عبدالباقی پر ہماری اخلاقی فتح کا قصہ

پیر اپریل    |    عمار مسعود

گذشتہ کچھ دنوں سے قیام ترکی میں ہے۔مقصد تو سیاحت تھا مگر ہر سیاح کی طرح ہر مقام پر ترکی اور پاکستان کا تقابل کرنا پڑا ۔ اس تقابل کی بنیادی وجہ تاریخ ، ثقافت، جغرافیہ نہیں بلکہ عبد الباقی نامی ایک ٹور گائید ہے۔جس نے ترکوں کی عظمت کے قصے سنا سنا کر ہمیں زچ کر دیا۔ ہمارے میزبانوں نے عبدالباقی کو ہمارے ساتھ ایسا نتھی کیا کہ وہ شہر شہر ، قریہ قریہ لے کر ہمیں گھومتا ہی رہا۔ اس نے بات کی ابتداء ہی ”برادر پاکستانی“ سے کی ۔
ہم نے بھی اسی وفور سے ”برادر ترکی “کہہ کر جواب دیا۔ معانقہ بھی کیا ، مصافحہ بھی ہوا ،لیکن ان تمام ایام میں مسلسل ایک مخامصت کی فضا بھی قائم رہی۔جیسا کہ تمام پاکستانی جانتے ہیں کہ ہمیں اپنے وطن سے بہت پیار ہے۔

(خبر جاری ہے)

اس محبت کا اظہار ہم کرنے سے کہیں نہیں چوکتے۔ تو ترکی میں ان تمام دنوں کا قصہ کچھ یوں ہے کہ جہاں عبدالباقی نے ترکی کی عظمت کا قصہ چھیڑا وہاں ہم نے اپنے وطن لازوال تاریخ ، ثقافت ، حمیت اور غیرت کا قصہ سنانا شروع کر دیا۔

