افغان طالبان نے اپنے وفد کے دورہ چین کی تصدیق کردی ،سلامی امارات دنیا خطے اور خصوصی طور پر اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ پرانے تعلقات قائم رکھے ہوئے ہے، ا فعان حکومت کے ساتھ چین کی ثالثی کی درخواست نہیں کی ہے، ترجمان طالبان ، طالبان ان ممالک کی تجاویز کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں لیکن ابھی تک طالبان نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے کوئی فیصلہ نہیں کیا، ذبیح اللہ مجاہد

بدھ 28 جنوری 2015 08:33

کابل (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔28جنوری۔2015ء ) افغان طالبان نے اپنے وفد کے دورہ چین کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی امارات دنیا خطے اور خصوصی طور پر اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ پرانے تعلقات قائم رکھے ہوئے ہیں، تااہم افعان حکومت کے ساتھ چین کی ثالثی کی درخواست نہیں کی ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے طالبان وفد کے دورہ چین کی تصدیق کی ہے تاہم ان کا کہنا ہے تنظیم نے افعان حکومت کے ساتھ چین کی ثالثی کی درخواست نہیں کی ہے۔

افغان طالبان کے ترجمان نے کہا ہے ’ ہم بتانا چاہتے ہیں کہ افغانستان کی اسلامی امارات دنیا خطے اور خصوصی طور پر اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ پرانے تعلقات قائم رکھے ہوئے ہے اور وقتاً فوقتاً ضرورت کے مطابق آنا جانا ہوتا ہے۔

(جاری ہے)

جس میں پڑوسی ملک چین بھی شامل ہے۔‘کئی ممالک نے طالبان کو ثالثی کی پیشکش کی ہے۔ تاہم طالبان کی جانب سے انھیں کوئی جواب نہیں دیا گیا، اس پیشکش کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، حکومت سے مذاکرات کا فیصلہ نہیں ہوا،ہم طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے واضح کیا کہ انھوں نے کسی بھی ملک سے حکومت کے ساتھ بات چیت یا مذاکرت کے لیے ثالثی کے لیے نہیں کہا۔

انھوں نے کہا کہ کئی ممالک نے طالبان کو ثالثی کی پیشکش کی ہے۔ تاہم طالبان کی جانب سے انھیں کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق طالبان ان ممالک کی تجاویز کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں لیکن ابھی تک طالبان نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے کوئی فیصلہ نہیں کیا۔طالبان کے وفد نے نومبر میں چین کا دورہ کیا تھا اور وفد کی سربراہی قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے اہم رکن دین محمد حنیف نے کی تھی۔

پاکستان چین انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ مشاہد حسین سید کا کہنا ہے کہ دیگر ممالک کی نسبت چین افغانستان میں اس لیے اہم کردار ادا کر سکتا ہے کیونکہ اس ملک کا کبھی افغانستان میں کوئی فوجی کردار نہیں رہا۔افغانستان کے سابق وزیر دفاع شاہنواز تنائی نے بی بی سی کو بتایا کہ چین کے بارے میں افغانستان کے لوگوں میں مثبت سوچ موجود ہے اور ان کے کسی بھی کردار کو پذیرائی حاصل ہو سکتی ہے۔

متعلقہ عنوان :