نواز شریف کلبھوشن کے بارے میں بالآخر بول پڑے

ہفتہ دسمبر    |    میر افسر امان

کلبھوشن یادیو را کے ایجنٹ ایک حاضر بھارتی نیوی آفیسر کو ہمارے خفیہ ایجنسیوں نے بلوچستان میں جاسوسی کرنے کے الزام کی وجہ سے گرفتار کیا تھا۔ جو ابھی تک پاکستان میں قید ہے۔ یہ ایرانی بندرگاہ چاہ بہار پر بھارت کی طرف سے تعینات تھا۔جس کی گرفتاری پر آئی ایس آر پی نے بھی بریفنگ دی تھی۔ہمارے حکمرانوں کے مطابق پہلی دفعہ کسی حاضر فوجی کو کسی ملک کے خلاف جاسوسی کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔
اخباری خبر کے مطابق ایرانی صدر سے پاکستان میں آمند کے موقعہ پر ہمارے اُس وقت کے سپہ سالار نے ملاقات کے موقعہ پر ذکر بھی کیا تھا۔ کلبھوشن یادیو کا اعترافی ویڈیو بیان بھی قومی الیکٹرونگ میڈیا پر چلایا گیا تھا جس میں اُس نے بلوچستان اور کراچی میں جاسوسی کرنے،فنڈ تقسیم کرنے اور کراچی کے کئی بار دورے کرنے کا اعتراف کیا تھا اور جسے پاکستانی قوم بلکہ ساری دنیا نے دیکھا تھا۔

(خبر جاری ہے)

وزیر داخلہ پاکستان، بلوچستان کے وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ بگٹی نے کلبھوشن کی گرفتاری اور جاسوسی کرنے کے بیان بھی جاری کیے تھے۔

