احمد نورانی کو سزا ملنی چاہیے

پیر جولائی    |    عمار مسعود

گذشتہ دنوں روزنامہ جنگ میں احمد نوارنی کی ایک خبرکے غلط ہونے پر بہت غوغا مچا۔ خبر اہم تھی۔ حوالہ جے آئی ٹی کا تھا اور قصہ سازشوں کا تھا۔ خبر اپنی اشاعت کے چند گھنٹوں کے بعد ہی غلط ثابت ہوئی۔احمد نوارنی نے اگلے ہی دن اخبار میں تحریری طور پر معافی مانگی ۔ اس معافی نامہ کا ایک اقتباس ذیل میں درج ہے۔ تفصیلات کے مطابق احمد نوارنی نے کہا ہے کہ سب سے پہلے مجھے اس اعتراف سے شروعات کرنے دیں کہ پیر کا روز میرے لئے بہت شرمندگی کا دن تھا کیونکہ میں نے جو رپورٹ کیا وہ غلط ثابت ہوا۔
بطور پیشہ ور صحافی میں اچھی طرح سمجھتا ہوں کہ اس سے میرے قارئین کو دکھ پہنچا اور ساتھ ہی ساتھ میری ساکھ بھی مجروح ہوئی، مزید یہ کہ اخبار کی شہرت کو بھی نقصان پہنچا، جس کے پاس ویسے منفرد خبروں اور سب سے پہلے خبردینے کی طویل فہرست موجود ہے۔

(خبر جاری ہے)

میں اپنے قارئین، اپنے ساتھیوں اور اپنی انتظامیہ سے معذرت خواہ ہوں۔ خبر فائل کرنے سے قبل میں نے معلومات کو دوبارہ جانچنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن میری معلومات اور میرے ذرائع دونوں غلط ثابت ہوئے۔

