شہرسے گاؤں تک

بدھ فروری    |    عمر خان جوزوی

پہلے جب گوناں گومصروفیت اور شہرکے شوروغوغاسے دل اداس،قدم بوجھل اورجسم میں تھکان محسوس ہونے لگتاتوہم چپکے سے گاؤں کی طرف نکل پڑتے کیونکہ گاؤں ہی ہمارے پاس نہ صرف شوروغوغاسے فوری نجات اورراحت وسکون کاواحدذریعہ تھابلکہ ٹینشن،ڈپریشن اورتھکان کودورکرنے کاایک آزمودہ نسخہ بھی ۔لیکن اسے دورجدیدکی خوش بختی کہیں یاہماری بدقسمتی کہ اب ہماراوہ آزمودہ نسخہ بھی بے اثراور شوروغوغاسے فوری نجات اورراحت وسکون کاواحدذریعہ بھی ایک ذرہ بن کے رہ گیاہے۔
چنددن پہلے جب ایک بارپھردل اداس،قدم بوجھل،کندھے بھاری اوردل ودماغ پربے چینی کی کیفیت طاری ہوئی ۔ہم بغیرکسی منصوبہ بندی اورسوچ وبچارکے گاؤں کی طرف چل پڑے۔بٹگرام ہماراضلع اورجوزآبائی گاؤں ہے جوشہرسے کم وبیش تیس چالیس منٹ کی مسافت پرشمال کی طرف واقع ہے ۔

(خبر جاری ہے)

اس علاقے میں زندگی کے شب وروزگزارنے والے ہمارے کئی بزرگ قیام پاکستان کی تحریک میں بھی پیش پیش رہے۔2005کے قیامت خیززلزلے تک یہ علاقہ کافی آبادرہالیکن اب یہاں آبادی سے زیادہ شہروں کی طرف ہجرت کرنے والوں کے نشانات یاباقیات ہیں ۔

