ہاتھیوں کا کھیل !

پیر جولائی    |    محمد عرفان ندیم

کہاوتیں اور ضرب الامثال ملکوں اور قوموں کا آئینہ ہوتی ہیں ، آپ اگر کسی ملک کی قومی اور اجتماعی نفسیات جاننا چاہتے ہیں تو آپ اس ملک کے بارے میں کہی جانے والی کہاوتوں کو پڑھ لیں، آپ کو ان کہاوتوں میں اس ملک کی ساری نفسیات اور سارا شعور اکٹھا مل جائے گا ۔ ایک کہاوت صدیوں کے تجربات کے بعد وجود میں آتی ہے ۔ آج دنیا میں جتنی کہاوتیں ، محاورے اور ضرب الامثال مشہور ہیں ان کے پیچھے کو ئی نہ کوئی کہانی ، واقعہ یا سبق ضرور موجود ہے ۔
کہاوت صدیوں کے تجربات کا نچوڑ ہوتی ہے اور جو محاورہ اور کہاوت کسی قوم کے بارے میں مشہور ہو جائے اس میں اس ملک اور قوم کی اجتماعی نفسیات کاتاثر کسی نہ کسی حد تک ضرور پایا جاتا ہے ۔ مثلا جاپانی کہاوت ہے اچھی دوا اکثر کڑوی ہوتی ہے ۔

(خبر جاری ہے)

روسی کہاوت ہے کپڑے کو کاٹنے سے پہلے سات بار ناپ لو کیونکہ اسے کاٹنے کا صرف ایک ہی موقعہ ملتا ہے ۔ چینی کہاوت ہے منہ کا دھانہ تمام مصیبتوں کا سرچشمہ ہے۔ اسپینی کہاوت ہے بغیر دیکھے کوئی چیز منہ میں نہ ڈالو اور بغیر پڑھے کسی کاغذ پر دستخط نہ کرو ۔

جرمن کہاوت ہے حقیقی معنوں میں گھر کا خادم صرف ایک ہے اور وہ اس گھر کا مالک ہوتا ہے۔لاطینی کہاوت ہے جو بات عقل چھپاتی ہے نشہ اسے ظاہر کردیتا ہے ۔ ترکش کہاوت ہے سوتے ہوئے کتے کو مت جگا وٴ اگر وہ جاگ گیا تو یقینا آپ پر بھونکے گا ۔ آسٹرین کہاوت ہے اگر تم ترقی نہیں کر سکتے تو دوسروں کی ترقی دیکھ کر آنکھیں بند مت کرو ۔ ازبک کہاوت ہے تلوار اور عورت کی چلتی زبان کو روکنا ہی اصل بہادری ہے ۔ یونانی کہاوت ہے اگر کوئی کتا آپ پر بھونک رہا ہے تو آپ اس پر بھونکنا نہ شروع کر دیں اورانگریزی کہاوت ہے دوہاتھیوں کی لڑائی میں کچلا گھاس ہی جاتا ہے ۔
ملک میں جب سے پانامہ لیکس کا ایشو چھڑا ہے مجھے یہ کہاوت مسلسل یاد آ رہی ہے اور میں آئے روز ہاتھیوں کی لڑائی میں گھا س کو کچلتے ہوئے دیکھتا ہوں ، ہمارے ملک کے سیاستدان وہ ہاتھی ہیں جو گزشتہ تین چار سال سے مسلسل لڑ رہے ہیں اور ان تین چار سالوں میں نہ جانے کتنے انسان ان ہاتھیوں کی لڑائی کی بھینٹ چڑھ گئے ہیں ۔ عمران خان کے جلسوں اور دھرنوں میں کتنے لوگوں کی جانیں گئی ، طاہر القادری کے دھرنے میں کتنے لوگ شہید ہوئے،ن لیگ کی غلط پالیسوں اور غلط حکمت عملیوں کی وجہ سے کتنے لوگ جانوں سے گئے۔
ملکی معیشت پر کتنے برے اثرات مرتب ہوئے ، عوام کے اندر کتنی ڈپریشن اور مایوسی پھیلی ،عالمی سطح پر پاکستان کا کیاا میج بنا اور ہم نے جمہوریت کی دیوی کے ساتھ کیا کیا۔ اسی پر بس نہیں بلکہ ہاتھیوں کی لڑائی ابھی جاری ہے اور نہ جانے کتنے لوگ ان ہاتھیوں کی لڑائی میں روندے جائیں گے ۔ ان ہاتھیوں کی لڑائی کی وجہ سے پہلے بھی یہ ملک بہت دکھ اور صدے برداشت کر چکا ہے لیکن ہاتھیوں کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتاانہیں اپنے مفادات عزیز ہیں ۔
آپ حالیہ دنوں کا جائزہ لیں ، جے آئی ٹی نے سپریم کورٹ میں رپورٹ پیش کی ، اپوزیشن حرکت میں آئی ، احتجاج اور دھرنے شروع ہوئے ، حصص مارکیٹ میں مندی آئی اور اس ملک کا کھربوں روپے کا نقصان ہوگیا۔ بے یقینی کی یہ فضا ابھی جاری ہے ، ادارے تذبذب کا شکار ہیں ، بیرونی سرمایہ کار حالات کے ٹھہراوٴ کا انتظار کر رہے ہیں، تاجر امن و استحکام کے منتظر ہیں ، عوام بے چین ہیں ، سرکاری افسران اور ملازم پریشان ہیں اور ساری دنیا ہماری طرف نظریں گاڑے بیٹھی ہے ۔
حکومت اور اپوزیشن ، عدلیہ اور پارلیمنٹ آمنے سامنے ہیں ، سیاسی جماعتیں پوائنٹ اسکورنگ کر رہی ہیں ،سیاستدان اپنی سیاست چمکا رہے ہیں ، ایم این ایز اور ایم پی ایز کو اپنی انتخابی مہم چلانے کا موقعہ مل گیا ہے اور نوجوانوں کووقت گزارنے کا بہانہ مل گیا ہے ۔ اس سارے منظرنامے اور ہاتھیوں کی لڑائی میں نقصان ملک اور عوام کا ہو رہا ہے ، ملکی معیشت ڈوب رہی ہے ، ادارے خسارے میں جا رہے ہیں ، ملازمین پریشان ہیں ،ملکی منصوبے ادھورے پڑے ہیں ، پاور پلانٹ بند ہیں، چین ہم سے دوستی کر کے پچھتا رہا ہے ، سی پیک خطرات سے دوچار ہے ، دہشت گردوں کو موقع مل گیا، غیر ملکی سرمایہ کار واپس جا رہے ہیں،انڈیاا ور ایران کو دراندازی کا موقعہ مل گیا ہے،افغانستان ہمیں آنکھیں دکھا رہا ہے ،دنیا ہم پر ہنس رہی ہے، مارشل لا ء کا سانپ بل سے نکلنے کا انتظا ر کر رہا ہے اور جمہوریت کی دیوی چپ سادھے جنگلوں کی طرف نکل گئی ہے ۔

