ہمارے مدارس اور الومنائی!

بدھ فروری    |    محمد عرفان ندیم

بات یہاں تک پہنچی تھی کہ مغرب میں الومنائی ایسوسی ایشنز کیا خدمات سر انجام دے رہی ہیں ۔ پچھلے کالم میں ہم اس پر تفصیل سے بات کر چکے ہیں ۔ اب سوال یہ ہے کہ ہمارے تعلیمی ادارے اس وقت کس مقام پر کھڑے ہیں ، سر دست ہم مدارس سے بات شروع کرتے ہیں ، پاکستان کے دینی مدارس مذہب اور سماج کے درمیان پل کا کردار ادا کر رہے ہیں ، یہ وہ پل جس نے دنیا بھر کی سازشوں اور اپنوں کی منافقت کے باوجود پاکستانی سماج کو مذہب سے دور نہیں ہونے دیا ۔
پچھلی دو دہائیوں سے ساری دنیا ، دنیا کا سارا میڈیا اورپاکستان کے سارے لبرل مل کر ان مدارس کو مطعون کر نے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن اس کے بر عکس مدارس کا فیض بڑھتا جا رہا ہے ۔ آپ ساری دنیا گھوم لیں آپ کو پاکستان جیسا اسلامی معاشرہ ملے گا اور نہ ہی اتنے متدین مسلمان ، آپ کو اتنے باشرع مسلمان دکھائی دیں گے اور ہی اتنی باپردہ خواتین، حتی کہ آپ دنیا کے کسی کونے میں بھی چلے جائیں آپ کو پاکستانی مدارس کا کوئی فاضل یا تبلیغی جماعت کا کوئی کارکن ضرور مل جائے گا اور وہ مقامی لوگوں کی اصلاح وفلاح کے لیے متحرک بھی دکھائی دے گا ۔

(خبر جاری ہے)

یہ تصویر کا ایک رخ ہے، تصویر کا دوسرا رخ تھوڑا دھندلا اور افسوسناک ہے ۔ پاکستان میں اس وقت مدارس کے پانچ وفاق موجود ہیں ، ان پانچ وفاقوں میں لاکھوں طلباء زیر تعلیم ہیں ، ان میں سب سے بڑا وفاق وفاق المدارس کا ہے ، وفاق المدارس کے تحت اٹھارہ ہزار نو سواڑتالیس مدارس کام کر رہے ہیں ، ان میں اکیس لاکھ پچاسی ہزا ر چا ر سو چوالیس طلباء زیر تعلیم ہیں جبکہ ایک لاکھ ستائیس ہزار چون ا ساتذہ تدریس کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔
یہ وفاق 1959میں قائم ہوا تھا اور اب تک اس سے ایک لاکھ پچھتر ہزار چا ر سو بارہ علماء ، ایک لاکھ چھتیس ہزار تریسٹھ عالمات اور دس لاکھ چون ہزار پانچ سوا کیاون حفاظ فارغ التحصیل ہو چکے ہیں ۔ یہ تعداد کسی بھی این جی اور یا کسی بھی پرائیویٹ بورڈ کی کارکردگی سے کہیں ذیادہ ہے ۔ اب بھی ہر سال تقریبا دس ہزار علماء اور اتنی ہی تعداد میں عالمات مدارس سے فارغ التحصیل ہر کر نکل رہے ہیں ، سوال یہ ہے کہ یہ فارغ التحصیل طلباء کہاں کھپ رہے ہیں اور سوسائٹی میں کیا رول پلے کر رہے ہیں یہ دس بلین ڈالر کا سوال ہے لیکن اس سوال کی طرف ہم بعد میں آئیں گے ۔