ضلع بٹگرام کازیادہ ترحصہ پہاڑی علاقوں ،گھنے جنگلات اوربل کھاتی وادیوں پرمشتمل ہے،جوزسے چیل اورگنجانامی دوبلندوبالاپہاڑوں کابخوبی نظارہ کیاجاسکتاہے،علاقہ شملائی جہاں تحریک انصاف کے چےئرمین عمران خان نے ہائیڈروپاورپراجیکٹ کااپنے ہاتھوں سے افتتاح کیاتھاوہ اورایشیاکی سب سے بڑی چراگاہ وادی چوڑکے تانے بانے بھی ہمارے علاقے سے ملتے ہیں ۔یوں توبٹگرام چاروں طرف سے پھگوڑا،اجمیرہ،دیشان،ہوتل،میدان،ہل،سوڑگئی،میرانی،حبیب بانڈہ،کھڈلو،راجمیرہ،بٹہ موڑی،بانیاں،ٹکری،پشوڑہ جیسے درجنوں اورسینکڑوں چھوٹے چھوٹے خوبصورت گاؤں،دیہات اورعلاقوں سے آراستہ اوروابستہ ہے ۔
یہاں گھنے جنگلات کی کوئی کمی ہے نہ سرسبزوادیوں،آبشاروں،لہلہاتے کھیتوں اور صاف وشفاف چشموں کی کوئی قلت۔۔لیکن اس کے باوجودمیرے آبائی علاقے جوزسمیت اکثرعلاقوں اورگاؤں پرجدیدیت نے اپنارنگ چڑھادیاہے۔وہ چشمے جہاں سے گاؤں اورعلاقوں کی خواتین ،بچے اوربچیاں مٹی کے برتنوں اورمٹکوں میں پانی لایاکرتی تھیں وہ چشمے اسی طرح قائم توہیں لیکن اب ان چشموں سے پانی لانے والے کوئی نہیں ،گاؤں کی سطح پربننے والے وہ حجرے جہاں علاقے کے معززاوربزرگ لوگ ایک ساتھ جمع ہوکرآپس میں پیاراورمحبت بانٹتے تھے اب کئی علاقوں اورگاؤں میں تووہ حجرے سرے سے ہے نہیں اورجہاں ہیں اب وہاں بلی ،چوہے اورکتوں سمیت دیگرجانورنیندکے مزے اڑاکردندناتے پھررہے ہیں ، گاؤں کی خاصیت یہ تھی کہ وہاں ملاوٹ سے پاک قدرتی پھل،سبزیاں اوردیسی کھانے کھائے اورکھلائے جاتے تھے لیکن اب توگاؤں کے لوگ بھی ساگ،مکئی کی روٹی اورلسی سے ناآشناء ہوچکے ہیں ۔
مٹن کی بواورچکن کی چوں چوں شہروں کے ساتھ اب ان گاؤں میں بھی ہرطرف سنائی دیتی ہے،وہ ہاتھ جس میں نورانی قاعدے،سپارے اوربستے ہواکرتے تھے اب ان ہاتھوں تک بھی تھری جی اورفورجی والے جدید موبائل پہنچ چکے ہیں ،وہ زرخیزمٹی ،کھیت اورزمین جس پرسال کے بارہ مہینے کھدال اورہل کے وارچلتے تھے۔۔جس کوپانی پرپانی دیاجاتاتھا اب وہ زمین بھی اپنی بدقسمتی اوربنجرہونے پرآنسوبہاتے ہوئے دکھائی دے رہی ہے۔
وہ گاؤں اورعلاقے جہاں ہربچی اپنی بچی اورہرگھراپناگھرہواکرتاتھااب وہاں کے مکینوں کو وبھی جان،مال اورعزت کی حفاظت کی فکراندرسے کھائی جارہی ہے،جھوٹ ،فریب،دھوکہ دہی،نوسربازی،چوری،ڈکیتی،منافقت،بغض،حسد،کینہ اورقتل وغارت جیسی بیماریاں جوان گاؤں اوردیہات میں نایاب ہواکرتی تھیں اب یہ ساری بیماریاں،خرافات اورگناہ یہاں بھی منوں کے حساب سے ہرجگہ دستیاب ہیں ۔ بغض،حسد،کینہ اورمنافقت کی وجہ سے آج گاؤں اوران دیہات میں رہنے والے لوگ شہروں میں زندگی گزارنے والوں سے بھی زیادہ اپنی پریشانیوں اورمسائل کے ہاتھوں مصروف ہیں،اسی وجہ سے وہ گاؤں اورعلاقے جہاں کل تک راحت وسکون،پیاراورمحبت کی ہوائیں چلتی تھیں اب ہرطرف نفسانفسی کاعالم دکھائی دے رہاہے،ہمارے بزرگ ساگ،مکئی کی روٹی اورلسی کھاکرسکون سے زندگی گزاررہے تھے لیکن آج انہی کے گھروں میں مٹن،چکن اوربریانی کھانے والوں کوچین اورسکون نصیب نہیں، وہ علاقے جہاں پیار،محبت اورامن کے گیت گائے جاتے تھے آج وہاں اپنوں اوربیگانوں کی غیبت کرکے زندہ انسانوں کاگوشت کھایااورنوچاجارہاہے۔