میں کسی جماعت کا حامی نہیں لیکن فرض کریں جے آئی ٹی نے سپریم کورٹ میں جو رپورٹ پیش کی ہے اس کی روشنی میں سپریم کورٹ نواز شریف کو نا اہل قرار دے دیتی ہے تو کیا سارے مسئلے حل ہو جائیں گے ؟ساری اپوزیشن ، ساری میڈیا اور کچھ نادان دوست نواز شریف کے استعفے کے پیچھے پڑے ہیں ، کیا نواز شریف کے استعفے سے اس ملک کے مسائل حل ہو جائیں گے ؟ نواز شریف کے نااہل ہونے سے پوری ن لیگ نا اہل نہیں ہو گی ، ذیادہ سے ذیادہ یہ ہوگا کہ نواز شریف کی بجائے مریم نواز یا کوئی اور وزیر اعظم بن جائے گا لیکن پالیسیاں پھر بھی وہی رہیں گی۔
پھر وہی ہو گا جوزرداری نے پچھلے پانچ سالوں میں کیا ، وزیر اعظم گیلانی اور پرویز اشرف تھے اور ان کنٹرول ایوان صدر سے کیا جاتا تھا اور انہیں ہدایات لاڑکانہ سی دی جاتی تھیں ، اب بھی ذیادہ سے ذیادہ یہ ہو گا کہ وزیر اعظم مریم یا کوئی اور ہو گا اور انہیں کنٹرول رائیونڈ سے کیا جائے گا اورانہیں ہدایات تخت لاہور سے جاری ہوں گی۔ تو پھر اس ساری جہد مسلسل اور گزشتہ تین چار سالوں سے ملک میں پھیلائی جانے والی افراتفری کا حاصل ؟ کیا اس ملک میں کوئی بھی ایسا لیڈر نہیں جو حالات کا درست تجزیہ کرے اور عوام کی صحیح سمت راہنمائی کرے ۔
سیاستدان اور لیڈر میں یہی فرق ہوتا ہے سیاستدان اپنے بارے میں سوچتا ہے اور لیڈر ملک اور قوم کے بارے میں ، ہمارے ہاں سیاستدان تو بہت ہیں لیڈر کوئی نہیں۔ اور فرض کریں نواز شریف ناا ہل ہو جاتا ہے ، اسمبلیاں تحلیل ہو جاتی ہیں ، نئے الیکشن ہوتے ہیں تو زمینی حقائق کیا کہتے ہیں ، کیا عمران خان یا پیپلز پارٹی سادہ اکثریت لے سکیں گے ، کیا یہ دونوں پارٹیاں اس پوزیشن میں ہوں گی کہ حکومت بنا سکیں ، پھر ہو گاکیا عمران خان اتحادیوں سے مل کر حکومت بنائیں گے ، کیا اتحادی عمران خان کو اپنی مرضی سے کام کرنے دیں گے؟ اور کیا عمران خان کے وزیر اعظم بننے سے ملک کے سارے مسائل خود بخو د حل ہو جائیں گے ۔
یا فرض کریں عمران خان کی بجائے زرداری اپنے اتحادیوں سے مل کر حکومت بناتے ہیں تو کیا آپ زرداری کے پچھلے پانچ سال بھول گئے اور کیا یہ ملک دوبارہ زرداری اور پیپلز پارٹی کو برداشت کر سکتا ہے ۔ اور یہ سب باتیں تو بعد کی ہیں اگر عمران خان وزیر اعظم بن جاتے ہیں تو کیا نواز شریف انہیں سکون سے حکومت کرنے دیں گے ۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ نواز شریف عمران خان سے کہیں ذیادہ افراد کو سڑکوں پر لا سکتے ہیں اور عمران سے ذیادہ طاقتور دھرنا دے سکتے ہیں ۔پھر ہو گا کیا نواز شریف عمران خان کو ٹف ٹائم دیں گے اور یہ سلسلہ ایسے ہی چلتا رہے گا۔ نتیجہ کیا نکلے گا ہاتھیوں کی لڑائی میں ملک اور عوام مرتے رہیں گے اور ہاتھیوں کا کھیل جاری ہے گا ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com