عمران خان کے نام !

منگل ستمبر    |    محمد عرفان ندیم

شکسپئر پچھلی چار صدیوں میں سب سے ذیادہ پڑھا جانے ولا مصنف ہے اور شکسپئر کو پڑھنے والوں کی تعداد ہر دور میں ٹاپ پر رہی ہے ۔شکسپئر کو نہ صرف انگریزی بلکہ عالمی ادب کا امام کہا جاتا ہے اور پچھلی چار صدیوں میں جتنے بھی مصنف ،لکھاری ،تخلیق کار اور کہانی نویس پیدا ہوئے ہیں انہوں نے شکسپئر کی بالادستی کو تسلیم کیا ہے ۔شکسپئر کی تحریریں ادب کی معراج ہیں اور آج تک کسی دوسرے لکھاری، کہانی نویس اور ناول نگار کی تحریروں نے شکسپئر کی تحریروں کے پاوٴں کو بھی نہیں چھووا۔
شکسپئر کو شکسپئر بنانے میں اس کے لکھے ہوئے ڈراموں کا بڑا ہاتھ ہے اور اس کے کئی ڈرامے آج بھی بیسٹ سیلر ڈراموں میں شامل ہوتے ہیں۔”میکبتھ“ شکسپئر کے ڈراموں میں سے ایک عظیم شاہکار ہے ۔

(خبر جاری ہے)

ڈرامے کے مطابق میکبتھ اسکاٹ لینڈ کا جرنیل تھا ،بادشاہ نے اسے باغیوں کی سرکوبی کے لیئے روانہ کیا ،جب وہ واپس آ رہا تھا تو راستے میں ایک ویران مقام پر اسے تین عورتیں ملی، یہ تینوں عورتیں چڑیلیں اور جادوگرنیاں تھیں جو اچانک اس کے راستے میں آ کھڑی ہوئی تھیں،میکبتھ نے ڈرتے ڈرتے پوچھا وہ کون ہیں اور اس کے راستے میں کیوں آئی ہیں ،ان میں سے ایک آگے بڑھی اور بولی ”خوش آمدید گلامیس کے نواب خوش آمدید“دوسری آگے بڑھی اور بولی”خوش آمدید کلارڈر کے نواب خوش آمدید“تیسری آگے بڑھی اور بولی”خوش آمدید میکبتھ خوش آمدید تم ایک روز ضرور بادشاہ بنو گے“میکبتھ ان سے کچھ پوچھنا ہی چاہتا تھا کہ وہ غائب وہ گئیں ۔

اب میکتبھ کے ذہن میں یہ بات بیٹھ چکی تھی کہ ان چڑیلوں کی پیشن گوئی ضرور سچ ثابت وہ گی اور وہ ایک دن ضرور بادشاہ بنے گا،اس کے دوست نے اسے بہت سمجھایا کہ وہ ان جادوگرنیوں کی باتوں پر یقین نہ کرے لیکن میکبتھ کے ذہن پر بادشاہت کا بھوت سوار ہو چکا تھا ، اس نے بادشاہ کے خلاف بغاوت کی پلاننگ کرلی۔دوسری طرف بادشاہ نے اعلان کر دیا تھا کہ اس کی وفات کے بعد اس کا بڑا بیٹا مالکوم حکمران بنے گا۔ جنگ سے واپسی پر بادشاہ نے کہا وہ کہ باغیوں کو شکست دینے پر بہت خوش ہے اور وہ میکبتھ کے گھر آکر اس کی عزت افزائی کرنا چا ہتا ہے۔
میکبتھ نے اپنے گھر کو خوب سجایا اور بادشاہ کے شایان شان انتظامات کئے اور ساتھ ہی بیوی کے ساتھ مل کے منصوبہ بنا لیا کہ جس دن باشاہ ان کے ہاں ٹھہرے گا اسی رات اسے قتل کر دیا جائے گا تا کہ وہ جلد از جلد بادشاہ بن سکے۔بادشاہ نے قدم رنجہ فرمایا ، میاں بیوی نے شاندار استقبال کیا اور دنیا کے لذیذ کھانے پیش کیئے ۔رات کھانے کے بعد بادشاہ اپنی خوابگاہ میں چلا گیا،میکبتھ میں ہمت نہیں تھی کہ وہ رات کے سناٹے میں بادشاہ کو قتل کرے لیکن لیڈی میکبتھ نے کہا اگر وہ بادشاہ کو قتل نہیں کرے گا تو اس کی نظروں میں اس کی کو ئی قدر نہیں رہے گی اور وہ ساری زندگی اسے بزدلی کے طعنے دیتی رہے گی۔
میکبتھ تیار ہو گیا، محافظوں کو شراب پلائی گئی ،میکبتھ خنجر لے کر آگے بڑھا اور سوئے ہو ئے بادشاہ کو قتل کر دیا ۔
میکبتھ اور لیڈی میکبتھ اسکاٹ لینڈ کے بادشاہ بن چکے تھے لیکن ان کا چین اور سکون بادشاہ کے ساتھ قبر میں دفن ہو چکا تھا،انہیں بادشاہ کے قتل کو چھپانے کے لیئے کئی اور قتل کرنے پڑے ،انہیں بھوک لگتی تھی نہ نیند آتی تھی،وہ چین سے سو سکتے تھے اور نہ کھا سکتے تھے۔لیڈی میکبتھ اپنے احساس جرم کی وجہ سے ہر وقت پریشان رہا کر تی تھی ،اسے خوفناک خواب آتے تھے اور یہ خواب اسے سونے نہیں دیتے تھے،وہ راتوں کو اٹھ کر چلنا شروع کر دیتی ،دیواروں سے سر ٹکراتی ،اپنا گریبان پھاڑ لیتی اور گھر سے بھا گ جاتی تھی۔
وہ نفسیاتی مریضہ بن چکی تھی ،کہتے ہیں اس نے خود کشی کرلی۔مقتول بادشاہ کا بڑا بیٹا مالکوم اپنے باپ کے قتل کے بعد ملک سے بھا گ گیا تھا اس نے دوسرے سرداروں کے ساتھ مل کر بہت بڑی فوج ترتیب دی اور میکبتھ کے خلاف لشکر لے کر نکلا ،گھمسان کی جنگ ہوئی ،میکبتھ کی ساری فوج ماری گئی ،میکبتھ کی ہمت جواب دے گئی اور وہ زور سے چلایا ”میں تم سے جنگ نہیں کر سکتا “مالکوم کے جرنیل نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا ”تو پھر تمہیں ایک قیدی کی حیثیت سے زندہ رہنا ہو گا تا کہ تم دیکھ سکو لوگ تم جیسے بزدل انسان پر کیسے ہنستے ہیں “تھوڑی دیر بعد اس کا سر قلم کیا گیا اور مالکوم بادشاہ کے سامنے پیش کر دیا گیا ۔

