پہلے وکی لیکس اب پاناما لیکس

منگل اپریل    |    میر افسر امان

پہلے وکی لیکس دنیا کے سامنے آئیں تھیں اب پاناما لیکس آئیں ہیں۔وکی لیکس تو حکومتوں کے درمیان خفیہ اور غیر قانونی لیکس تھیں اب پاناما لیکس میں مالی خرابیوں کو عام کیا گیا ہے۔وکی لیکس عام کرنے والا ایک مدت سے ملکوں ملک پناہ لے لیے پریشان ہے شروع میں لوگ اس پراعتماد نہیں کرتے تھے لیکن بعد میں و ہ سچ ثابت ہوئیں۔ اب پاناما لیکس پر بھی لو گ مذاق اُڑ رہے ہیں ۔ پنجاب کے وزیر قانون پاناما لیکس کو شیطانی لیکس کہہ رہے ہیں۔
مختلف حکومتوں کے ۱۴۰/ سیاسی شخصیات، جن میں صدر، وزیر اعظم اورسرمایا دارں کے غلط کاموں کا انکشاف کیا گیا ہے۔ نواز شریف فیملی کے علاوہ پاکستان کے دو سو دوسرے لوگ بھی شامل ہیں۔ حکومت پاناما کی ایک فرم موزیک فانسیکا ہے۔ دنیا میں یہ معلوم و معروف آف شور کمپنیاں کاروبار کے لیے بنائی جاتی ہیں۔

(خبر جاری ہے)

اس کی مثال ایسی ہے کہ اگر چھری ڈاکٹر کے پاس ہو گی تو وہ اس سے عمل جرائی کرے گا۔ اور اگر چھری ڈاکو کے پاس ہو گی تو وہ اس سے لوگوں کو قتل کرے گا۔

