پاکستانیوں کے لئے بھارتی آفر، بزنس کارڈلیجئے ، ملٹی پل ویزہ پایئے

جمعرات 4 فروری 2016 11:57

پاکستانیوں کے لئے بھارتی آفر، بزنس کارڈلیجئے ، ملٹی پل ویزہ پایئے

نئی دہلی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔04 فروری۔2016ء) پاکستانی بزنس مین اب تین سال کے ملٹی پل ویزے پر بھارت کے 15 شہروں کا سفر کرسکیں گے۔یہی نہیں بلکہ اب انہیں مقامی پولیس اسٹیشن پر رپورٹ کرنے کی بھی ضرورت نہیں رہے گی۔جنوبی ایشیائی ممالک کے کاروباری افراد کی بھارت میں آزادانہ نقل وحرکت کے لئے خصوصی ویزے’انڈین بزنس کارڈ‘کا نفاذ یکم اپریل سے کیا جا رہا ہے۔

بھارتی جریدے’انڈیا ٹوڈے‘، اور برطانوی اخبار’ڈیلی میل‘ نے وزارت داخلہ کے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ بھارت جنوبی ایشیائی ممالک کے کاروباری حضرات کو آزادانہ نقل وحرکت کی اجازت دینے جارہا ہے تاہم سارک ممالک میں صرف پاکستانی کاروباری افراد کیلئے نئے ویزا قوانین میں چندشرائط لگائی گئی ہیں۔

(جاری ہے)

ایسے پاکستانی بزنس مین ،اب بھارتی بزنس کارڈ حاصل کر سکتے ہیں جن کی کمپنی کی مالیت ایک کروڑ روپے ہو اور ان کا سالانہ منا فع دس لاکھ روپے ہو۔

دوسری شرط یہ ہے کہ وہ بزنس مین پاکستان میں کسی بھی چیمبر آف کامرس کا رکن ہوجو بھارت کی طرف سے تسلیم شدہ ہو۔ان شرائط پر پورا اترنے والے پاکستانی تاجر تین سالہ ملٹی پل اینٹری کارڈ کے اہل ہوں گے۔وزارت داخلہ کے حکام کا کہنا ہے کہ سارک ممالک کیلئے بزنس کارڈ کا طریقہ کار طے کرنے کے دوران پاکستان پر خصوصی شرائط عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

پاکستانی تاجروں پریہ شرائط انٹیلی جنس ایجنسیوں کی طرف سے اٹھائے گئے خدشات پر عائد کی گئی ہیں تاہم پاکستانی تاجروں کیلئے چند ریلیف اقدامات کی پیشکش بھی کی جا رہی ہے۔پاکستانی شہریوں کیلئے ویزے کی معیاد تین سال ہوگی۔ اس ویزے کے عوض وہ بھارت کے 15شہروں کا دورہ کرسکیں گے جبکہ اس وقت پاکستانی تاجروں کو ایک سال کی مدت کے لئے ملٹی پل اینٹری بزنس ویزا دیا جاتا ہے جس میں وہ دس شہروں کا سفر کرسکتے ہیں۔

نئی اسکیم کے تحت پاکستانی کاروباری افراد کو مقامی پولیس اسٹیشن پر رپورٹ کرنے سے بھی مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے تاہم کسی دوسری کیٹیگری کے ویزے پر بھارت آنے والے پاکستانیوں کویہ استثنیٰ حاصل نہیں ہوگا۔پاکستان کے مقابلے میں سری لنکا، بنگلہ دیش اور مالدیپ جیسے سارک ممالک کے لئے بزنس ویزا بلاشرط ہے جبکہ بھوٹان اور نیپال کے شہری فری ویزہ سروس سے فائدہ اٹھاتے ہیں یعنی انہیں بھارت آنے کے لئے ویزہ لینے کی ضرورت ہی نہیں۔

گزشتہ سال کھٹمنڈو میں سارک سربراہی کانفرنس کے دوران مودی نے تمام سارک ممالک کے شہریوں کے لئے 3 سے5 سال تک کی مدت کے کاروباری ویزوں کا اعلان کیا تھا جس کے تحت جنوبی ایشیا میں علاقائی تجارت کے فروغ کیلئے بھارت کی طرف سے خصوصی کاروباری ویزاا سکیم کا نفاذ یکم اپریل سے کیے جانے کا امکان ہے۔حکام نے بھارتی سیکورٹی پرنٹنگ پریس کو ’انڈین بزنس کارڈ‘کی طباعت کا حکم دے دیا ہے۔ اسکیم کو جلد نافذ کیے جانے کی توقع ہے۔

متعلقہ عنوان :