اقتصادی راہداری پھرمتنازع

ہفتہ جنوری    |    پروفیسر مظہر

پاک چائنااکنامک کاریڈور لبِ مرگ معیشت کوفضائے بسیط کی رفعتوں سے روشناس کرانے والاایسا منصوبہ ہے جس کی تکمیل سے اشرافیہ کی تجوریاں تو لبالب ہوں گی ہی ،راندہ ودرماندہ اور مجبوروں مقہوروں کی تقدیربھی بدل جائے گی ۔اِس لیے اہلِ نظرکا یہ فرضِ عین کہ وہ ربِ علیم وخبیرکی ودیعت کردہ دانش کوبروئے کارلاتے ہوئے جہاد بالقلم سے قوم کویکسوکریں اور اُن طاغوتی طاقتوں کو نیست ونابودکرنے میں معاون بنیں جو اِس اقتصادی راہداری کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے لیے کوشاں ہیں ۔
سبھی جانتے ہیں کہ پاک چائنااکنامک کاریڈور پاکستان کے ازلی ابدی دشمن بھارت کوقبول نہ دوست نمادشمن امریکہ کو۔ بھارت توکھلم کھلااِس منصوبے کی مخالفت کررہا ہے اوراپنے خفیہ اداروں کو اِس منصوبے کے خلاف فضاء تیارکرنے کی حکمت عملی وضع کرنے کاکام بھی سونپ دیا۔

(خبر جاری ہے)

امریکہ البتہ تاحال کھل کرمیدان میں نہیں آیا، وہ صرف بھارت کی پیٹھ ٹھونکنے پرہی اکتفاکر رہاہے ۔دونوں کو ہی دفاعی لحاظ سے مضبوط ایٹمی پاکستان کسی بھی صورت میں معاشی بلندیوں کو چھوتا ہوا قبول نہیں کیونکہ اگرپاکستان معاشی لحاظ سے بھی مضبوط ہوگیا توبھارت کا”اکھنڈبھارت “ کاخواب ادھورارہ جائے گااورامریکہ بھی دنیاکی واحدسپر پاورنہیں بن سکے گاکیونکہ چین سینہ تان کراُس کے سامنے کھڑاہو جائے گا۔


