باقی تو سارا مشن پورا ہو گیا ہے

منگل مارچ    |    عمار مسعود

کتنے خواب دیکھے تھے کہ اب سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ اب یہ ملک ترقی کرے گا۔ اب عوام کی حاکمیت ہو گی۔ اب نظریہ ضرورت ختم ہو جائے گا۔ اب جمہوریت کی گاڑی پٹری پر چل پڑی ہے اب سفر آگے ہی آگے کی جانب جائے گا۔ پہلا جمہوری دور جیسے کیسے لوگوں نے گذار لیا۔ دوسرا جمہوری دور پہلے سے بہتر تھا اور اگر عوام کے ووٹ کو تقدیس ملتی رہی تو پھر تیسرا دور اس سے بھی بہتر ہوگا۔ معیشت ترقی کرے گی۔ شاہراہیں تعمیر ہوں گی۔
تعلیم کے مسائل حل ہوں گے۔ غربت ختم ہو گی۔ بے روزگاروں کو روزگار ملے گا۔ زراعت میں ترقی ہو گی۔ صنعتیں پھلیں اور پھولیں گیں۔ یونیورسٹیاں تعمیر ہوں گیں۔ سکول بنیں گے۔ ہسپتال میسر ہوں گے ۔ پاکستانی پاسپورٹ کو عزت ملے گی۔ بیرون ملک پاکستانی ، پاکستان آکر بسیں گے۔

(خبر جاری ہے)

سرمایہ کاری ہوگی۔ سی پیک کے ثمرات عام آدمی تک پہنچیں گے۔ دہشت گردی ختم ہوگی۔ حبس کے دور سے نجات ملے گی۔ جبر کی زنجیریں ٹوٹ جائیں گی۔

