سکرپٹ رائٹرز کے ناکام مفروضے

پیر فروری    |    عمار مسعود

نواز شریف کی نااہلی کے اقدام کے بعد اس ملک کے منصوبہ ساز سکرپٹ رائٹرز کی کہانی کے تمام کردار بغاوت پر آمادہ نظر آتے ہیں۔ کچھ بھی وہ نہیں ہو رہا جس کے لیئے کہانی لکھی گئی تھی۔ کچھ بھی وہ نہیں ہو رہا جس کے لیئے یہ سب سٹیج سجائی گئی تھی۔ کمزور کہانی کی وجہ سے نہ صرف تمام تدبیریں الٹی پڑ گئیں بلکہ بنا بنایا کھیل بھی بگڑ گیا۔ نواز شریف کی نااہلی تک سب مہرے ٹھیک ٹھیک بیٹھ رہے تھے۔ حسب منشاء جے آئی ٹی بنائی گئی۔
اس متنازعہ جے آئی ٹی میں من پسند لوگ جمع کیئے گئے۔ اپنی پسند کے ثبوت پیش کیئے گئے۔ اپنی پسند کی دلیلیں دی گئیں۔ کہانی میں سسلین مافیا جیسے ڈائیلاگ بول کر عوام کے ذہن کو تیار کیا گیا۔ کرپشن کے الزامات کی بھر مار کی گئی اور جب ثبوت کی باری آئی تو سوائے ایک اقامے کے کچھ بھی نہ ملا۔

(خبر جاری ہے)

لیکن قصہ مختصر ایک اقامے کا بہانہ بنا کر تیسری دفعہ منتخب وزیر اعظم کو کھڑے کھڑے فارغ کر دیا گیا۔ یہاں تک تو سب کچھ سکرپٹ کے مطابق سوچا گیا لیکن اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ کسی کے گمان میں نہیں تھا اور ایسا اس ملک کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا ہے۔