پاکستانیو کو یہ سن کر مسرت ہو گی ہم نے کسی جگہ پاکستان کی کمر نیچے نہیں لگنے دی۔ کبھی اپنی ملی غیرت پر آنچ نہیں آنے دی۔ عبدالباقی کی ٹوٹی پھوٹی انگریزی کے جلوے اپنی جگہ لیکن اپنے دیس کی شان اپنی جگہ۔ آج کا کالم عبدالباقی سے ہونے والی چھوٹی چھوٹی دلچسپ جھڑپوں کے متعلق ہی ہے۔
استنبول کی سڑکوں پر ہر طرح کے لوگ مل جاتے ہیں ۔ کچھ ترک ہیں جو یورپین لگتے ہیں اور کچھ کا حلیہ خالص ایشین ہے۔
خواتین آپکو مکمل حجاب میں بھی نظر آ جاتی ہیں اور منی سکرٹ کے تمام تر اختصار کے ساتھ بھی دختران مشرق آوارہ گردی میں مصروف دکھائی دیتی ہیں۔ بقول عبدالباقی کے کچھ گھرانے ایسے بھی ہیں جہاں ایک بہن مکمل حجاب کرتی ہے اور دوسری لباس کے اختصار پر کاربند ہے۔ اس نے بڑے فخر سے بتایا ترکوں کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کوئی کیسا لباس پہنتا ہے ۔ ہم نے یہ موقع غنیمت جانا اور اور عبدالباقی کو شرافت ، حمیت اور غیرت کا بھرپور سبق دیا کہ ہمارے ملک میں تو بے پردگی پر قتل ہو جاتے ہیں۔
اس موقعے پرہم سفر ترکی کے شہر ندے میں مقیم معروف پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر اللہ بخش نے بھی ہمارے خیالات کی تائید کی اور جلتی پر پٹرول چھڑکتے ہوئے مزید بتایا کہ یونیورسٹی میں لڑکے لڑکیاں مختلف کونوں میں باہم شیرو شکر نظر آتے ہیں اور کوئی لڑکیوں کا بھائی انکی تنہائی میں ڈانگ لے کر مخل نہیں ہوتا۔جبکہ پاکستان میں ہماری ساری توجہ خواتین کے لباس پر ہی رہتی ہے۔ کس کے سرسے کب ڈوپٹہ سرکا، کس نے کتنا چست لباس پہنا اور کس نے ، کس سے ہنس کے بات کی۔
یہ سب ہمارے لئے غیرت کے مسائل ہیں۔ پردہ سے متعلق مسجدوں کے خطبوں میں سنے تمام اقوال زریں ہم نے پوری لحن سے عبدالباقی کے سامنے بیان کر دیئے۔ دختران مشرق کے باپردہ ہونے کے حوالے سے جو جو تاریخی مثالیں یاد تھیں وہ بھی اس روا روی میں دوہرا دیں۔ یہاں تک کہ اقبال کا مصرعہ ”کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں“ بھی جوش خطابت میں سنا دیا۔اس خطبہ کے اختتام پر ہم نے عبدالباقی سے دریافت کیا کہ ترک بہو بیٹیاں یوں ننگے سر مردوں سے ہنس کھیل کر باتیں کرتی ہیں ۔
تم کو غیرت نہیں آتی۔ سچی بات ہے اس چھوٹے سے معرکے کے بعد عبدالباقی نے سر جھکایا اور خاموش ہوگیا۔ یہ ہماری عبد الباقی پر پہلی اخلاقی فتح تھی۔
اسی سفر کے درمیان ہمارے سامنے سرعام انطالیہ کے بازار میں ایک نوجوان نے ایک خاتون کے سامنے گھٹنوں پر بیٹھ کر شادی کی درخواست کی۔ خاتون نے قبول فرمائی۔ دونوں نے ایک دوسرے کو چوما اور ایک بزرگ خاتون نے ایک سبز رنگ کی بوتل سے جھاگ بھرا مشروب حاضرین پر چھڑکنا شروع کر دیا۔
اس مشروب کا نام یاد نہیں مگر ”ش“ سے کچھ شروع ہوتا تھا اور یہ ”شکر کولا “ بھی نہیں تھا۔ اسی وقت کہیں سے میوزک کی آواز بلند ہوئی اور نو جوان لڑکوں اور لڑکیوں نے سڑک پر ہی رقص کرنا شروع کر دیا۔سر عام فحاشی اور بے راہ روی کا یہ منظر تفصیل سے دیکھنے کے بعد ہم پھر عبدالباقی کے درپے ہو گئے۔ کہ کیا یہ مشرقی روایات ہیں؟ اسطرح شادی ہوتی ہے؟نہ کسی نے حسب نسب کا پوچھا ؟ نہ کسی نے پوچھا کہ لڑکے والے سید ہیں یا شیخ ؟ سنی ہیں یا شیعہ؟ حنفی ہیں یا بریلوی؟ انکی ذات کیا ہے؟ جٹ ہیں یا لوہار، قصائی ہیں یا صدیقی؟آرائیں ہیں یا چوہدری؟ کچھ بھی تو نہیں ہوا۔
