دائمی بدگمانی کے مریض !

جمعرات ستمبر    |    ارشاد بھٹی

ہر برائی اسٹیبلشمنٹ کے کھاتے میں ڈالتے دائمی بدگمانی کے مریض تو موجودہ فوجی قیادت کو یہ کریڈٹ بھی دینے پر تیا رنہیں کہ پاناما لیکس ہونے سے کیس سپریم کورٹ پہنچنے تک اور وزیراعظم کی نااہلی سے حکومت بدلنے تک‘ فارورڈ بلاک بنا‘ جوڑ توڑ ہوا اور نہ کوئی پارٹی ٹوٹی ‘ بلکہ جمہوریت قائم اور نظام موجود!
تصویر کا ایک رُخ یہ کہ اسی سال فروری کی ایک سہ پہر‘ جب باقی باتیں ہو چکیں تو سپہ سالار نے وزیراعظم نواز شریف سے کہا”آپ اندرونی وبیرونی محاذ پر مشکل فیصلے کریں ‘ میں آپکے ساتھ ہوں اور سوائے ایک معاملے کے ‘میرا مکمل تعاون آپکو حاصل رہے گا‘ ‘ یہ سن کر زیرِ لب مسکراتے وزیراعظم نے پوچھا” جنرل صاحب وہ معاملہ کون سا کہ جس پر مجھے آپ کا تعاون حاصل نہیں ہوگا“ جنرل قمر جاوید باجوہ کا جواب تھا’ پاناما ایشوپر‘ کیو نکہ یہ معاملہ عدالت میں اور اب عدالت کا فیصلہ ہی سپریم ‘ ‘ یہ کہہ کر آرمی چیف لمحہ بھر کے توقف کے بعد دوبارہ بولے” لیکن وزیراعظم صاحب مجھے یوں لگ رہا کہ جیسے آپ پاناماکو ایزی لے رہے ‘ میں سمجھتا ہوں کہ آپ کو اسے سنجیدگی سے لینے اور کیس پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت “وزیراعظم نواز شریف ہنس کر بولے” جنرل صاحب آپکے Concernکا شکریہ ‘لیکن میں یہ واضح کر دوں کہ میں کیا اگر عدالت نے میرے کسی بچے کو بھی موردِ الزام ٹھہرایا تو ایک لمحے کی دیر کیئے بنا میں گھر چلا جاوٴں گا “ جیسے ہی وزیراعظم نے اپنی بات مکمل کی تو آرمی چیف نے کہا”ایک بات اوربھی ۔

(خبر جاری ہے)

۔۔ آپکو اپنی میڈیا ہینڈلنگ بھی بہتر بنانے کی ضرورت ‘ نہ تو آپکے موٴقف کا پتا چل رہا اور نہ حکومتی کارکردگی سامنے آرہی ‘ کم ازکم جو ترقیاتی کام آپ کر چکے یا کرنے والے ان کا تو سب کو پتا چلنا چاہیے “میاں نواز شریف خوش ہو کر بولے ”جنرل صاحب آپ ٹھیک کہہ رہے ‘اس حوالے سے ہمیں واقعی توجہ دینے اور بہت کچھ کرنے کی ضرورت “۔
لیکن صاحبو اس ملاقات سے بھی پہلے یہ تب کی بات جب ڈان لیکس پر انکوائری کمیٹی کی سفارشات پر حکومت کے مکمل عمل درآمد نہ کرنے پر فوج ٹویٹ کر چکی تھی ‘ چند دن بعد وزیراعظم ہاوٴس آئے سپہ سالار کو میاں نواز شریف ریسیو کرتے ہیں‘ سلام دعا کے بعد آرمی چیف بولے ” وزیراعظم صاحب یو مسٹ بی انائڈ “ میاں نواز شریف نے جواب دیا”نو جنرل صاحب آئی ایم ناٹ ا نائڈ، آئی ایم ہرٹڈ“ یہ سن کر جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا” وزیراعظم صاحب گو کہ ٹویٹ کے الفاظ غلط فہمی کا نتیجہ ‘ لیکن آپ فکر نہ کریں میں اس کا کوئی حل نکالتا ہوں “ اور پھر اسی روز ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کے بعد جنرل باجوہ کی ہدایت پر فوجی تاریخ کا ایک مشکل ترین فیصلہ ہوا اور ٹویٹ واپس لے لیاگیا۔

لیکن صاحبو ڈان لیکس سفارشات پر ادھورے حکومتی عملدرآمد‘ٹویٹ ہونے اور واپس لینے سے بھی پہلے آرمی چیف سے ملنے آئے وزیراعظم کے ایک معاونِ خصوصی نے جب یہ کہا کہ ”انکوائری رپورٹ کی سفارشات کے حوالے سے کچھ نرمی برتی جائے “ تو جنرل نے جواب دیا ”نہ صرف ڈان لیکس مجھ سے پہلے ہوئی‘انکوائری کمیٹی مجھ سے پہلے بنی بلکہ میرے چیف بننے سے پہلے ہی سفارشات بھی مرتب ہو چکیں ‘ لہذااب میں ایک لفظ کاٹنے یا Addکرنے کا مجاز نہیں ‘ اس لیئے میرا فرض بھی یہی کہ کمیٹی کی سفارشات پر من وعن عملدرآمد ہو اور حکومت کے حق میں بھی یہی بہتر ‘ میں تو وزیراعظم سے بھی یہ کہہ چکا کہ جتنی جلدی ہو سکے اس Matter کو Closeکریں ورنہ جب تک یہ معاملہ لٹکا رہے گا تب تک طرح طرح کی باتیں ہوتی رہیں گی ۔

اب صاحبو! ذرا تصویر کا دوسرارخ ملاحظہ فرمائیں ‘پاناما لیکس ہونے ‘حکومت اور اپوزیشن کا سال بھر قومی اسمبلی میں ٹی او آرز پر اتفاق نہ کر سکنے اور معاملہ سپریم کورٹ آنے تک حکومت”ایزی موڈ“میں رہی ‘شائد یہ وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ معاملہ اتنا سنگین ہو سکتا ہے ‘ لیکن جونہی کیس سپریم کورٹ میں چلنا شروع ہوا‘ جرح اور سوالات ہونے اورثبوت مانگے جانے لگے تو پھر ہر روزنئے بیان اور آئے روز نئی کہانیاں ۔
۔۔ ‘اسی اثنامیں پہلا فیصلہ آیا ‘جے آئی ٹی بنی اور جب پیشیاں شروع ہوئیں تو پھر سازش ہوگئی ‘ پس پردہ قوتیں سرگرم عمل ہو چکیں ‘کٹھ پتلی تماشا ہورہا ‘ ثبوت تو پہلے ہی اکٹھے کیئے جا چکے ‘یکطرفہ کاروائی ہورہی اور فیصلہ تو کہیں اور ہوچکا ‘یعنی ایسی ایسی باتیں ‘سازشی تھیوریاں اور قصے کہانیاں کہ خدا کی پناہ‘ لیکن شائد یہ تو ہونا ہی تھا کیونکہ یہاں کبھی پہلے ایسا ہوا ہی نہیں کہ کوئی معاملہ باہر سے آیا ہو‘اتنی مستقل مزاجی سے اُٹھایا گیا ہو‘ ملک کی سب سے بڑی عدالت نے معاملے کو یوں Take upکرکے اور ایک فیصلہ دے کر ایسی جے آئی ٹی بنادی ہو جو ہر دباوٴ برداشت کرجائے ‘بہرحال بھلا ہو خواجہ آصف کا کہ جنہوں نے محترم حامد میر کے پروگرام میں جب یہ کہا کہ ” ہمارے خلاف نہ عدلیہ نے سازش کی اور نہ فوج نے “تو الزامات اور بہتان تراشی کا طوفان کچھ تھما‘ورنہ اس سے پہلے تو ماحول یہ بن گیا تھا کہ پاناما لیکس سے لے کر اقامہ تک سب کچھ اسٹیبلشمنٹ کا کام ‘ یہاں غور طلب بات یہ بھی کہ جے آئی ٹی ارکان پر اعتراض کرنے والوں نے تب اعتراض نہ کیا کہ جب سپریم کورٹ جے آئی ٹی بنا رہی تھی اورپھر جے آئی ٹی میں ایجنسیوں کے نمائندوں پر اعتراض کرنے والے لیگی رہنما یہ بھول گئے کہ پاناما لیکس پر تو سپریم کورٹ کے کہنے پر یہ دونمائندے شامل ہوئے ‘ مگرسانحہ ماڈل ٹاوٴن پرتو جے آئی ٹی بناتے ہوئے لیگی حکومت نے انہی ایجنسیوں کے دونمائندے خودشامل کیئے ۔

