پاک فوج نے خیبر ایجنسی کے پہاڑی علاقے راجگال میں دہشتگرد گروپوں کے خلاف بڑا آپریشن کر دیا،ہماری تجویز ہے دوسری طرف افغانستان بھی آپریشن شروع کرے ، دونوں ممالک ایک دوسرے کیساتھ آپریشن سے متعلق رابطے میں رہیں ،ْپار چنار واقعہ میں گرفتار افراد داعش میں رابطے میں تھے ،ْ مقدمات فوجی عدالتوں میں چلائے جائینگے ،ْ امریکی کانگریس میں بل کے ذریعے امداد پر تین سخت شرائط لگائی ہیں ،ْپاکستان کو اپنے مفادات عزیز ہیں وہ کسی سے اپنے اقدامات کیلئے سرٹیفکیٹ نہیں لے گا ،ْحقانی نیٹ ورک سمیت تمام دہشتگر گروپوں کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے ،ْافغانستان میں داعش مضبوط ہوتی جارہی ہے ،ْ پاکستان میں داعش کا کوئی منظم وجود یا نظام نہیں ،ْ بھارت سیریز فائر کی خلاف ورزی کرتا ہے تو موثر جواب دیا جاتا ہے ،ْ کلبھوشن کی رحم کی اپیل پر فیصلہ میرٹ پر کیا جائیگا ،ْ ہم نے پاکستان کے مفاد کو دیکھنا ہے ،ْجے آئی ٹی سپریم کورٹ نے بنائی تھی ،ْ فیصلہ بھی اسی نے کرناہے،فوج سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ،ْملکی قانون کے تحت احسان اللہ احسان کے خلاف کارروائی کی جائیگی ،ْسی پیک پر پوری قوم اور تمام فریقین ایک ہیں ،ْاس پراجیکٹ کو مکمل سکیورٹی دینگے ،ْ کسی صورت فیل نہیں ہونے دینگے ،ْ قانون اور آئین کا احترام کرنا ہر پاکستانی کا فرض ہے ،ْ سیاسی معاملات سیاسی حکومتوں کی ذمہ داری ہے، میجر جنرل آصف غفور کی پریس کانفرنس