نہ باپ نے بیٹی کے پاوں میں پگڑی رکھی ، نہ ماں رو، رو کے نابینا ہوئی۔ نہ لڑکی کے بھائی نے ڈانگ اٹھائی ، نہ محلے والوں نے لڑکی کو بدچلن قرار دیا ۔یہ کس طرح کا ایجاب وقبول تھا۔ ہمارے ہاں ایسا نہیں ہوتا ۔ لڑکی کی شادی ہمارے لئے غیرت کا مسئلہ ہوتا ہے۔ اس میں قتل ہو جاتے ہیں ، لڑکیوں کو زندہ نذر آتش کیا جاتا ہے، بدچلنی کے الزام میں ونی کر دیا جاتا ہے۔ کاروکاری کی قبیح رسم ادا کی جاتی ہے۔ تم لوگوں میں غیرت کی کمی معلوم ہوتی ہے۔
عبدالباقی نے یہ سن کر خاموشی سے سر جھکا لیا یہ ہماری عبدالباقی پر دوسری اخلاقی فتح تھی۔
استنبول کی سڑکوں پر ٹریفک بے پناہ ہے۔ایک، ایک کلومیٹر طے کرنے میں آدھا ،آدھا گھنٹہ لگ جاتا ہے۔ لیکن عجیب بات یہ یہاں کوئی ہارن بجا بجا کر اگلی گاڑی کو ہراساں نہیں کرتا۔ نہ کوئی لائٹیں مار مار کر ڈرائیوروں کو پریشان کرتا ہے۔ نہ کوئی بائیں کا اشارہ دکھا کر کر دایاں کٹ مارتا ہے۔ نہ کوئی سگنل توڑتا ہے۔
نہ ایکسیڈینٹ کی صورت میں سڑک پر کوئی جھگڑا ہوتا ہے۔ گاڑی چلانے والا پیدل چلنے والے کو راستہ دے کر فخر محسوس کرتا ہے۔ معذور افراد کے لئے مخصوص جگہ پر گاڑی پارک کرنے سے بڑا جرم کوئی نہیں ہے۔عبد الباقی ترکوں کی یہ سب صفات بڑی خوش الحانی سے گنوا رہا تھا کہ ہمیں بادل ناخواستہ اس کو روکنا پڑا ۔ہم نے اسے بتایا سڑکوں پر گاڑی چلانا دراصل غیرت کا مسئلہ ہے۔ کسی گاڑی کا آگے نکل جانا پورے خاندان کی ناک کٹ جانے کے متراف ہے۔
بار بار ہارن بجانا فخر کی علامت ہے۔اشارہ توڑنا بہادی کی علامت ہے۔ایکسیڈینٹ کی صورت میں کمزور پارٹی کا مار مار کر بھرکس نکال دینا دراصل شجاعت کی نشانی ہے۔تم ترکوں میں ذرا غیرت کی کمی ہے اس لئے بہادری کے مظاہروں سے پرہیز کرتے ہو۔ عبدالباقی نے ایک دفعہ پھر سر جھکایا اور خاموش ہو گیا۔ یہ عبد الباقی پر ہماری تیسری برتری تھی۔
پے در پے اخلاقی شکستوں سے عاجز ہو کر ایک دن عبدالباقی نے 16 جولائی 2016 کی رات کا ذکر کر دیا۔
یہ قصہ سناتے ہوئے عبدالباقی کا چہرہ شدت جذبات سے گلنار ہو گیا۔ یہ وہ رات تھی جب ترک فوج کے ایک حصے نے منتخب جمہوری حکومت کے خلاف بغاوت کر دی تھی۔ فوج کے ٹینک سڑکوں پر آ گئے تھے۔ سرکاری ٹی وی پر قبضہ کر کے مارشل لاء کا اعلان کر دیا گیا تھا۔ طیب اردگان کے سوشل میڈیا کے ایک پیغام کی بدولت لاکھوں نہتے لوگ اس بغاوت کو کچلنے گھروں سے نکلے۔ سب لوگ اردگان کے ساتھ نہیں تھے مگر پوری ترک قوم جمہوریت کے ساتھ تھی۔
سرکاری اعداد وشمار کے مطابق فوجیوں نے دو سو پچاس نہتے لوگوں کو گولیوں سے بھون دیا گیا۔ لیکن لوگوں کا جوش نہ تھما۔ لوگوں نے ٹینکوں پر قبضہ کر لیا۔آخر میں بندوق والے سپاہیوں نے اپنے شہریوں پر گولی چلانے سے انکار کر دیا۔ فوجی بغاوت ایک رات میں عوام کی طاقت نے کچل دی۔ اسی رات تاکسیم سکوائر پر عوام نے جمہوری فتح کا جشن منایا۔ اس قصے کو ختم کر عبدالباقی ہم سے مخاطب ہوا۔ تم خود ہی بتاو، اگر کوئی تمہارے ملک میں مارشل لاء لگائے، تمہاری جمہوری حکومت کی توہین کرے، تمہارے ووٹ کی تذلیل کر ے تو کیا تم برداشت کرو گے؟ کوئی جرنیل ، جج یا مذہبی لیڈر جمہوریت کا مذاق اڑائے توکیا تمہاری غیرت یہ سب گوارہ کرلے گی؟عبد الباقی کی اس گفتگو کے بعد اب خاموش ہونے کی باری میری تھی ۔میں پہلے تو خاموش رہا پھر سر بھی جھکا لیا۔یہ عبدالباقی کی مجھ پر پہلی اخلاقی فتح تھی۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com