اس لیے چھری کا قصور نہیں اس کے غلط استعمال کا قصور ہے۔اسی طرح آف شور کمپنیاں بناناجرم نہیں ان کا غلط استعمال جرم ہے ۔ آف شور کمپانیاں اگر ٹیکس چوری کرنے کے لیے بنائی جائیں تو یہ غلط ہے۔ پاناما حکومت کے صدر نے کہا ہے کہ پاناما کی فرم موزیک فانسیکا کی طرف سے اگر کوئی غلط بات ہوئی ہے تو پاناما حکومت ہر قسم کا تعاون کرنے کا اعلان کرتی ہے۔فرم موزیک فانسیکا نے کہا ہے کہ اس کی ایک کروڑ پندرہ لاکھ دستاویزات کا لیک ہونا ایک محدود ہیکنگ کا باعث ہوا۔
ویسے پاناما پیپرز تاریخ کا سب سے برا انکشاف ہے۔دنیا کے بہت سے میڈیا نے اسے عام کیا ہے۔ اخبارات کی رپورٹس کے مطابق ،نواز شریف یا شہباز شریف کے نام کوئی بھی آف شور کمپنی نہیں ہے۔حسین نواز اور حسن نواز اور ان کے رشتہ داروں کے نام آٹھ آف شور کمپنیاں ہیں۔ یہ تو سب پاکستانی جانتے ہیں کہ سوئس بنکوں میں پاکستان سے لوٹے ہوئے دو سوارب ڈالر موجود ہیں۔ مرحوم بے نظیر، جاویدپاشا، رحمن ملک، چوہدری برادران کے رشتہ دار شامل ہیں۔
نواز شریف فیملی کے لندن کے مہنگے ترین علاقوں میں جائیدادیں موجود ہیں۔ نواز شریف نے قوم سے خطاب کیا۔اس خطاب پر بھی تنقید کی گئی ۔ اس خطاب میں نواز شریف نے اپنی داستان سنائی کہ طرح ان پر معاشی ظلم کیا گیا۔ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں اتفاق فاوئنڈوی کے اسکریب سے بھرے جہاز کو ایک سال تک مال اُتارنے نہیں دیا جس سے پچاس کروڑ کا نقصان ہوا۔ ہماری اسٹیل ملز پر قبضہ کیا گیا۔ ڈکٹیٹر پرویزمشرف کے دور میں ہمیں ملک بدر کیا گیا۔
میرے بچے ملک میں کاروبار کریں تو کرنے نہیں دیتے ۔ باہر ملک کام کریں تو ان پر الزام لگائے جاتے ہیں۔ جبکہ انہوں نے جدہ کی اسٹیل مل فروخت کر کے لندن میں کاروبار شروع کیا۔نواز شریف نے انکوائری کمیشن قائم کرنے کا اعلان بھی کیا ۔اپوزیشن نے اس تقریر پر اعتراض کیا اور کہا کہ پاکستان میں انکوائری کمیشن معاملہ دبانے کے لیے بنائے جاتے ہیں یہ کمیشن بھی ایسا ہی ہے۔ عدالتی کمیشن نامنظور ہے۔ وزیر اعظم استفیٰ دیں۔
ہاں کسی بیرونی آڈٹ کمپنی سے فرانزک آڈٹ کرائی جائے تو ٹھیک ہے۔ امیر جماعت اسلامی اور سینیٹرسراج الحق نے کہا کہ آف شور کمپنیوں میں عوام سے لوٹا گیا خزانہ لگایا گیا ہے۔عوام پر ٹیکسوں اور قرضوں کا بوجھ ڈالنے والے حکمرانوں کے بے رحمی سامنے آگئی ہے۔ دولت قانونی ہوتی تو چھپائی نہ جاتی۔ سرمایا باہر لے جانے والے حکمران کس منہ سے غیر ملکی سرمایاکاروں کو پاکستان آنے کی دعوت دیتے ہیں۔ قومی اسمبلی میں قائدحزب اختلاف خورشیداحمدشاہ نے پاناما لیکس کو انتہائی اہم قرار دیا اوربڑا اشیو قرار دیتے ہوئے اس معاملے پر پارلیمنٹ میں اُٹھانے کا اعلان کیا ہے۔
قومی اسمبلی میں دس ا رکان نے تحریک التوا جمع کرائیں ہیں۔ پاناما لیکس انکشافات پر نواز شریف کو ٹف ٹائم دینے کے لیے پی پی اور پی ٹی آئی نے رابطے قائم کیے ہیں۔ عمران خان نے۲۴/ اپریل کو ڈی چوک پر جلسہ کرنے کا اعلان بھی کر دیا ہے ۔عمران خان نے نیپ سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اور کہا چیف جسٹس کی نگرانی میں تحقیقات ہونی چاہییں۔انہوں نے کہااسحاق ڈار حلفیہ بیان کے ذریعے اعتراف کر چکے ہیں کہ شریف فیملی کی دولت منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرون ملک بھجوائی گئی تھی۔
شریف فیملی کی آف شور کمپنیاں اسی دولت کا برگ و بار ہے۔ اسد عمر کا تبصرہ تھا کہ دنیا میں جہاں جہاں الزامات لگے وہاں تحقیقات شروع ہو چکی ہیں۔ سینیٹر سعید غنی نے کہا ہے کہ نواز شریف کے اقتدار میں آنے سے پہلے اور اب موجودہ اثاثوں کی تحقیقات کی جائیں تو سب کچھ سامنے آجائے گا۔ قمر زمان کائرہ نے استفعار کیا کہ آف شور کمپنیاں کب اور کیسے بنیں۔پیسہ کہاں سے آیا۔ شریف خاندان کا۹۶۔۱۹۹۴ میں انکم ٹیکس صفر تھا تو پھر یہ اثاثے کہاں سے آئے۔
ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا (ر) جج پرہی کمیشن دھوکہ اور ڈرامہ ہے۔شہباز شریف کی اہلیہ تمینہ درانی نے کہا کہ آف شور کمپنیاں غیر اخلاقی ہیں۔اخباری رپورٹ کے مطابق نواز شریف جب پنجاب کے وزیر خز انہ بنے تو ان کی فیملی کا ایک انڈسٹریل یونٹ تھا۔ جب پہلے بار وزیر اعظم بنے تو تعداد ۹/ سے تعداد ۲۸/ تک بڑھائی گئی۔ عہدوں کا ناجائز فاہدہ اُٹھاتے ہوئے سرکاری اور پرائیویٹ مالیاتی اداروں سے بھاری قرضے حاصل کیے۔
۱۹۹۳ء میں شریف فیملی پر واجب الادا قرضوں کا حجم ۶۱۴۶ /ملین سے زائد تھا۔ آن لائن کو ملنے والی تحقیقی سرکاری دستاویزات کے مطابق ۷۱۔۱۹۷۰ء میں شریف فیملی کی جانب سے سات ہزار چھ سو تیئس روپے انکم، اثاثے سات ہزار ایک سوچورانویں روپے کے اور ٹیکس صفر بتایا گیا تھا۔ نواز شریف کے مطابق ۱۹۷۹ء میں اتفاق فائنڈری کھنڈرات کی شکل میں ملی۔ جبکہ سرکاری دستاویزات کے مطابق جنرل ضیا الحق نے جون ۱۹۷۹ء میں جب اتفاق فائنڈری واپس کی تو گروپ کے ذمے آٹھ کرڑر چونتیس لاکھ روپے قرض تھاجو ضیا الحق نے معاف کر دیا تھا۔
نواز شریف کے مطابق ۱۹۸۹ء میں جوناتھن جہاز روکنے کی وجہ سے انہیں پچاس کروڑ کا نقصان ہوا۔ جبکہ ٹیکس گوشوارے ۱۹۸۹ء میں شریف فیملی کی کل ظاہر کردہ آمدنی نو لاکھ اڑتیس ہزار تین سو گیارہ اور اثاثوں کی مالیت دو لاکھ چار ہزار نو سو پندرہ روپے تھی۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق ۹۳۔۱۹۹۲ء میں شریف فیملی کی آمدن ترتالیس ہزار سات سو سات روپے اثاثوں کی مالیت تین لاکھ گیارہ ہزار پانچ سو تہتر اور صرف چھ ہزار ایک سو ستر روپے ٹیکس کی مد میں ادا کیے گئے۔
اس طرح ۹۴۔۱۹۹۳ء میں شریف فیملی نے کل آمدن دو لاکھ بیاسی ہزار پانچ سو چار روپے ظاہر کی اور اثاثوں کی مالیت ایک لاکھ اکیاسی ہزار چار سو اکانوے اور صرف دس ہزار چار سو روپے ٹیکس ادا کیا۔ صاحبو! ہم نے اخبارات میں شائع شدہ رپورٹ کے مطابق آپ کے سامنے آمدن اور اثاثوں کاریکارڈپیش کر دیا ہے۔نواز شریف نے تقریر میں اپنی فیملی کے بہت بڑی صنعتی ایمپائر اور کروڑوں روپے ٹیکس کا بار بار ذکر کر رہے تھے جو اس ریکارڈ سے لگا نہیں کھاتا یا پھر اپنی آمدنی چھپائی گئی۔
یہ وہ وقت تھا جب دستاویزات کے مطابق شریف فیملی کی طرف سے ایون فیلد ہاؤس پارک لین لندن میں دو آف شور کمپنیوں نیکسن اور نیکسول کے ذریعے چار لگژری فلیٹس خریدے گئے۔ نواز شریف جب۸۵۔۱۹۸۴ء میں پنجاب کے وزیر خزانہ تھے۔ سرکاری
ریکارڈ کے مطابق ان ایک کا انڈسٹریل یونٹ تھا، جب۱۹۸۵ء میں وزیر اعلی بنے تو ایک سے تعداد نو یونٹ تک بڑھ گئی۔جب ۱۹۹۰ء میں پہلی باروزیر اعظم بنے تو ۹۳۔۱۹۹۱ء کے دوران نو سے تعداد اٹھائیس تک پہنچ گئی۔
تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ وزیر خزانہ سے پہلی بار وزیر اعظم بننے تک پاکستان کے سرکاری اور پروئیویٹ مالیاتی اداروں سے اپنے عہدوں کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے انیس انڈسٹریل یونٹس کے لیے ۶۱۴۶/ ملین سے زائد کے قرضے حاصل کیے۔نواز شریف نے اپنی تقریر میں پونے چھ ارب کے واجب الدا قرضے چکانے کا کریڈٹ لینے کی کوشش کی۔ قرض ادائیگی، نیشنل بنک کا خط جو ۲۰۱۴ء میں جاری کیا گیا۔ جبکہ الیکشن۲۰۱۳ء میں شریف فیملی ڈیفالٹر تھی تو الیکشن کمیشن نے ڈیفالٹروں کو الیکشن لڑنے کی اجازت کیوں دی۔ پاکستان میں کرپشن ناسور کی شکل اختیار کر گیا، ملک میں آگاہی کے لیے جماعت اسلامی نے کرپشن فری پاکستان شروع کی ہوئی ہے عوام اگر پاکستان کو کرپشن سے پاک دیکھنا چاہتے ہیں تو کرپشن سے پاک جماعت کا ساتھ دیں تاکہ یہی پیسہ عوام کی بھلائی کے کیے خرچ ہو عوام خوشحال ہو۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

متعلقہ عنوان

وکی لیکس پانامہ کا ہنگامہ

میر افسر امان کے پیر اپریل کے مزید کالم



متعلقہ کالم