عمران خان کو بھی ہر ہفتے دو تین جادو گرنیا ں ملتی ہیں جو انہیں یقین دلاتی ہیں کہ تم ایک بارضرور وزیر اعظم بنو گے اور خان صاحب ان جادوگروں اور جادوگرنیوں کے کہنے پر منتخب حکومت کو گرانے کے لیئے سر گرم ہو جاتے ہیں ۔آپ مانیں یا نہ مانیں 2014کے دھرنوں کے پیچھے بھی انہی جادگروں اور جادوگرنیوں کا ہاتھ تھا اور لندن پلان بھی انہی جادو گروں نے تیار کروایا تھا۔اب رائیونڈ کے دھرنے کے لیے بھی یہ جادوگر متحرک ہو چکے ہیں اورخان صاحب کو یقین دلایا جا رہا ہے کہ آپ ایک بار ضرور وزیر اعظم بنیں گے۔
ملکی حالات اس وقت جس نہج پر ہیں ان کا تقاضا ہے کہ خان صاحب اپنی سرگریوں اور اپنی پالیسیوں کا از سر نو جائزہ لیں ،خیبرپختونخواہ اور پنجاب کے جن علاقوں سے انہیں سیٹیں ملی ہیں ان پر فوکس کریں اور 2018کے الیکشن تک انہیں مثالی بنائیں اور باقی کام عوام پر چھوڑ دیں ، اگر آپ یہ سب کرتے ہیں تو لکھ لیں اگلا الیکشن آپ کا ہو گا اور اگر آپ اسی ڈگر پر چلتے رہے تو عوام آپ کے بارے میں کیا سوچتے اس کا اندازہ آپ کو اگلے الیشن میں ہو جائے گا۔

معزز عمران خان صاحب !آپ سے گزارش ہے کہ آپ ان جادو گرنیوں اور ان چڑیلوں کی باتوں پر یقین نہ کریں یہ آپ کو لے ڈوبیں گی ۔اور اگر آپ کو ہم جیسے” حاسد “لکھا ریوں پر شک ہے اور آپ ان چڑیلوں کے مرید بننا ہی چاہتے ہیں تو آپ کم از کم ایک بار شکسپئر کو ضرور پڑھ لیں ،آپ شکسپئر کے ڈرامے ”میکبتھ “کی ایک کاپی اپنے سرہانے رکھ کر سویا کریں امید ہے آپ کو یقین آ جائے گا ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

متعلقہ عنوان

عمران خان

محمد عرفان ندیم کے پیر ستمبر کے مزید کالم



متعلقہ کالم