میں اپنی صحافتی زندگی میں ان شرمندہ کرنے والے لمحات سے سیکھوں گا اور مزید محنت کر کے اپنے اخبار اور اپنے قارئین کا اعتماد حاصل کرنے کے لئے پرعزم ہوں۔
میرے خیال میں احمد نوارنی نے معافی تو مانگ لی لیکن یہ کافی نہیں ہے، ان کو سزا بھی ملنی چاہیے اوریہ سزا غلط خبر دینے پر نہیں بنتی یہ سزا معافی مانگنے پر دینی چاہیے۔ہم جس سماج میں رہتے ہیں وہاں جھوٹ بولنا کوئی جرم نہیں ہے۔ تسلسل اور دھڑلے سے جھوٹ بولنے والے کو ہم بے باک اور بہادر کہتے ہیں۔
اپنی غلطی پر معافیاں مانگنے والے ہمارے ہاں مجرم ، ڈرپوک اوربزدل کہلاتے ہیں۔ ہمیں نہ معافی مانگنے کی عادت ہے نہ سننے کا کوئی تجربہ ہے۔ ہم جانتے بوجھتے جھوٹ سنتے ہیں، اس سے لذت اٹھاتے ہیں اور اسکے غلط ثابت ہونے پر آزردہ ہوتے ہیں۔
میڈیا بھی جھوٹ کے اس کاروبار سے حظ اٹھاتا ہے۔ ریٹنگ کماتا ہے۔تماشے لگاتا ہے۔پگڑیاں اچھالتا ہے ۔ایک جھوٹ کے ثبوت کے لیے درجنوں جھوٹ بولتا ہے۔ لیکن یہاں کوئی معافی نہیں مانگتا ۔
کوئی اپنی غلطی کا عتراف نہیں کرتا ہے۔ ہم سب اس ریت کے اتنے عادی ہوگئے ہیں کہ ہمارے لیے احمد نورانی کی معافی بہت اچھنبے کی بات ہے۔ہمارے ہاں پرنٹ میڈیا ہو یا الیکٹرونک میڈیا ، یا پھر سوشل میڈیا ہو اس کاروبار میں سب بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں ۔ جھوٹ بولنے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ جھوٹ کی
جنگ میں کوئی ہارنا نہیں چاہتا۔ اس دوڑ میں کوئی دوسرے نمبر پر نہیں آنا چاہتا۔
اس کاروبار میں شکست ہمیشہ سچائی کو ہوتی ہے۔ صرف صداقت ہی قدموں تلے روندی جاتی ہے۔
دنیا بھر میں اچھے صحافی اپنی خبرکی تصدیق کے لیے ہر ممکن طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ اپنے ذرائع کی برسوں پرواخت کرتے ہیں۔ ایک خبر کی تصدیق پر کام کرتے مہینوں بیت جاتے ہیں۔ تب کہیں جا کر سچ کا سرا ہاتھ میں آتا ہے۔پھر ایڈیٹوریل بورڈ سے پنجہ آزمائی شروع ہوتی ہے۔ خبر کی صداقت کے لئے انہیں مطمئن کرنا پڑتا ہے۔
تب کہیں جا کر ایک خبر اخبار یا ٹی وی کی زینت بنتی ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود خبر میں غلطی کا امکان رہ جاتا ہے۔ کبھی ذرائع دھوکہ دے جاتے ہیں۔ کبھی لفظ ،مطمع نظر کا ساتھ نہیں دیتے ۔ کبھی حالات تبدیل ہوجاتے ہیں۔ کبھی خبر کی تصدیق نہیں ہو پاتی اور غلط خبر چھپ جاتی ہے۔ ایسے میں صحافیانہ روایات کے مطابق یہ لازمی ہوتا ہے کی صحافی سرعام اپنی غلطی کا عتراف کرے۔اپنے کیئے پر نادم ہو اور آئندہ ایسا نہ کرنے کا اعادہ کرے۔
ایسا کرنا صحافی اور ادارے کی صحافیانہ ساکھ کے لئے بہت ضروری ہوتا ہے ۔ دنیا بھر میں جو ادارے اور صحافی ایسا نہیں کرتے وہ اپنی صحافیانہ قدر کھو دیتے ہیں اور جلد ہی پروپیگنڈا مشین کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ لیکن یہ دنیا بھر کا ذکر ہے ۔ پاکستان کی صحافتی دنیا اس سے بہت مختلف ہے۔
اس دیس میں جھوٹ کے پودے چند چینلز اور اخباروں میں لگائے گئے ۔ انکی مکمل نگہداشت کی گئی تاکہ انکے زہریلے پھل کو ناظرین یا قارئین کے ذہنوں میں منتقل کیا جاسکے۔
۔ یہاں جھوٹ سچ کا سوال کوئی نہیں کرتا ۔ وٹس ایپ کی بیساکھیوں پر چلنے والے یہ صحافی خود رو پودوں کی طرح اگتے ہیں ۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے سارا جنگل اجاڑنے میں لگ جاتے ہیں۔۔نفرت کے ان کاروباریوں میں معافی کا کوئی رواج نہیں ہے۔ غلطی کے اعتراف کا کوئی چلن نہیں ہے۔ یہ چند چینل روز یہ دکان سجاتے ہیں۔ اپنا اپنا سودا بیچتے ہیں ۔ قیمت نقد میں وصول کرتے ہیں اور اگلے دن پھر بہتان کا نیا ٹوکر ا سر پر اٹھا کر جھوٹ کی منڈی میں آواز لگاتے ہیں۔