ہل چلانے والاکام چھوڑاورکھدال پھینک کرہاتھوں میں موبائل اورلیپ ٹاپ توہم نے تھام لئے لیکن سکون ہم پھربھی حاصل نہ کرسکے،تھری جی فورجی اورموبائل انٹرنیٹ استعمال کرناکوئی گناہ نہیں لیکن جدیدیت کے نام پراخلاقیات کاجنازہ نکالنایہ بھی ہرگزمناسب اورمیرے جوانوں اوربچوں کاشایان شان نہیں ،ماناکہ اللہ کی دی ہوئی ہرنعمت اورسہولت سے استفادہ کرناہرانسان کابنیادی حق لیکن جدیدسہولیات کواستعمال کرتے ہوئے ہمارے ان گاؤں اوردیہات کے جوانوں کواپنی روایات اوراخلاقیات کادامن بھی ہاتھ سے نہیں چھوڑناچاہئے۔
ہمارے بزرگوں نے قیام پاکستان کی تحریک میں نمایاں قربانیاں دیں ،وہ جب تک زندہ تھے انہوں نے پیار،محبت ،امن اورملک وقوم کی ترقی کے لئے کوئی بھی قدم اٹھانے سے دریغ نہیں کیا،یہ ہمارے ان بزرگوں کی محنت اورمحبت ہی تو تھی کہ ہمارے آبائی ضلع بٹگرام نے تعلیم،سیاست،صحافت سمیت ہر شعبے میں ملک وقوم کو بڑے بڑے نام دےئے،مری کے شاہدخاقان عباسی اگروزیراعظم اورمانسہرہ کے سرداریوسف اگروفاقی وزیربن سکتے ہیں توپھربٹگرام کاکوئی جوان صدر،وزیراعظم اوروزیرکیوں نہیں بن سکتا۔
۔؟ ساگ،مکئی کی روٹی اورلسی کی جگہ مٹن ،چکن اوربریانی کھانایہ کوئی ترقی نہیں نہ ہی قلم کتاب کوچھوڑکرموبائل پرسوارہونامنزل کی تلاش ہے ،ترقی تووہ ہوگی جب ملک معراج خالدکی طرح کسی گاؤں اوردیہات کے کسی غریب کاکوئی بچہ ملک کاوزیراعظم بنے گا،صدربنے گا،عالم بنے گا،ڈاکٹربنے گا،انجینئربنے گا،صحافی بنے گااورکھلاڑی بنے گا۔جدیدیت کے سائے میں وقت اورتعلیم کاضیاع ،بغض ،حسد،کینہ،جھوٹ ،فریب،دھوکہ ،چوری ،ڈکیتیاں اورقتل وغارت یہ ہمارے کام نہیں ،یہ کام بھی اگرہم نے کرنے ہیں توپھرگاؤں اورشہرمیں کیافرق۔
۔؟شہروں میں تواس طرح کے کام اس لئے ہوتے رہتے ہیں کہ یہاں ہرقوم ،قبیلے اوراچھے برے ہرقسم کے لوگ آبادہوتے ہیں لیکن گاؤں اوردیہات میں توایسانہیں ۔ موبائل ،انٹرنیٹ،مال ودولت،گاڑیاں،پلازے،جائیداد،ممبری،خانگی،نوابی اورسرداری اپنی جگہ لیکن ہمیں اپنی روایات اوربزرگوں کے اقدارکوایک لمحے کے لئے بھی نہیں بھولناچاہئے۔اپنے اعمال کی وجہ سے آج ہم امن،چین اورسکون کی تلاش میں مارے مارے پھرکردنیاکے سامنے تماشابن چکے،ہمارے بزرگوں کے پاس تونہ یہ جدیداسلحہ تھا،نہ موبائل تھے،نہ گاڑی تھی اورنہ ہی کھانے کیلئے یہ مٹن ،چکن اوربریانی،لیکن پھربھی وہ رات کوگھرکے برآمدوں اورصحن میں چارپائی بچھاکرکھلے آسمان تلے نیندکے مزے لیکرخراٹے مارتے تھے،آج کوئی گاؤں،کوئی علاقہ یاکوئی جگہ ایسی ہے جہاں کسی اندھیری رات ہم ٹانگیں پھیلاکرکھلے آسمان تلے ایک منٹ کے لئے بھی سوسکیں ۔
وقت نے بڑی تیزی کے ساتھ ہمیں بے وقعت کردیاہے۔آج دنیاکی ہرنعمت اورجدیدسے جدیدسہولت میسرہونے کے باوجودہماری زندگیوں میں چین ہے نہ سکون۔وہ گاؤں ،دیہات اورعلاقے جہاں کبھی امن کے گیت گائے جاتے تھے ،جہاں ہرسوپیاراورمحبت کی ہوائیں چلتی تھیں ،جہاں انسان قدرتی طورپرراحت وسکون محسوس کرتاتھا۔جہاں انسانوں کے ساتھ چرنداورپرندبھی خودکومحفوظ سمجھتے تھے۔اب وہاں نفسانفسی،افراتفری اورماردھاڑکاایک عالم ہے ۔امیرہے یاغریب سب مسائل اورپریشانیوں میں جکڑے ہوئے ہیں۔کوئی بھی محفوظ نہیں۔آخریہ کیوں۔۔؟اس بارے میں ہمیں اپنے گریبانوں میں ذرہ جھانکناچاہئے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com