طاہرالقادری صاحب نے میڈیا کے سامنے نواز شریف صاحب کی شوگر ملز سے مبینہ گرفتار بھارت کے جاسوسوں کے کلبھوشن کے ساتھ ٹیلیفونک رابطہ کے کچھ ثبوت بھی پیش کیے تھے۔ اس کے علاوہ اسلام آباد میں تعینات بھارتی سفارت کاروں پر بھی جاسوسی کے الزام لگا کر انہیں گرفتار کیا گیا تھا۔جینیوا معاہدے کے سبب ان کو ملک بدر کیا گیا تھا۔ کراچی میں ایم کیو ایم کے بھی کئی کارکن بھارت سے ٹرنینگ لینے کے اعتراف میں پکڑے گئے ہیں۔
پاک سرزمین پارٹی کے سربراء نے بھی الطاف حسین پر را سے فنڈ لینے کے الزام لگائے ہیں۔ الطاف حسین نے خود کئی بار را سے مدد کی اپیل کی ہے۔ ۲۲/ اگست کے مردہ باد پاکستان اور دوسرے دن کا بیان کہ پاکستان ایک ناسور ہے۔ اسرائیل، بھارت اور امریکا سے پاکستان توڑنے کی درخواست اور خودلڑ کر پاکستان توڑنے کا بیان موجود ہے۔ نریندر مودی نے بھارت کے یوم آزادی کی تقریب میں کہا تھا کہ پاکستانی کشمیر، گلگت بلتستان اور بلوچستان سے مدد کے لیے مجھے فون کال آ رہی ہیں۔
بنگلہ دیش میں پاکستان توڑنے کا مودی کا بیان بھی موجود ہے۔ بھارت نے اعلانیہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کو ثبوتاژ کرنے کے لیے فنڈ مختص کیے ہوئے ہیں۔افغانستان میں بھارت نے پاکستان کی سرحد پر درجنوں کونصل خانے قائم کیے ہوئے ہیں۔افغانستان سے بھارت کی شہ پر پاکستان میں دہشت گرد حملے ہو رہے ۔ ایک سال قبل۱۶ دسمبر کو افغانستان سے آکر دہشت گردوں نے پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر حملہ کر کے سیکڑوں بچوں اور اسکول کے اسٹاف کے لوگوں کو وحشیانہ طریقہ سے شہید کر دیا تھا۔
جس میں کچھ کو سزا موت بھی ہوئی اور تختہ دار پر بھی لٹکادیا گیا ہے۔ کوئٹہ میں بلال کانسی پر حملہ اور اس کے بعد عدلیہ کے ستر سے زائد لوگوں کو ہسپتال میں دہشت گردی سے شہید کیا گیا۔ سپریم کورٹ کے چھ رکنی کمیٹی جس کی سربرائی جسٹس قاضی فیض احمد عیسیٰ تھے کی طرف سے قائم یوڈیشنل کمیشن نے پہلی دفعہ یوڈیشنل رپورٹ کے مطابق چوہدری نثار وزیر داخلہ اور بلوچستان حکومت کو ذمہ وار ٹھیریا گیا ہے۔ نیشنل ایکشن پر عمل درآمند پر عمل نہیں ہو رہا۔
نیکٹا کو فعال نہیں کیا گیا۔ اسلام آباد میں کلعدم تنظیم کو جلسے کی اجازت دی گئی۔الا حرار جو پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کی ذمہ داری قبول کرتی رہی اس پر وقت پر پابندی نہیں لگائی گئی۔ کوئٹہ میں پولیس ٹرینیگ سنٹر پر رات کو حملہ کر کے ۶۱/ ریکروٹوں کو شہید کیا گیا بلوچستان کے علاقے لسبیلہ کے قریب میں شاہ نورانی کے مزار پر جب لوگ دھمال ڈال رہے تھے تو دہشت گردی سے ۵۱/بے گناؤں زائرین کو شہید کیا گیا۔
چین پاکستان اقتصادی راہداری کے پہلے قافلے کے گوادر پورٹ پر مغربی روٹ سے پہنچنے کی منعقدہ تقریب سے ایک دن پہلے دہشت گردی کر کے لوگوں کوشہید کر کے پاکستان کو کیا پیغام دیا گیا؟کچھ دن پہلے کٹھوہ کشمیر میں بھارت کے وزیر داخلہ نے دھمکی دی کہ پاکستان کشمیر میں مداخلت کر رہا ہے اگر پاکستان نے بھارت کو ایک بارپھر مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی پالیسی نہیں بدلی تو ہم نے پاکستا ن کے پہلے دوٹکڑے کیے تھے اب دس ٹکڑے کر دیں گے۔
بھارت کا دہشت گرد وزیر اعظم دنیا میں کہیں بھی کوئی کانفرنس ہوتی ہے جس میں بھارت شریک ہوتا ہے پاکستان کو تنہا اوردہشت گرد ثابت کرنے اور اس پر پابندی لگانے کی کوششیں کرتا رہتا ہے۔طوالت سے بچنے کے لیے یہی کچھ حالت و واقعات بیان کیے گئے ہیں۔ پاکستان کے عوام اور اپوزیش نواز شریف پر الزام لگاتے رہے ہیں کہ نواز شریف کو مودی سے صرف دوستی ہی فکرہے پاکستان کی فکر نہیں۔ نواز شریف پر بھارت کے اسٹیل ٹائیکون سے ملاقات اور دوستی کے بھی الزام لگ رہے ہیں۔
جب بھارت کا وزیر اعظم پاکستان کو دہشت گرد ثابت کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ نواز شریف اس کا کوئی توڑ نہیں کرتے۔ فوج سے ہمیشہ ٹکراؤ کی پالیس پر عمل کرتے ہیں۔ فوج سے الجھنے کی وجہ سے دو دفعہ اپنے وزیروں کو فارغ کر چکے ہیں۔ ہمیشہ ٹاپ سینئر کو فوج کا سپہ سالار بنانے کے بجائے دوسرے یا تیسرے نمبر کے فوجیوں کو اپنی ضرورت کے لیے پر موٹ کرتے ہیں۔۲۰۱۳ء کا لیکشن جیتنے کے فوراً بعد بیان دیا کہ مجھے بھارت سے دوستی کے منشور سے دو تہائی ملی۔
منشور میں پاکستان میں بجلی، دہشت گردی اورکرپشن ختم کرنے پر زور دیا گیا تھا۔ ساڑھے تین سال گزر گئے نہ بجلی آئی نہ ہی کرپشن ختم ہوئی بلکہ خود کرپشن کے الزام میں پامانا لیکس کے تحت سپریم کورٹ میں مقدمے کا سامنا کر پڑ رہا ہے۔ دہشت گردی بھی پورے طور پرختم نہیں ہوئی۔ بھارت کے سا تھ آلو پیز کی تجارت کی جاری ہے۔بھارت کے ساتھ جارحانہ کے بجائے ہمیشہ معذرتانہ رویہ اختیار کیا ہوا ہے۔ اپنی ذاتی دوستی نبانے، خاص کر قطری شہزادے کے خط کے بعد قطری شہزادوں کی ٹیم کو نایاب تلور کو قانونی حد سے زیادہ شکار کرنے کی اجازت دینا۔
بھارتی ایجنسی را کے ایجنٹ کلبھوشن کی گرفتاری کے وقت سے پورا پاکستان نواز شریف سے زبان نہ کھولنے پر احتجاج کرتے رہے ہیں۔ آخر کار نواز شریف کے مشیر خارجہ نے بیان دیا کہ ہمارے پاس کلبھوشن یادیو کے پاکستان کے خلاف جاسوسی کے ثبوت نہیں۔ اِس بیان کو بھارتی میڈیا نے خوب اُچھالا جو پاکستان کے خلاف جاتا ہے اور پاکستان کی جگ ہنسائی ہوئی۔نوازشریف کے وزیر خارجہ کا بیان نواز شریف کا بیان تصور کیا جاتا ہے۔
کیا آئی ایس پی آر، خفیہ ایجنسیوں کے اہل کار،حکومتی اہل کار، بلوچستان کے وزیر اعلیٰ وزیر داخلہ اور میڈیا پر جاری کردہ کلبھوشن یادیوکے اعترافی بیان سب جھوٹ ہیں۔ کیا سارے پاکستان اور پاکستان کے اداروں کی جگ ہنسائی نہیں ہوئی؟ یقیناً ہوئی ہے۔ نہ جانے پاکستان کے منتخب وزیر اعظم نوز شریف نے یہ بیان کس کو خوش کرنے کے لیے دیا ہے ۔کیا یہ بیان کسی اُس نادیدہ ہستی کو خوش کرنے کے لیے دیا گیا ہے جس سے الیکشن کے آخری مرحلے پر ڈیماند کی تھی کہ ” مجھے دو تہائی اکثریت چاہیے“ صاحبو! ذرائع کے مطابق اگر نواز شریف کو رتی بھر بھی پاکستان کے دفاع سے محبت ہوتی اور پاکستان سے حلف کی وفاداری کا ذرا برابر بھی احساس ہوتا تو ایسا بیان جاری نہ کرتے۔ اللہ پاکستان کے حکمرانوں پاکستان سے وفاداری کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

متعلقہ عنوان

میاں نواز شریف


متعلقہ کالم