گزشتہ چار سالوں میں ہونے والی درجنوں بریکنگ نیوز ایسی ہیں جو غلط ثابت ہوئی ہیں۔ نمونے کے طور پر چند ایک درج ذیل ہیں۔ دھرنے کے دنوں میں یہ خبر چند چینلوں کی طرف سے یہ خبر بڑے وثوق سے دی گئی کہ چیف نے وزیر اعظم سے استعفی مانگ لیا ہے۔ چند مہینوں پہلے ایک اخبار کے فرنٹ پیج پر یہ خبر چھپی کہ نواز شریف اب صدر بننے لگے ہیں اور شہباز شریف کو وزیر اعظم بنانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔یہ خبر بھی چینلوں پر چلی وزیر اعظم کے دل کا آپریشن نہیں ہوا وہ لندن فرار ہو گئے ہیں اور اب کبھی واپس نہیں آئیں گے۔
ایک اینکر نے خبر دی کہ چیف اور وزیر اعظم کی ون ٹو ون میٹنگ میں چیف صاحب نے وزیر اعظم کو شٹ اپ کہہ دیا ۔ ایک صاحب نے پاناما کے دور میں قطر کے وزیر خزانہ سے اسحاق ڈار کی خفیہ ملاقات کی بریکنگ چلا دی۔پانامہ کی ہنگامہ آرائی میں روز کاکڑ فارمولے کی خبر چند چینلوں سے سنائی جاتی رہی۔یہ خبر بھی ہمارے چند چینلوں پر بریکنگ بن کر چلی کہ نواز لیگ نے سپریم کورٹ کے کمپوٹرہیک کر کے پانامہ کا فیصلہ تبدیل کردیا۔
دھرنے کے دنوں میں پارلیمنٹ پر حملہ کی رات تو شہباز شریف اور نواز شریف کے استعفی دینے کی بریکنگ گھنٹوں چلتی رہی۔ ایک صاحب روز اندر کی خبر لاتے ہیں کہ فوجی دستوں کو حکم دے دیا گیا ۔ جمہوریت کی نیا ڈوب گئی ہے۔ وزیر اعظم صبح گرفتار ہو رہے ہیں۔ پھانسی کی سزا کا بھی امکان ہے۔ انہیں لوگوں کے حوالے سے معززچیف جسٹس پر طرف داری کا الزام لگا۔ قابل احترام آرمی چیف کی شخصیت پر بھی حرف اٹھایا گیا۔پچھلے دنوں ایک اینکر نے بڑے تیقن سے خبر دی کہ امریکی سفارت خانے نے اپنے ملک کو پیغام دے دیا ہے کہ جون میں اعلی قیادت تبدیل ہوجائے گی۔
خبریں تو بہت سی ہیں لیکن مندرجہ بالا ان سب خبروں کے غلط ہونے کے باوجود ان میں سے کسی ایک کی بھی تردید کی گئی نہ معافی مانگی گئی نہ اپنی غلطی کا اعتراف کیا گیا۔اس لئے کہ یہ ہمارے ہاں چند اداروں میں یہ صحافتی رواج نہیں ہے۔اس کاروبار دروغ کی وجہ صرف ابن الوقتی، ریٹنگ اور سستی شہرت نہیں ہے۔ یہ قصہ طویل ہے۔
ایک ایسا معاشرہ جہاں ایک ڈکٹیٹر ایک جھوٹے کیس میں جمہوری حکمران کو پھانسی پر چڑھا دیتا ہے۔
نوے روز میں الیکشن کا جھوٹ بولتا ہے۔ گیارہ سال آئین اور عوام پر سواری کرتا ہے ۔ جب وہ اپنے کیئے پر نادم نہیں ہوتا ، اپنے جھوٹ پر شرمندہ نہیں ہوتا تھا، اپنے بھیانک غلطی پر معافی نہیں مانگتا تو صحافیوں کو کیوں الزام دیں۔ ایک ڈکٹیٹر کروڑوں لوگوں کے ووٹ سے منتخب جمہوری وزیر اعظم کو کنپٹی پر پستول رکھ کر ایوان وزیر اعظم سے نکال دیتا ہے۔ جھوٹے طیارہ سازش کیس میں، جیل میں ڈال دیتا ہے۔پورے خاندان کو ملک بدر کر دیتا ہے۔
آئین کو برسوں اپنے پاوں تلے روندنے کی سعادت حاصل کرتا ہے۔ پھر جب پکڑے جانے کی باری آتی ہے تو کمر درد کا بہانہ بنا کر جھوٹ بولتا ہے۔ جس سرزمین کے تحفظ کی قسم کھائی تھی اسی ملک سے نقاہت کے مارے فرار ہوتا ہے، پھر رقص کی محفلوں میں پایا جاتا ہے ۔ جب اس سے کوئی سوال نہیں کرتا۔جب وہ اپنے جھوٹ پر نادم نہیں ہوتا، جب وہ ان بہیمانہ جرائم کی معافی نہیں مانگتا تو صحافیوں کی کیا بساط ہے۔ بات صرف اتنی ہے کہ جھوٹ کا یہ سبق ہماری تاریخ کے خون میں شامل ہے ۔ ایسے میں احمد نورانی اگر اپنی غلطی پر نادم ہوتا ہے ،معافی مانگتا ہے تو اس کو سزا معافی مانگنے پر ملنی چاہیے کیونکہ اس معاشرے میں اپنی غلطی پر معافی مانگنا سب سے بڑا قصور ہے۔ جھوٹوں کے شہر میں سچ بولنا، سب سے عظیم حماقت ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com