مقبوضہ کشمیر : عید گاہ مارچ کوناکام بنانے کیلئے سخت پابندیا ںعائد

علاقے میں مکمل ہڑتال، حریت رہنما گھروں میں نظربند

اتوار 21 مئی 2017 13:00

سرینگر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 21 مئی2017ء) مقبوضہ کشمیر میں کٹھ پتلی انتظامیہ نے سرینگر میں مزار شہداء عید گاہ کی طرف ایک مارچ کو ناکام بنانے کیلئے سخت بندیاں عائد کر دی ہیں۔ سر ینگر سے آ مدہ اطلا عات کے مطا بق مارچ کی کال مشترکہ مزاحمتی قیادت نے ممتاز کشمیری آزادی پسند رہنمائوں میر واعظ مولوی محمد فاروق ، خواجہ عبدالغنی لون اور شہدائے حول کی شہادت کی برسیوں کے موقع پر دی ہے۔

قابض انتظامیہ نے لوگوں کو مارچ سے روکنے کیلئے شہر میں بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد تعینات کر دی ہے ۔انتظامیہ نے حریت فورم کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق کو مارچ کی قیادت سے روکنے کیلئے سرینگر میںگھر میں نظر بند کر دیا ہے جبکہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سیدعلی گیلانی پہلے سے اپنی رہائش گاہ میں نظر بند ہیں۔

(جاری ہے)

دریںاثنا میر واعظ مولوی محمد فاروق ، خواجہ عبدالغنی لون اور شہدائے حول کی برسیوں پرمقبوضہ علاقے میں مکمل ہڑتال کی گئی ۔ تمام دکانیں اور کاروباری مراکز بند ہیں جبکہ سڑکوں پر ٹریفک معطل ہے۔ یا د رہے کہ میر واعظ مولوی محمد فاروق کو 21مئی 1990 کو نامعلوم مسلح افراد نے سرینگر میں انکی رہائش گاہ میں گھس کر گولی مار دی تھی جس سے وہ موقع پر ہی شہید ہو گئے تھے۔ بھارتی فوجیوں نے اسی دن سرینگر کے علاقے حول میں ان کے جنازے پر اندھا دھند فائرنگ کر کے 70سوگواروں کو قتل کر دیا تھا۔ خواجہ عبدالغنی لون کو 21مئی 2002 کو نامعلوم حملہ آوروں نے اس وقت شہید کر دیا تھاجب وہ مزار شہداء سرینگر میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کے بعد واپس آرہے تھے۔

متعلقہ عنوان :