فتح اللہ کی تنظیم خطے کیلئے خطرہ ہے ،ْ پاکستان کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائیگی ،ْترک صدر طیب اردوان

یقینا دہشتگرد تنظیم کو پاکستان کو نقصان پہنچانے سے قبل ہی قلیل مدت کے اندر ملیا میٹ کردیا جائیگا ،ْپندرہ جولائی کوترکی میں بغاوت کی کوشش کر نے والی باغی طاقتوں سے ملنے والے اسلحے کے تانے بانے مغرب سے ملتے ہیں، وہ داعش اور القاعدہ کی مدد کررہا ہے , داعش کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ،ْپندرہ جولائی کی بغاوت کی مذمت کرنیوالا پاکستان سب سے پہلا ملک تھا ،ْ ہم اس بھائی چارے کو دنیا بھر میں مقبول کریں گے ،ْپاکستان اور ترکی کی تجارت کا حجم ایک ارب ڈالر تک بڑھانا چاہتے ہیں، ہر طرح کی ناانصافی کے خلاف ڈٹ کر کھڑا ہونا ہوگا ،ْترکی مسئلہ کشمیر کے حوالے اپنی کوششیں اقوام متحدہ میں آگے بڑھائیگا ،ْ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب