سراج الحق کا احتساب مارچ۔ مقاصد اہداف ؟

جمعرات ستمبر    |    مزمل سہروردی

سراج الحق اپنے احتساب مارچ کے ساتھ لاہور سے اسلام آباد روانہ ہو ئے ہیں۔ عجیب بات ہے کہ نواز شریف جی ٹی روڈ سے اسلام آباد سے لاہور روانہ ہوئے۔ دونوں مارچ کا جہاں روٹ الٹ ہے وہاں مقاصد بھی الٹ ہی ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ سراج الحق نے تو اپنا ہدف حاصل کر لیا ہے۔ نواز شریف کو انہوں نے اقتدار سے علیحدہ کر لیا ہے تو پھر اب انہیں مارچ کی کیا ضرورت ہے۔ جب ہدف حاصل ہو گیا ہے تو اب مارچ کیوں۔
اس سوال کا جواب جاننے کے لئے صبح صبح منصورہ میں سراج الحق سے ملنے کا فیصلہ کیا۔

جب میں پہنچا تو وہ اپنے احتساب مارچ کے لئے تیار تھے۔ کارکن جمع تھے۔ جوش و خروش تھا۔ بہر حال ملاقات طے تھی اس لئے وہ ملے۔ میں نے کہا نواز شریف تو جی ٹی روڈ پر عوام سے یہ پوچھ رہے تھے کہ مجھے کیوں نکالا۔

(خبر جاری ہے)

آپ جی ٹی روڈ پر عوام سے کیا پوچھیں گے۔ وہ مسکرائے۔ کہنے لگے کہ ہم عوام کو بتائیں گے کہ صرف نواز شریف کے اقتدار سے علیحدہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ احتساب مکمل ہو گیاہے۔ میں نے کہا کہ پانامہ کیس میں آپ کی ساتھی مدعی جماعتیں تو یہی تاثر دے رہی ہیں کہ نواز شریف کو اقتدار سے علیحدہ کر دینے سے نہ صرف احتساب مکمل ہو گیا ہے بلکہ کرپشن کے خلاف جنگ بھی مکمل ہو گئی ہے۔

انہوں نے کہا جماعت اسلامی کا یہ موقف نہیں ہے۔ میں نے کہا میں کیا لوگ بھی یہ نہیں جانتے کہ جماعت اسلامی کا یہ موقف نہیں ہے۔ سب یہی جانتے ہیں کہ آپ نواز شریف کو نکالنے کے لئے روز سپریم کورٹ جاتے تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ آپ کو اس کا کریڈٹ کم ملا ہے اور آپ کے دوسرے دوست زیادہ کریڈٹ لے گئے ہیں۔ وہ خاموش رہے۔ میں بھی خاموش تھا۔ پھر انہوں نے خاموشی توڑتے ہوئے کہا کہ آپ کو تو پتہ ہے کہ جماعت اسلامی کی سپریم کورٹ میں پٹیشن صرف نواز شریف کے خلاف نہیں تھی بلکہ ہم نے تو پانامہ میں جتنے بھی نام تھے سب کے خلاف پٹیشن دائر کی تھی۔
یہ چار سو سے زائد ہیں۔ باقی دوستوں نے صرف نواز شریف کے خلاف پٹیشن دائر کی تھیں۔ ان کا احتساب صرف نواز شریف تک محدود تھا۔ ہم سب کے احتساب کی بات کر رہے تھے۔ جہاں تک کریڈٹ لینے کی بات ہے تو ان کا سفر مکمل ہو گیا ہے۔ ان کو منزل مل گئی ہے وہ فتح کا جشن منا سکتے ہیں۔ ہم تو سب کے احتساب کی بات کر رہے ہیں۔ ہمارا سفر ابھی ادھورا ہے۔ منزل ابھی دور ہے۔ اس لئے ہم کریڈٹ بھی نہیں لے رہے۔
میں نے کہا منزل کیا ہے۔
وہ کہنے لگے پہلی بات تو یہ ہے کہ سپریم کورٹ میں پانامہ کے دیگر کرداروں کے خلاف ہماری پٹیشن زیر التو اہے۔ یہ تو انصاف نہیں کہ پانامہ میں صرف نواز شریف کو سزا دے دی جائے باقی سب کو معافی دے دی جائے۔ سب کو سزا دینی ہو گی۔ باقی کہتے تھے صرف نواز شریف کو سزا دیں۔ ہمار ان کا سفر صرف نواز شریف تک مشترک تھا۔ ہم نے یہ کہا تھا شروع نواز شریف سے کیا جائے کیونکہ وہ وزیر اعظم ہیں ملک کے بڑے ہیں۔ احتساب چھوٹوں سے نہیں بڑوں سے شروع کیا جائے۔
لیکن ہما ری اور عمران خان کی پٹیشن میں ایک بنیادی فرق تھا اور ہے کہ ہم نے سب کے نام دیے تھے۔ اور اب ہم نکلے اسی لئے ہیں کہ سپریم کورٹ ہماری باقی پٹیشن بھی سنے اور پانامہ کے باقی کرداروں کو بھی انجام تک پہنچایا جائے۔ میں نے کہا اس میں تو آپ کے دوستوں کے دوست بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کوئی بھی ہو۔ میں یہ مانتا ہوں کہ ٹیکس چوری جائز نہیں قرار دی جا سکتی۔ اور یہ آف شور کمپنیاں ٹیکس چوری اور چوری کا پیسہ چھپانے کے لئے بنائی گئی تھیں۔
ایک ایک کمپنی اور اس کے مالک کا احتساب ہو نا چاہئے۔
سراج الحق غصہ میں لگ رہے تھے ۔ میں نے کہا کہ آپ کو غصہ ہے کہ سپریم کورٹ آپ کی باقی پٹیشن نہیں سن رہا ہے۔ انہوں نے کہا میں اس پر خوش تو نہیں ہو سکتا۔ احتساب نواز شریف سے شروع کر کے نواز شریف پر ختم کیا نہیں کیا جا سکتا۔ ہم اس مارچ سے سپریم کورٹ کی توجہ اس جانب مبذول کروانا چاہتے ہیں کہ وہ ہماری باقی پٹیشن سنے اور پانامہ کے تمام کرداروں کو انجام تک پہنچائے۔
جماعت اسلامی چپ کیسے بیٹھ سکتی ہے۔ ہم نواز شریف کو ہٹانے کی کسی گیم کے حصہ دار نہیں تھے۔ہمیں اس کا کریڈٹ بھی نہیں چاہئے۔ ہم مکمل احتساب کے لئے نکلے ہیں اور ہمیں اسی کا کریڈٹ چاہئے۔
سراج الحق نیب سے بھی خوش نہیں۔ میں نے کہا دیکھیں نیب نے کتنا زبردست کام کیا ہے ۔سپریم کورٹ کی مقررہ مدت میں شریف فیملی کے خلاف ریفرنس دائر کر دیے ہیں۔ انہوں نے کہا باقی ریفرنس کون دائر کرے گا۔ کیا ہر بار نیب کو سپریم کورٹ ہدایت دے گا تو وہ ریفرنس دائر کرے گا۔