پاک چائنا اکنامک کاریڈور ایک ایسامنصوبہ ہے جوپاکستانی معیشت کے لیے کلیدکی حیثیت رکھتاہے ۔اِس منصوبے کی تکمیل پرپاکستان کا2025ء تک پاکستان کادنیاکی اٹھارہویں بڑی معیشت کاخواب پوراہو سکتاہے ۔بھارت توخیر پاکستان کاازلی ابدی دشمن ہے ہی اِس لیے اُس سے تویہی توقع کی جاسکتی تھی لیکن اپنے بھی خم ٹھونک کرمیدان میںآ گئے۔ پہلے یہ کہاگیا کہ اِس منصوبے کاحشر بھی کالاباغ ڈیم جیساکر دیں گے پھرمنصوبے کے روٹس پراعتراضات سامنے آگئے اورکہا گیاکہ مغربی روٹ سب سے پہلے مکمل ہوناچاہیے ۔
حکومت نے آل پارٹیزکانفرنس بلاکر مشرقی ،وسطی اورمغربی روٹس پر تمام جزئیات کے ساتھ بریفنگ دی اوراعتراضات پرسیر حاصل بحث کے بعد اِس منصوبے پراتفاق ہوا ۔مولانافضل الرحمٰن نے دعائے خیرکی اورقوم نے سُکھ کاسانس لیاکہ پاکستان کے لیے گیم چینجرکی حیثیت رکھنے والے اِس منصوبے پراتفاق رائے ہوگیا ۔
30 دسمبر کو ژوب میں پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے مغربی روٹ کاسنگِ بنیاد رکھنے کے بعد وزیرِاعظم صاحب نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایاکہ اس منصوبے کی تکمیل سے بیروزگاری ،غربت اورپسماندگی کاخاتمہ ہوگا اورنہ صرف پاکستان میں خوشحالی آئے گی بلکہ پورے خطے کوبھی فائدہ ہوگا ۔
2428 کلومیٹر شاہراتی نیٹ ورک کی تکمیل سے دیگرصوبے بلوچستان سے منسلک ہوجائیں گے،بلوچستان میں خوشحالی کی صبح طلوع ہوگی اورپاکستان کی خوشحالی کاخواب بلوچستان سے پوراہوگا ۔سنگِ بنیادکی تقریب کے موقعے پرجے یو آئی کے امیر مولانا فضل الرحمٰن اے این پی کے میاں افتخارحسین ،قاف لیگ کے سیدمشاہد حسین ،نیشنل پارٹی کے میرحاصل بزنجواور پختونخوا عوامی پارٹی کے محمودخاں اچکزئی بھی موجودتھے ۔ مولانافضل الرحمٰن نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اقتصادی راہداری کی تعمیرکے ذریعے چین نے دوستی کاثبوت دیا ۔
میاں افتخارحسین نے کہاکہ خطے میں دہشت گردی وبدامنی کی بنیادی وجہ اقتصادی پسماندگی ہے ۔اِس منصوبے سے ہم آنے والی نسلوں کو پُرامن اورپرسکون مستقبل دے سکیں گے۔ گوادر کاشغر اقتصادی راہداری منصوبے سے پورے خطے کی تقدیربدل جائے گی ۔یہ منصوبہ چھیاسی ارب ڈالرکا ہے جوپہلے کبھی نہیں ہوا ۔محموداچکزئی نے کہاکہ اِس منصوبے سے نفرتوں کا خاتمہ ہوجائے گا۔ سید مشاہدحسین کاکہنا تھاکہ آج کادِن تاریخی اہمیت کاحامل ہے ۔
اقتصادی راہداری کی افتتاہی تقریب کے موقع پربیشتر قومی قیادت موجودہے ۔مغربی روٹ کوترجیح اورکُل جماعتی پارلیمنٹیرین کمیٹی بنانے کے وعدے وزیرِاعظم نے وفاکر دیئے۔
افہام وتفہیم کی یہ فضاء شائدمحترم عمران خاں کو پسندنہیں آئی ۔اُنہوں نے اقتصادی راہداری کے خلاف خیبرپختونخوا میں متحدہ محاذ بناناشروع کردیااور واضح طورپر کہہ دیاکہ اگراُن کی سفارشات کوتسلیم نہ کیاگیا تووہ اِس منصوبے کوکے پی کے میں نہیں بننے دیں گے ۔
خیبرپختونخوا کے وزیرِاعلیٰ نے بھی یہی ڈھنڈوراپیٹنا شروع کردیا ۔جب وزیرِاعلیٰ سے سوال کیاگیا کہ آخراُنہیں اِس منصوبے پراعتراض کیاہے تو اُنہوں نے فرمایاکہ اُنہیں مشرقی روٹ پرکوئی اعتراض نہیں،اگراعتراض تویہ کہ جوسہولیات مشرقی روٹ کوبہم پہنچائی جارہی ہیں ،وہی مغری روٹ کوبھی فراہم کی جائیں ۔حقیقت یہی کہ اُنہیں صرف مشرقی روٹ پرہی اعتراض ہے جوپنجاب سے ہوکر گزرتاہے ۔یہ منصوبہ توابھی اپنے ابتدائی مراحل میں ہے اورصرف سڑکوں کی تکمیل کاکام جاری ہے ۔
پھرکیا پرویزخٹک صاحب کوالہام ہوگیا کہ جوسہولیات مشرقی روٹ کوبہم پہنچائی جائیں گی وہ مغربی روٹ کونہیں ۔عمران خاں صاحب نے اِس منصوبے میں اپنے بدترین سیاسی حریف مولانافضل الرحمٰن کے پاس بھی وفدبھیج کراُنہیں اپناہم خیال بنانے کی کوشش کی ۔مولانافضل الرحمٰن جودو دفعہ اِس منصوبے کی دعائے خیرمیں شامل ہوچکے ،اُنہوں نے بھی فرمادیا کہ اِس منصوبے کے حوالے سے تحفظات دورکیے جائیں ۔راہداری کے روٹ میں تبدیلی سے سیاسی جماعتوں میں تشویش پائی جاتی ہے اِس لیے اقتصادی راہداری کے متعلق شکوک وشبہات دورکرنے کی ضرورت ہے ۔
ژوب میں سنگِ بنیاد کے موقعے پرمولانافضل الرحمٰن بھی موجودتھے۔ اُنہوں نے صرف یہ مطالبہ کیاتھا کہ ڈیرہ اسماعیل کی سڑک کوچار رویہ کی بجائے چھ رویہ کردیا جائے جس پروزیرِاعظم صاحب نے اُنہیں یقین دلایاتھا کہ چار رویہ سڑک کی تکمیل کے بعد اسے چھ رویہ بھی کردیا جائے گا ۔اُنہوں نے تومولاناصاحب کی تسلی کی خاطر یہاں تک کہہ دیاتھا کہ ہوسکتاہے کہ چاررویہ سڑک کی تکمیل کے دوران ہی اسے چھ رویہ کرنے کامنصوبہ سامنے آجائے ۔مولاناصاحب توخیر کوئی بھی ایساموقع ہاتھ سے جانے ہی نہیں دیتے جس میں وہ دوسرے کوبلیک میل کرکے اپنے ذاتی مفادات کی تکمیل کرسکیں لیکن حیرت ہے کہ تحریکِ انصاف نے بھی مولاناصاحب سے ہاتھ ملالیا جن کے خلاف اُس کے سربراہ کی غیرپارلیمانی زبان تاریخ کاحصہ ہے ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

متعلقہ عنوان

سی پیک


متعلقہ کالم