عام خیال کے مطابق سوچا یہ گیا تھا کہ جیسے ہی نواز شریف نا اہل ہوں گے پارٹی میں پھوٹ پر جائے۔ نوز شریف کرپشن کے الزام لگنے کے بعد چپ چاپ منہ چھپائے گھر چلے جائیں گے۔مسلم لیگ ن کا ایک اور ونگ تیار کھڑا ہوگا۔ وقتی طور پر جو وزیر اعظم لگایا جائے گا سب سے پہلے وہ ہی بغاوت کر دے گا۔ پھر فصلی پرندوں کی باری آئی گی۔ساٹھ سے ستر اراکین سکرپٹ کے مطابق اپنی نئی تجویز کردہ راہ پر چل پڑیں گے۔پارٹی قیادت میں بحرانی کیفیت ہو گی۔
بھائی بھائی کے مقابل آ جائے گا۔اس صورت حال کا فائدہ عمران خان کو پہنچے گا۔ تحریک انصاف ایک دم زور پکڑ جائے گی۔ عوامی رائے عامہ عمران خان کو جگہ جگہ خراج تحسین پیش کرے گی۔ کرپشن کے خلاف مہم چلانے پر اپوزیشن اچانک سے ہیرو بن جائے گی۔ اپوزیشن کے احتجاج کو ہلہ شیری دینے کے لیئے مذہبی کارڈ کھیلا جائے گا۔ مذہب کے نام پر باقی ماندہ حکومت کے پر خچے اڑا دیئے جائیں گے۔ حتی کہ ایک بڑی اکثریت مسلم لیگ ن کو کافر ، ملحد اور نافرمان قرار دے دے گی۔
ملک میں بد امنی بڑھے گی تو جگہ جگہ احتجاج ہوں گے۔ ان احتجاجوں سے تنگ آ کر کئی صوبائی اسمبلیاں توڑ دی جائیں گی۔ سینٹ کے الیکشن سے پہلے ایک آئینی اور قانونی بحران پیدا ہو جائے گا۔ جس کے نتیجے میں ایمر جنسی کی صورت حال پیدا کر کے ایک ٹیکنو کریٹس کی حکومت لائی جائے گی۔جس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ بین الاقوامی دنیا کی جانب سے گھر صاف کرنے والے دباؤکا مقابلہ کرنے کا فریضہ، پھر سکرپٹ رائٹرز کو سونپ دیا جائے گا اور راز کی باتیں راز ہی رہ جائیں گی۔
گمان ہے کہ یہ سوچا گیا ہو گا کہ ابتداء میں اس ٹیکنو کریٹ حکومت کا ایجنڈا صرف الیکشن کروانا ہو گا لیکن حالات کے تقاضے کو سمجھتے ہوئے اس حکومت کا دروانیہ طویل ہوتا جائے گا اور تین سال تک یہ نظام ملک میں رہے گا۔ تین سال تک لوگ نواز شریف کا نام بھی بھول چکے ہوں گے۔ کئی نئی پارٹیاں مسلم لیگ ن کے بطن سے پیدا ہو چکی ہوں گی اور کہانی کا انجام سکرپٹ رائٹرز کے اختیار میں ہو گا۔ وہ اپنی مرضی سے اس ملک میں کردار تخلیق کریں گے جس کو چاہیں گے ہیرو بنائیں گے اور جس کو چاہے ولن کا کردار تفویض کریں گے۔
جس کو چاہے کافر کہیں گے اور جس کو چاہے غدار کے لقب سے پکاریں گے۔خوش قسمتی سے جوکچھ سکرپٹ رائٹرز نے سوچا تھا وہ سب کچھ نہیں ہوا۔ ہر میدان میں بساط الٹ گئی اور ہر مہرہ دغا دے گیا۔
نواز شریف نے منہ چھپا کر چپ چاپ گھر جانے کے بجائے جی ٹی روڈ سے واپسی کا فیصلہ کیا اور اس ایک فیصلے نے سارا بنا بنایا کھیل ہی بگاڑ دیا۔ اس کے بارے میں نہ سکرپٹ میں کوئی نوٹس موجود تھے نہ اس صورت حال کے لئے کوئی پیش بندی کی گئی تھی۔
جے ٹی روڈ کے سفر میں راولپنڈی اور گوجر خان تک تو صورت حال قابو میں رہی مگر جہلم سے آگے پہنچ کر عوام کے ضبط کے تمام بندھن ٹوٹ گئے۔ جہلم سے آگے جہاں جہاں یہ قافلہ جمہوریت گذرتا گیا وہاں وہاں لوگوں کے خون میں مجھے کیوں نکالا کا نعرہ سماتا گیا۔بحالی عدل تحریک زور پکڑتی گئی اور نواز شریف کا بیانہ دلوں میں گھر کرنے لگا۔ لاہور تک پہنچتے پہنچتے نواز شریف بھی بدل چکے تھے اور اس ملک کی تاریخ بھی بدل چکی تھی۔
عوام کی قوت کسی بھی سیاسی لیڈر کو توانا رکھتی ہے اس ایک سفر نے نواز شریف کو بھرپور قوت عطا کی جس کا شائد انکو بھی اندازہ نہیں تھا۔عوام کی محبت کا ہی نتیجہ تھا کہ فصلی بٹیرے جو پارٹی قیا دت سے بغاوت کے لیے پر تول رہے تھے وہ سہم گئے اور پارٹی میں پھوٹ ڈالنے خواب تعبیر نہ ہو سکا۔ ساٹھ سے ستر ارکان تو ایک طرف ایک کونسلر تک نے استعفی نہ دیا۔جس سے سکرپٹ رائٹر کی نااہلی اور ناسمجھی کا بخوبی انداز ہوتا ہے۔
جلدی میں منتخب کیئے گئے وزیر اعظم نے جیسے ہی عنان حکومت سنبھالی وہ دن رات اپنے کام میں جت گئے۔ سب منصوبے پھر اسی رفتار سے پھر پایہ تکمیل تک پہنچنے لگے۔ اس پر طرہ یہ کہ شاہد خاقان عباسی جگہ جگہ کہہ رہے ہیں ان کا وزیر اعظم نواز شریف ہے۔اس قسم کی صورت حال کے لئے سکرپٹ میں کوئی گنجائش نہیں تھی ۔ شائد سکرپٹ رائٹرز کے ذہن میں کوئی عمران خان جیسا شخص تھا جو وازرت عظمی کی کرسی تک پہنچنے کے لئے کچھ بھی کر سکتا ہے، کسی بھی حد تک گر سکتا ہے۔
شاہد خاقان عباسی نے سکرپٹ رائٹرز کی لٹیا ہی ڈبو دی۔ یہ مفروضہ کہ نواز شریف کی نااہلی سے عمران خان کی مقبولیت میں اضافہ ہوگا جی ٹی روڈ پر ہی دم توڑ گیا اور اگر اس مفروضے کے جسد خاکی میں اگر زندگی کی کوئی رمق بھی تھی تو لاہور میں اپوزیشن کے ناکام ترین جلسے کے بعد وہ بھی ختم ہو گئی۔ تمام اپوزیشن پارٹیز کی جانب سے مشترکہ طور پر اتنا شرمناک شو کسی کے وہم گمان میں بھی نہیں تھا۔ ادھر خارجہ کے معاملات بھی نہیں سنبھل رہے خواجہ آصف دنیا بھر میں جا، جا کر کہہ رہے ہیں کہ ماضی میں ہم سے غلطیاں ہوئیں ہیں اور ہمیں علم ہے کہ ہمیں اپنا گھر صاف کرنے کی ضرورت ہے۔
اگر چہ دنیا بھر میں یہ سیدھا ، سچا اور کھرا بیانیہ مقبول ہو رہا ہے مگر اس سے سکرپٹ رائٹرز کا مقصد فوت ہو رہا ہے۔دوسری جانب مذہب کا کارڈ پوری شدت سے کھیلا گیا پہلے خادم رضوی میدان میں تشریف لائے اور پھر سیالوی صاحب نے محاذکھول لیا۔ خادم رضوی سڑکیں تو بند کروانے میں کامیاب ہو گئے مگر اپنی دشنام طرازی کے سبب دلوں میں گھر کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ دوسری جانب سیالوی صاحب نے تو ابتداء میں یہی تاثر دیا کہ اب وہ حکومت گرانے کے درپے ہیں مگر پھر اچانک سکرپٹ رائٹرز کا کچا چھٹا چوک میں کھول دیا۔
اس صورت حال کا بھی سکرپٹ رائٹرز کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ لاہور کے ناکام ترین جلسے میں میں شیخ رشید نے آخری کوشش کے طور پر اسمبلیوں سے استعفی دلوانے کی ناکام کوشش کی مگر اس دفعہ بھی ناکامی مقدر ہوئی۔ اس تمام ہزیمت سے گذرنے کے بعد سکرپٹ رائٹرز پر منکشف ہو گیا تھا کہ اب سینٹ کے الیکشن نہیں رک سکتے تو بلوچستان اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد لا کر معاملہ تلپٹ کرنے کا سوچا گیا اور اس دفعہ محمود خان اچکزئی نے اس سارے منصوبے میں اداروں کے ملوث ہونے کا بھانڈا پھوڑ دیا۔