ہم اس وقت اکیسویں صدی میں جی رہے ہیں ، اکیسویں صدی کے آغاز سے دنیا ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے ۔ مذہب ، سائنس ، سیاست، معیشت، تعلیم ، ٹیکنالوجی، علمیات، میڈیا، روشن خیالی ، آذادی اظہار، انٹر نیٹ ،سوشل میڈیا اور فرد کی آذادی جیسے نئے تصورات نے انسانی سماج کو نئی بنیادوں پر استوار کر دیا ہے ۔ انسانی زندگی کے ان تمام دائروں میں بنیادی اور جوہری تبدیلیاں واقع ہو چکی ہیں اور ارتقاء کا یہ سفر آئندہ بھی رکنے والا نہیں ۔
اس ساری تبدیلی کی بنیاد علم جدید ہے اور علم جدید کے پیچھے مغربی فکر و فلسفہ کھڑا ہے ۔ اس تبدیلی کے مثبت اور منفی پہلو کون سے ہیں اور ایک اسلامی سماج کے لیے یہ تبدیلیاں کہاں تک قابل قبول ہیں ، مذہب ان کے بارے میں کیا رویہ اختیار کرتا ہے اور ان نئے تصورات کے بارے میں کیا راہنمائی فراہم کرتاہے انسانی زندگی کا یہ پہلو تا حال تشنہ طلب ہے اور اس کی ذمہ داری ہمارے مدارس اور علماء پر عائد ہوتی ہے ۔
کیا مدارس اور علماء اپنی یہ ذمہ داری پوری کر رہے ہیں ؟ اس سوال سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جب ہم مدارس اور علماء کی بات کر رہے ہیں تو یہاں دو چیزیں ہیں ،ا یک ، ان کی نیت، دوسرا ان کا عمل، ہم ارباب مدارس کی نیت پر شک کرسکتے ہیں اور نہ مذہب کسی کی نیت کو زیر بحث لانے کی اجازت دیتا ہے ، ہم صرف ان کے عمل اور حکمت عملی پربات کر سکتے ہیں اور میرے ناقص خیال کے مطابق مدارس کے نظام اور حکمت علمی میں بہت ذیادہ بہتری کی گنجائش موجود ہے ۔
اگر ہم جائزہ لیں تو پاکستانی سماج کو زندگی کے مختلف دائروں میں مذہب کی راہنمائی کی ضرورت ہے اور یہ ضرورت ہمارے علماء ہی پوری کر سکتے ہیں، دوسرے لفظو ں میں مدارس اور علماء کے لیے یہ میدان خالی پڑے ہیں اور درست حکمت عملی نہ اپنانے کی وجہ سے یہ خلا بڑھتا جا رہا ہے ۔ وہ دائرے کو ن کون سے ہیں ، اس میں سب سے پہلے مساجد میں امامت و خطابت کا دائرہ ہے ، پھر فقہ افتاء کا دائرہ ہے ، تیسرا دائرہ وعظ و تبلیغ کا ہے ، چوتھا دائرہ شہروں ، گاوٴں دیہات میں بنیادی دینی تعلیم کا ہے ، پانچواں دائرہ میڈیا و ابلاغ کا ہے ، چھٹا دائرہ اسکول کالج اور یونیورسٹی میں اسلامیات کی تدریس کا ہے ، ساتواں دائرہ خود مدارس کی تعلیم اور درس نظامی کی تدریس کا ہے ، آٹھواں دائرہ جدید مسائل میں ریسرچ واجتہاد کا ہے ، نوواں دائرہ جدید مغربی فکر وفلسفہ اورلبرل افکارپر نقد و نظر کا ہے ، دسواں دائرہ تصنیف و تالیف کا ہے ، گیارواں دائرہ جدید بینکنگ، مالی اور اقتصادی مسائل کا ہے اور بارواں دائرہ سیاست اور سوشل ورک کا ہے ۔
سماج کے یہ اہم ترین دائرے ہیں جہاں انہیں مذہب کی راہنمائی درکار ہے اور ان دائرہ کے حوالے سے تفصیلی بات ہم اگلے کسی کالم میں کریں گے۔
اب ہم آتے ہیں اس سوال کی طرف کہ ہر سال دس ہزار کی تعداد میں فارغ ہو نے والے علماء اوراتنی ہی عالمات کہاں کھپ رہی ہیں اور سوسائٹی میں ان کا کیا کردار ہے ، ایک اندازے کے مطابق ان میں سے بیس فیصد طلباء عصری تعلیم میٹرک یا ایف اے کی تیاری میں مشغول ہو جاتے ہیں ، دس فیصد درس نظامی کی بنیاد پرکسی یونیورسٹی میں ایم فل اسلامیات میں داخلہ لے لیتے ہیں ، اتنے ہی طلباء سرکاری ملازمتوں میں کھپ جاتے ہیں اور تقریبا دس فیصد طلباء مختلف مسائل اور گھریلو مجبوریوں کے باعث محنت مزدوری شروع کر دیتے ہیں ۔
باقی صرف پچاس فیصد طلباء بچتے ہیں ، ان میں سے بھی دس فیصد ایسے ہوتے ہیں جنہیں کسی مسجد میں جگہ مل جاتی ہے اور وہ اپنے والد یا بھائی کی جگہ پر مسجد سنبھال لیتے ہیں ، بیس فیصد طلباء مختلف مدارس میں درس نظامی کی تدریس میں مشغو ل ہو جاتے ہیں ، پانچ فیصد ایسے ہوتے ہیں جو ایک سال کے لیے تبلیغی جماعت میں نکل جاتے ہیں اور جو باقی دس پندرہ فیصد بچتے ہیں وہ اپنا کو ئی ذاتی کارو بار کرتے ہیں یا وہ فارغ رہ کر زندگی کزارنے پر یقین رکھتے ہیں ۔
اب آپ اندازہ لگائیں کہ صرف چالیس پچاس فیصد طلباء ایسے ہوتے ہیں جو دین کے کسی کام میں جڑتے ہیں اوروہ بھی ان مذکورہ دائروں میں سے صرف دو تین کو ٹچ کرتے ہیں اور باقی میدان خالی پڑے رہتے ہیں ۔ ایک طرف یہ صورتحال ہے کہ اتنی بڑی ذمہ داری ان مدارس اور علماء کے کندھوں پر عائد ہو رہی ہے اور دوسری طرف یہ عالم ہے کہ خلا پر تو کیا ہو مزید بڑھتا جا رہا ہے ۔ اس پر مستزاد کہ جو طلباء اس خلا کو پر کرنے کے لیے مذکورہ دائروں میں رہ کر کام کررہے ہیں انہیں مناسب راہنمائی فراہم کرنے والا کوئی نہیں۔
جامعة الرشید نے اس حوالے سے جو قدم اٹھایا ہے وہ یقینا قابل تحسین اور لائق تقلید ہے ، سابق فضلا ء کا سالانہ اجماع، ان کی مناسب راہنمائی او ر الومنائی ایسوسی ایشن کا قیام یہ وہ اقدام ہیں جن سے مذکورہ خلا کر پر کیا جا سکتا ہے لیکن یہ صرف آغاز ہے ، ابھی صرف شروعات ہیں اوربہت کچھ کرنا باقی ہے ۔ دوسرے مدارس بھی اپنے طور پر اس روایت کو اپنا کر اپنے فضلاء کو معاشرے کی بہتری کے لیے تیا ر کر سکتے ہیں، اس سے سو نہیں تو دس بیس فیصد خلا تو پر ہو سکتا ہے اور ظلمتوں اور معصیتوں کے اس خوفناک جنگل میں اتنی سی روشنی بھی کسی نعمت سے کم نہیں ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com