اب آجایئے ڈان لیکس کی طرف ‘جب فوجی قیاد ت ایک غیر مقبول ترین فیصلہ کر کے سیاسی قیادت کو Face Savingدے چکی اور جب معاملہ ختم ہو چکا تب فتح کے شادیانے بجانے اور ہار جیت کے قصے سنانے کا بھلا کیا مقصد ‘ حکمت ودانش کا تقاضا تو یہ تھا کہ جب ایک فریق نے بڑے پن کا مظاہر ہ کرتے ہوئے معاملہ سلجھا دیا تو پھر آگے بڑھ جانا چاہیے تھا‘مگر چونکہ یہاں نہ پہلے کبھی ایسا ہوا اور نہ اس معاملے میں ایسا ہوسکا اور جو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے ۔

صاحبو! یہ تو صرف چند باتیں ‘اس حوالے سے سینکڑوں باتیں اور بھی ‘لیکن نہ اب ایسی باتوں کا فائدہ اور نہ ملک ان سازشی تھیوریوں کا متحمل ہوسکتا ‘ کیونکہ حالا ت یہ کہ بیرونی محاذ پر ٹرمپ کا امریکہ ہمیں سبق سکھانے کی بات کررہا ‘ چین کا بریکس دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کر رہا اور ہمارے سب دشمن اکٹھے ہوچکے جبکہ اندرونی محاذ پر انتشار کا عالم یہ کہ ہم مردم شماری پر بھی متفق نہیں اور اوپر سے ملک اپنی تاریخ کے بدترین معاشی بحران کے دروازے پر ‘پھرآج تاریخ چیخ چیخ کر یہ بتا رہی کہ جہاں سازشوں میں گھر کر فوج دفاع کے قابل نہ رہ جائے وہاں پھر بے تحاشا تیل اور اربوں‘کھربوں ڈالرز بھی قذاقی کو بچاپائیں نہ لیبیا کو ‘ جہاں لیڈ ر شپ ضدی اور انا پرست ہو وہاں پھر عراق کو کھنڈرہی بننا پڑے ‘جہاں حکمت ودانش کی بجائے ”مَیں مَیں “ کے رستوں پہ چلا جائے وہاں پھر بشارالاسد کو شام کی تباہی کے بعد بھی کچھ ہاتھ نہ آئے اور جہاں کمزوروں پر طاقتور غالب آجائیں وہاں پھر وہی حال ہو جو برما‘ہندوستان ‘ شام ‘عراق اور فلسطین میں مسلمانوں کا ہورہا ‘ یقین جانیئے یہ خوش نصیبی کہ آج بھی میاں نواز شریف کے ساتھ اپنی smoothورکنگ ریلیشن شپ کی برملا تعریف کرنے اور اندر باہر سے جمہوریت کے حامی جنرل باجوہ وہ سپاہی کہ جنہیں اُس پاک فوج کی قیادت کرنے پرفخر‘ جو دہشت گردی کے خلاف 15سالہ جنگ کے بعد اب کندن بن چکی‘جنہیں فخر کہ ان کا تعلق شہداء اورغازیوں کے خاندان سے‘ جیسے 6ستمبر 1965کو شہید ہوئے صفد ر باجوہ ‘ کھیم کرن محاذ پر دادِ شجاعت دینے والے کیپٹن احمد سعید باجوہ اورجنگ میں حصہ لے چکے والد کرنل اقبال باجوہ ‘ اس کے علاوہ فوج میں خدمات سر انجام دینے والے چوہدری احمد حسین باجوہ‘ چوہدری محمد حسین باجوہ اور غلام حسین باجوہ ‘لیکن صاحبو جو لوگ آزاد ملک اور آزادی جیسی نعمتوں کی بھی بے قدر ی اور ناشکری کریں اور جو آزادی کیلئے جانیں دینے والوں کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھیں ‘ان سے کیا توقع رکھنا ‘ مگر پھر بھی یہ دُکھ ضرور کہ ہربرائی اسٹیبلشمنٹ کے کھاتے میں ڈالتے دائمی بدگمانی کے مریض موجودہ فوجی قیادت کو یہ کریڈٹ بھی دینے پر تیا رنہیں کہ پاناما لیکس ہونے سے کیس چلنے تک اور وزیراعظم کی نااہلی سے حکومت بدلنے تک فارورڈ بلاک بنا‘ جوڑ توڑ ہوا اور نہ کوئی پارٹی ٹوٹی بلکہ جمہوریت قائم اور نظام موجود!
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com