اب صورت حال یہ ہے سینٹ کے الیکشن ہونے کا امکان ہو گیا ہے۔ مسلم لیگ ن کی سینٹ میں اکثریت حاصل کرنے کا امکان ہو گیا ہے۔ عام انتخابات ہونے کا امکان ہو گیا ہے۔۔ اب نا اہل ہو کر نواز شریف، وزیر اعظم سے کہیں زیادہ طاقت ور ہو گئے ہیں۔ ۔ ان کا بیانہ روز بروز مقبول ہو رہا ہے۔ عوامی پذیرائی ان کو حاصل ہے۔ ان کے بیانے کے مقابلے میں کوئی بیانہ باقی نہیں رہا۔ 2018 کے انتخابات کے نتائج اب نوشتہ دیوار ہیں ۔
لیکن ناکام اور نامراد سکرپٹ رائٹر ابھی بھی اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں ۔ انتخابات تک ابھی کہانی میں ایک ہزار موڑ آئیں گے۔ لیکن عوام کی قوت کا ابھی تک سکرپٹ میں کوئی علاج تجویز نہیں کیا گیا۔ سکرپٹ رائٹر کی اس ناکامی کا سب سے زیادہ نقصان انکے اپنے ادارے کو ہوا ہے۔ اس حد تک غلط منصوبہ بندی پر مقتدر قوتوں کو ناکام اور نا اہل سکرپٹ رائٹرز کے ہاتھ سے منصوبہ سازی کی طاقت چھین لینی چاہیے جو کہ سکرپٹ رائٹرز کے لیے پھانسی سے بھی بڑی سزا ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com