سراج الحق اس بات پر بھی پریشان ہیں کہ ہمارے ملک میں دو نیب ہیں۔ ایک حکمرانوں کا نیب ایک عام آدمی کا نیب۔ جب عام آدمی نیب میں پھنس جائے تو اس کے اثاثے بھی ضبط اور اکائو نٹس بھی منجمند نام بھی ای سی ایل میں۔ اور جب حکمرانوں کا ریفرنس آجائے تو کھلی چھٹی ہم ایسے کیسے چل سکتا ہے۔ نواز شریف نااہل اور آصف زرداری اہل کیسے ہو سکتاہے۔ ایک کو سزا اور ایک کو باعزت بری کا دوہرا معیار کیسے چل سکتا ہے۔
ایک کی آف شور کمپنیاں ناجائز اور دوسرے کی جائز کیسے ہو سکتی ہیں۔ اسی طرح اسحاق ڈار کا معاملہ ہی دیکھ لیں ۔جب ان کے خلاف ریفرنس دائر ہو گیا ہے تو انہیں خود ہی وزارت سے استعفیٰ دے دینا چاہئے۔
میں نے کہا اس طرح تو اب آپ کے اور عمران خان کے راستے جدا ہیں۔ وہ تو سب کے احتساب کی بات نہیں کرتے وہ صرف شریف خاندان کے احتسا ب کی بات کرتے ہیں۔ سراج الحق مسکرائے اور کہنے لگے ہم اکٹھے کب تھے۔
ان کا اپنا ایجنڈا ہے۔ ہمارا اپنا ٰایجنڈا ہے۔ آپ کو یہ فرق نظر نہیں آتا۔
سراج الحق کا احتساب مارچ کامیاب ہو گا یا نہیں۔ یہ ایک مشکل سوال ہے۔ کیا وہ سپریم کورٹ پر یہ دبائو ٖڈالنے میںکامیاب ہو جائیں گے کہ ان کی باقی ماندہ پٹیشن سنی جائے۔ اور پانامہ کے باقی کرداروں کا بھی نواز شریف جیسا احتساب کیا جائے۔ کیا سراج الحق نیب کو اتنے دبائو میں لانے میں کامیاب ہو جائیں گے کہ باقی زیر التوا ریفرنس بھی دائر کر دے۔
مجھے مشکل نظر آتا ہے۔ ایک احتساب مارچ ناکافی ہے۔ یہ اس سفر کا آغاز تو ہو سکتا ہے۔ منزل نہیں۔ لیکن سراج الحق کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ کام ادھورا چھوڑ دیتے ہیں پہلے انہوں نے ٹرین مارچ بھی کیا تھا لیکن پھر خاموش ہو گئے۔ اس لئے اگر وہ اس حتساب مارچ کے بعد پھر خاموش ہو گئے تو کچھ نہیں ہو گا۔ وہ ایک مشکل لڑائی لڑنا چاہتے ہیں۔ اس کے لئے انہیں دن رات ایک کرنا ہو گا۔ فوکس کرنا ہو گا۔ ایک ہی کام کرنا ہو گا۔ وہ مکمل احتساب تک آرام سے نہیں بیٹھ سکتے۔ کیا وہ ایسا کر سکتے ہیں۔ بس یہی سوال ہے۔ ورنہ جماعت اسلامی کے پاس باقی جماعتوں سے زیادہ سٹریٹ پاور ہے۔ اور وہ کچھ بھی کر سکتی ہے۔

© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com