آزادی اظہار میسر ہو گی۔ راستے، منزل بنیں گے۔ قدامت پسندی دم توڑ جائے گی۔ جدت ہمارا مقدر بنے گی۔ دہائیوں سے پس ماندہ کروڑوں زندگیوں کو سانس لینے کی جسارت ملے گی۔ زندی کو ایک نئی روشن اور پرنور عبارت ملے گی۔
لیکن سب خواب پورے نہیں ہوتے۔ جمہوریت کا خواب بھی خواب ہی رہ گیا ہے۔ ایسے لگتا ہے اس خواب کی تعبیر اس قوم کے مقدر میں نہیں۔ یہی ملک تھا چند ماہ پہلے کیسی مختلف صورت حال تھی۔ روز نئے پراجیکٹس کا افتتاح ہو رہا تھا۔
بین لاقوامی سطح پر روابط ہو رہے تھے۔ سٹاک مارکیٹ اوپر ہی اوپر جا رہی تھی۔ ووٹ پر لوگوں کا اعتماد بحال ہو رہا تھا۔ لوگ اپنے نمائندوں سے کارکردگی طلب کر رہے تھے۔ لوڈ شیڈنگ ختم ہو رہی تھی۔ انرجی کرائسس دم توڑ رہا تھا۔ ریلوے کی صورت حال بہتر ہو رہی تھی۔ گیس کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا تھا۔ موٹر ویز بن رہیں تھیں ۔ الیکشن کی تیاریاں ہو رہی تھیں ۔ مردم شماری ہو رہی تھی۔ نئی حلقہ بندیوں پر کام ہو رہا تھا۔
دنیا دبے دبے لفظوں میں پاکستان کی تعریف کرنے پر مجبور ہو رہی تھی۔ لیکن اس سارے جمہوری عمل کو انصاف کے نام پر زمیں بوس کر دیا گیا۔ سار سفر اکارت گیا۔ ساری محنت مٹی میں مل گئی۔ ہم پھر ماضی کی طرف لوٹ گئے۔ روشنیاں اچانک گل ہو گئیں ۔ امیدیں اچانک دم توڑ گئیں۔
دیکھتے ہی دیکھتے ایک جمہوری وزیر اعظم ایک بے بنیاد الزام پر نا اہل قرار پایا۔ وزیر خزانہ پر نام نہاد کرپشن کے الزامات لگنے لگے۔
ایک خاندان کو مائنس کرنے کا نعرہ سامنے آنے لگا۔ پنجاب حکومت کے دہائیوں پرانے کیسسز کھلنے لگے۔ وزرا ء کی فعالیت مشکوک قرار دے دی گئی۔ انتظامیہ ہر وقت فاضل عدالت میں حاضر رہنے لگی۔ جس کو چاہے منٹوں کے نوٹس پر بلا لیا گیا۔ جس کو چاہے سرعام بے عزت کر دیا گیا۔ وہ وہ ریمارکس دیئے گئے جو دنیا کے سامنے ہماری تضحیک کا باعث بن گئے۔ انصاف کے نام پر انتقام کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ آئے روز پیشیاں ہونے لگیں۔
جے آئی ٹی جیسے ہیرے دریافت کیئے گئے۔ جمہوری وزیر اعظم کے خلاف نام نہاد ثبوت بڑی بڑی پیٹیوں میں میڈیاکے سامنے پیش کیے گئے۔ بدنام زمانہ والیم دس کا ذکر ہونے لگا۔ چند ماہ پہلے والی صوت حال بالکل بدل گئی۔۔ ترقی ، تنزلی میں بدلنے لگی۔ دنیا پھر سے ہمیں آنکھیں دکھانے لگی۔ اب کسی بات کا یقین نہیں ہو رہا۔ اب کچھ سجھائی نہیں دے رہا۔
سینٹ کے الیکشن کی مثال آپ کے سامنے ہے ۔ سیدھی سی بات کا کیسا المناک انجام سامنے آ رہا ہے۔
کیا، کیا کھلواڑ ہو رہے ہیں۔ پارلیمان کے تقدس کو کس کس حیلے سے پامال کیا جا رہا ہے۔ کھیل کی ابتداء پہلے بلوچستان اسمبلی سے ہوئی۔ جانے کس کے ایماء پر اچانک بغاوت ہوگئی۔ اس بغاوت کے پیچھے خفیہ ہاتھ اب اتنے خفیہ بھی نہیں رہے۔ پھر پارلیمنٹ کے الیکشن سے پہلے ملک کی سب سے بڑی جمہوری پارٹی کو اس کے نام سے محروم کر دیا گیا۔آزاد امیدواروں کے نام پر منڈی لگا دی گئی۔ پھر اچانک چار منتخب سینٹروں پر دوہری شہرت کا گمان ہونے لگا۔
سندھ میں ایک سازش کے تحت ایم کیو ایم کے ووٹ پیپلز پارٹی کو پہنچا دئیے گئے۔پھر چیئرمین سینٹ کے نام پر جھگڑے ہونے لگے۔ ہر جمہوریت پسند کی راہ میں روکاوٹیں کھڑی کی جانے لگیں۔ ارکان کی خرید و فروخت مویشیوں کی طرح شروع ہونے لگی۔ ابھی چیئرمین سینٹ کے بننے اور نو منتخب سینیٹرز کے حلف اٹھانے میں کچھ دن ہیں۔ جانے ان چند دنوں میں کیا ہو جائے۔ کون سا فرمان کس کو نا اہل کر دے اور کس کے ماتھے پر سہرا سجا دے۔
یہ سب کچھ ہم سب کے سامنے ہو رہا ہے اور اس سسٹم کو بچانے کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی۔ پارلیمان کو بے بس کر دیا گیا ہے۔ انتظامیہ کو نت نئے احکامات سے معطل کر دیا گیا ہے۔خفیہ ہاتھ پوری تندہی سے اپنے کام میں مگن ہیں۔ جمہوریت کا جنازہ دھوم دھام سے نکل رہا ہے۔
مفروضہ یہ تھا کہ سینٹ کے شفاف الیکشن ہو جائیں تو پھر عام انتخابات کی راہ میں کوئی روکاوٹ باقی نہیں رہے گی۔پھر راج کر ے گی خلق خدا۔
مگر اس ملک میں ابھی یہ منزل بہت دور ہے۔ اب جمہوریت پسندوں کی مشکلیں آسان نہیں ہوئیں۔ سینٹ کے الیکشن کے حشر نشر کو دیکھنے کے بعد اب عام انتخابات سے بہت زیادہ توقع رکھنا ممکن نہیں لگتا۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ جس پارٹی کو لوگ ووٹ دیں اس کو برسر اقتدار آنا چاہیے۔ لیکن ایسا ممکن نظر نہیں آتا ۔ اب اعتبار اٹھتا جاتا ہے۔ جانے کون کون سے کھیل عام انتخابات سے پہلے کھیلے جائیں۔ کون کون سے سانپ پٹاری سے نکالے جائیں۔
اب وسوسے دل میں پل رہے ہیں ، خدشات سر اٹھا رہے ہیں۔ کیا معلوم ملک کی سب سے بڑی جمہوری جماعت پر الیکشن میں شمولیت پر قدغن لگ جائے۔ کیا معلوم سب سے بڑی جماعت کے انتخابی نشان کو تبدیل کر دیا جائے۔ کیا معلوم حلقہ بندیوں کے نام پر کیا تماشے کیئے جائیں۔ کیا معلوم نواز شریف اور مریم نوز کو جیل میں ڈال دیا جائے۔ کیا معلوم کسی عدالتی حکم کے تحت انتخابی پوسٹر پر نواز شریف کی تصویر لگانے پر ممانعت کا حکم ا ٓجائے۔
کیا معلوم نواز شریف کی تقریر پر پابندی لگ جائے۔ کیا معلوم کیا ہو جائے۔
اب جو کچھ ہو رہا ہے یہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ ایسا تو آمریت کے تاریک ادوار میں ہوتا تھا۔ ایسا تو ڈکٹیٹروں کے زمانے میں ہوتا تھا۔ ایسا تو آئین کی دھجیاں اڑانے والے کیا کرتے تھے۔ یہ وطیرہ جموری ادوار کا نہیں ہے۔ اب اس بات پر یقین کرنا مشکل ہے کہ یہ کوئی جمہوری دور ہے۔ ایسا لگتا ہے آمریت کا سانپ ہمیں پھر ڈس چکا ہے۔ اب خفیہ ہاتھ سامنے آئے بغیر ہی تاک تاک کر نشانے لگائے جا رہے ہیں ۔ اب ڈکٹیٹر روپ بدل کر ہمارے سر پر بیٹھ گئے ہیں ۔ اب ووٹ کے تقدس کے ساتھ وہی سب کچھ ہو رہا ہے جو آمروں کو وطیرہ رہا ہے۔جو ڈکٹیٹروں کی روایت رہی ہے۔ موجودہ صورت حال کو دیکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان جمہوریت کش طاقتوں کا باقی تو سارا مشن پورا ہو گیا ہے بس اب پی ٹی وی فتح کرنے کا مرحلہ رہ گیا ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com