کراچی بدامنی کیس، سپریم کورٹ کا صوبائی حکومت، محکمہ داخلہ اورپولیس پربرہمی کااظہار،اگر حکومت اور اداروں کا یہی طرز عمل رہا تو کراچی کے حالات مزید خراب ہوسکتے ہیں، سنگین جرائم میں ملوث دہشت گردوں کو اچھا کردار اپنانے کا سرٹیفکیٹ دے کر رہا کردیا گیا ، جس شہر میں 3500دہشت گرد آزادانہ گھوم رہے ہوں وہاں امن کیسے قائم ہوگا؟ ‘شہری ذہنی دباؤ کی وجہ سے مریض بن رہے ہیں طالبان کیخلاف آپریشن کیوں نہیں کیا جا رہا‘ اگر رینجرز کو ہی امن و امان کی ذمہ داری سنبھالی کیلئے مستقل رکھنا ہے تو پھر محکمہ پولیس ختم کردینا چاہئے‘ ججزکے ریمارکس، مقدمہ کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی

جمعرات 1 نومبر 2012 16:51

کراچی (اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین، آئی این پی ۔1نومبر 2012ء) سپریم کورٹ نے کراچی میں امن و امان کی صورتحال کے مقدمے کی سماعت کے دوران حکومت سندھ، محکمہ داخلہ ، سندھ پولیس اور آئی جی جیل پر برہمی کااظہارکرتے ہوئے قراردیا ہے کہ اگر حکومت اور اداروں کا یہی طرز عمل رہا تو کراچی کے حالات مزید خراب ہوسکتے ہیں، سنگین جرائم میں ملوث دہشت گردوں کو اچھا کردار اپنانے کا سرٹیفکیٹ دے کر رہا کردیا گیا ہے، جس شہر میں 3500دہشت گرد آزادانہ گھوم رہے ہوں وہاں امن کیسے قائم ہوگا ‘شہری ذہنی دباؤ کی وجہ سے مریض بن رہے ہیں عدالت کو بتایا جائے طالبان کیخلاف آپریشن کیوں نہیں کیا جا رہا‘ اگر رینجرز کو ہی امن و امان کی ذمہ داری سنبھالی کیلئے مستقل رکھنا ہے تو پھر محکمہ پولیس ختم کردینا چاہئے‘ عدالت نے مقدمہ کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دی۔

(جاری ہے)

جمعرات کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں انو رظہیر جمالی‘ جسٹس سرمد جلال عثمانی ‘ جسٹس خلجی عارف حسین ‘جسٹس امیر ہانی مسلم پر مشتمل 5 رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی۔متعلقہ حکام کی جانب سے طلب کئے گئے ریکارڈ کو پوری طرح نہ پیش کرنے پر عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ یہ سمجھنے پرمجبور ہے کہ دانستہ طور پر سپریم کورٹ کو حقائق نہیں بتائے جارہے۔

جسٹس انور ظہیر جمالی نے جیل حکام اور پولیس افسران کو مخاطب کرکے انتہائی اظہار برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ در اصل آپ لوگوں کوجیل میں بند کردینا چاہئے۔ سماعت کے دوران آئی جی جیل خانہ جات ظفر عباس بخاری سے پوچھا گیا کہ آپ کے پاس کونسا قانون ہے جس کے تحت چھ چھ قتل کرنے والے مجرم کو شریف بنا کر پیرول پر رہا کررہے ہیں اگر اس طرح کرنا ہے تو جیلوں کے دروازے کھول دئیے جائیں، جس کو گھر جانا ہے چلا جائے۔

عدالت نے کہا کہ ایک خاص مدت میں سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کو عدالت سے فیصلہ ہونے سے پہلے رہا کرنے والے نسخے کا موجد کون ہے اور کونسا فارمولا بنایا گیا ہے جس کے تحت اغوا برائے تاوان کا مجرم چند ہفتوں میں فرشتہ بن گیا۔ سماعت کے دوران اے آئی جی سندھ پولیس اقبال محمود سے جب پوچھا گیا کہ آپ تھانے دار کا تقرر کس طرح کرتے ہیں؟ کیا آپ کے پاس تمام پولیس افسران کے کردار اور کارکردگی کے ریکارڈ موجود ہیں تو جواب میں اے آئی جی نے اعتراف کیا کہ پولیس کے محکمے میں نا اہل افسران اور اہلکاروں کی بہتات ہے، پولیس افسران اور اہلکاروں کے سروس ریکارڈ اور کردار سرٹیفیکیشن کا نظام موجود نہیں جس پر ججز نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ محکمہ پولیس میں اتنی بڑی دراڑیں ہیں کہ کراچی میں امن و امان ایک خواب ہی نظر آتا ہے۔

عدالت کے ایک سوال کے جواب میں پراسیکیوٹر جنرل سندھ شہادت اعوان نے بتایا کہ چونکہ رینجرز کو پولیس افسران پر اعتماد نہیں ہے اس لئے وہ کوئی کارروائی کرتے وقت پولیس کو نہیں بتاتے جس پر عدالت نے سیکریٹری داخلہ وسیم احمد سے پوچھا کہ 1995 میں رینجرز کو کراچی بلایاگیا تھا پھر امن قائم کیوں نہیں ہوا، اگر رینجرز کو مستقل رکھنا ہے تو پھر محکمہ پولیس ختم کردینا چاہئے۔

فاضل بنچ نے ریمارکس دئیے کہ حکام بتائیں طالبان کے خلاف آپریشن کیوں نہیں کیا جا رہا‘کراچی بدامنی کیس کے فیصلے پرعملدرآمدکاجائزہ لینے والے عدالتی بینچ کے حکم کے باوجود کراچی میں طالبان کی موجودگی پر حساس اداروں کا موقف پیش نہیں کیاگیا۔ جسٹس امیر ہانی مسلم نے سوال کیا کہ طالبان کے خلاف آپریشن کیوں نہیں کیا جا رہا۔ اور یہ بھی بتایا جائے کتنے لوگ آج تک مختلف آپریشن میں پکڑے گئے ۔

اے آئی جی بشیر میمن نے استفسار پر بتایا کہ ہم ٹارگٹڈ آپریشن کر رہے ہیں جس پر جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہا آپ کو آپریشن کلین اپ کرنا چاہیئے اسکے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔ جسٹس خلجی عارف حسین نے کہا کراچی میں بد امنی کے باعث نوے فیصد لوگ نفسیاتی مسائل کا شکار ہو گئے ہیں۔ آئی جی جیل خانہ جات نے بتایا کہ 193 سزا یافتہ مجرموں کو پیرول پر رہا کیا گیا۔

آئی جی جیل خانہ جات کا کہنا تھا جن ملزمان کو دوہزار تین میں عارضی پیرول پر رہا کیا گیا 2005ء میں ان کے پیرول میں توسیع ہوئی اور اب ان یہ ملزمان کہاں ہیں معلوم نہیں۔ ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ وسیم احمد نے کہا کہ 2008ء میں آئی جی پولیس کو پیرول پر رہا افراد کی دوبارہ گرفتاری کے لیئے خط لکھا لیکن آئی جی نے کچھ نہ کیا ۔بنچ نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا اس کا مطلب ہے ہوم ڈپارٹمنٹ متوازی عدالتی نظام چلا رہا ہے۔ عدالت میں حکام کی جانب سے رپورٹ پیش کی گئی جس میں بتایا گیا کہ کراچی بدامنی کیس کے بعد2381 کیس رجسٹرڈ ہوئے اور 761ء ملزمان پکڑے گئے۔ عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی۔