حج ، کابینہ، وزیر اعظم اور صدر نے استعفی دے دیا تھا۔
نواز شریف کو اس لیئے بھی استعفی دے دینا چاہیے کہ جب کے پی کے ایک وزیر نے وزیر اعلی پرویز خٹک پر کانوں کی کھدائی کے ٹھیکوں میں کرپشن کا الزام دیا تو وزیر اعلی نے انصاف کا بول بالا کرنے کی خاطر استعفی دے دیا تھا۔ نواز شریف کو اس لیئے استعفی دے دینا چاہیے کہ جب کشمیر کمیٹی کے مستقل چیرمین رہنے والے مذہبی رہنما کو لوگوں نے مولانا ڈیزل کہنا شروع کیا تو انہوں نے بھی استعفی دے دیا تھا۔ نواز شریف کو اس لیئے استعفی دے دینا چاہیے کہ جب الطاف حسین پر منی لانڈرنگ کا کیس برطانیہ میں چلا تو انہوں نے ایم کیو ایم کی قیادت سے استعفی دے دیا تھا۔
نواز شریف کو اس لیئے بھی استعفی دے دینا چاہیے کہ جب ڈاکٹر عاصم پر ہر ماہ اپنی وزارت سے سو کڑور روپے اوپر کی کمائی کی مد میں لینے کا الزام لگا تو انہوں نے استعفی دے دیا تھا۔یہ تو چند وجوہات ہیں جنکی وجہ سے استعفی بنتا ہے ورنہ اخلاقی بنیادوں پر استعفوں کی سینکڑوں روایات سے یہ ملک بھرا ہوا ہے۔
ہمیں الزام اور جرم میں فرق کرنا ہو گا۔ملزم اور مجرم میں تخصیص کرنی ہو گی۔پانامہ لیکس ابھی الزام ہے۔
آف شور کمپنیاں سارے بزنس مین بناتے ہیں۔ یہ طریقے انکو اکاونٹس کے ماہرین سمجھاتے ہیں۔ٹیکس بچانا اور ٹیکس چھپانا اور ٹیکس چوری کرنا تینوں اکاونٹس کے نقطہ نظر سے مختلف باتیں ہیں۔ ابھی تک کوئی کرپشن ثابت نہیں ہوئی۔ابھی تک جرم کاکو ئی ثبوت نہیں ملا۔ پانامہ لیکس کا اصل مرکزو محور روس اور چین کے لیڈر ہیں۔ اس طرح کی لیکس پہلے بھی منظر عام پر آچکی ہیں۔ وقتی طوفان پہلے بھی بپا ہو چکا ہے۔لیکن وقت گزرنے کے بعد لوگوں کو احساس ہوتا ہے کہ یہ ساری لیکس بین لا قوامی سازشیں ہیں جو چند مخصوص ملکوں کو تباہ کرنے کے لیئے تیار کی جاتیں ہیں۔
جنکا ادراک آج کے دانشوروں کو بہت عرصے بعد ہوتا ہے۔
وزیر اعظم نے اس مسئلے پر فوری طور پر قوم کو اعتماد میں لیا جس کی روایت پہلے موجود نہیں ہے۔ خود اپنے خلاف انکوائری کے لیئے ایک جوڈیشل کمیشن قائم کیا جو کہ اس معاشرے کی سیاست میں ایک نئی بات ہے۔ لیکن اس سے دانشوروں کی تشفی نہیں ہو رہی۔ ان کے دل ٹھنڈے نہیں ہو رہے۔ الزامات کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ ہے جاری ہے۔ لوگ گڑے مردے اکھاڑ رہے ہیں۔
پرانے انتقام لے رہے ہیں۔ اب انکوائری کمیشن ایک جج کی قیادت میں قائم ہو گا۔ ہر عام اور خاص اپنے اپنے ثبوت لے کر وہاں جا سکتا ہے۔ حقائق کو جاننے کا مطالبہ کر سکتا ہے۔میری اس محترم انکوائری کمیشن سے صرف اتنی درخواست ہے کہ جو شخص بھی الزام لگائے اس کے الزام کو درج کرنے کے ساتھ ساتھ الزام لگانے والے کے اثاثہ جات کو پرکھنے کا مطالبہ بھی کر دے۔ اسکی آمدنی اور اکاونٹس کو بھی دیکھنے کی اجازت طلب کرے۔
کیونکہ قانون اور صحافت دونوں میں گواہ کا سچا ہونا ، خود ان جرائم سے پاک ہونا بھی شرط ہے۔ قارئین خود دیکھیں گے الزام لگانے والے دنوں میں آدھے رہ جائیں گے۔ اپنے ناجائز اثاثے بچاتے نظر آئیں گے۔
پاکستان میں جمہوریت ایک دفعہ پھر قدم جما رہی ہے۔ ڈکٹیٹر کے نو سالہ دور اذیت کے بعد پہلا دور جمہوری کارکردگی کے اعتبار سے خراب تھا ۔ دوسرا کم از کم پہلے سے بہتر ہے۔ تیسرا اس سے بھی بہتر ہوگا ۔
ترقی کی راہیں اب نظر آرہی ہیں۔ شاہراہیں بن رہی ہیں۔ حالات بدل رہے ہیں۔اور یہی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ جب بھی پاکستان بہتری کی جانب جانے لگتا ہے بیرونی دنیا سے ایسے بحران وطن عزیز میں لائے جاتے ہیں ، جمہوری حکومتوں کے تختے الٹائے جاتے ہیں۔ اس مقصد کے حصول کے لیئے کبھی انقلاب کا نعرہ لگایا جاتا ہے کبھی مذہب سے ڈرایا جاتا ہے ۔ کبھی غداری کا مقدمہ چلایا جاتا ہے۔ ان بحرانوں کو حکومت مخالف تحریکوں میں بدلنے کے لیئے ان لیڈروں کو بھڑکایا جاتا ہے جن کے کانوں میں وزیر اعظم کے شادیانے بج رہے ہوتے ہیں۔
وزارت عظمی جن کو سامنے نظر آرہی ہوتی ہے۔بھٹو دور کا خاتمہ اس کی ایک بہترین مثال ہے ۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستان میں سٹیل مل لگ گئی تھی۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا آغاز ہو چکا تھا۔ اسلام آباد میں پہلی اسلامی سربراہ کانفرنس ہو چکی تھی۔ پاکستان ترقی کی جانب گامزن تھا۔ اس وقت نو ستارے اکھٹے ہوئے حکومت کو کرپٹ ، بھٹو کو کافر اور غدار اور جمہوریت کو شر قرار دیا گیا۔ پھر کیا ہوا ایک ڈکٹیٹر نے موقع سے فائدہ اٹھایا۔ حکمرانی کا تاج سر پر رکھا اور ملک کو صدیوں پیچھے دھکیل دیا گیا۔نو ستارے مٹی میں مل گئے۔ انقلاب کے نعرے لگانے والوں کو اس وقت بھی کچھ نہیں ملا اور اب بھی انکے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔ یاد رکھیں ۔ انقلاب کے نعرے لگانے والوں کو طالع آزما ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرتے ہیں اور یہ تو آپ بخوبی جانتے ہیں کہ ٹشو پیپر کو استعمال کے بعد پھینک دیا جاتا ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

متعلقہ عنوان

میاں نواز شریف

عمار مسعود کے اتوار اپریل کے مزید کالم



متعلقہ کالم