اکیسویں صدر ایشیا کا عروج دیکھے گی، حکومتیں، کاروباری طبقہ سارک ممالک کو قریب لائیں،مشاہد حسین،ڈھائی سو سال بعد ایشیاء کی تقدیر بدل رہی ہے، امن کے بغیر ہم ترقی نہیں کر سکتے،سنیٹر حاجی عدیل،سارک ممالک کی پالیسی معاون ہو تو ہم عوام کو یورپ کا سامعیار زندگی فراہم کر سکتے ہیں، افتخار علی ملک،سارک چیمبرآف کامرس کی جانب سے سارک کے ستائیسویں یوم تاسیس کے موقع پر منعقدہ ایک سیمینار اور جشن کی تقریب سے سیاسی و تجارتی رہنماؤں کا خطاب

ہفتہ 8 دسمبر 2012 19:55

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔آئی این پی۔8دسمبر۔ 2012ء) سیاسی اور تجارتی تنظیموں کے قائدین نے کہا ہے کہ اکیسویں صدر ایشیا کا عروج دیکھے گی، حکومتیں، کاروباری طبقہ سارک ممالک کو قریب لائیں،ڈھائی سو سال بعد ایشیائکی تقدیر بدل رہی ہے، امن کے بغیر ہم ترقی نہیں کر سکتے،سارک ممالک کی پالیسی معاون ہو تو ہم عوام کو یورپ کا سامعیار زندگی فراہم کر سکتے ہیں۔

ہفتہ کو یہاں سارک چیمبرآف کامرس کی جانب سے سارک کے ستائیسویں یوم تاسیس کے موقع پر منعقدہ ایک سیمینار اور جشن کی تقریب سے (ق) لیگ کے سیکرٹری جنرل سینیٹر مشاہد حسین ، اے این پی کے سنیٹر حاجی عدیل، سارک چیمبر کی نائب صدرافتخار علی ملک، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدرمرزا عبدالرحمٰن، سارک کے سیکرٹری جنرل اقبال تابش اور دیگر نے خطاب کیا۔

(جاری ہے)

مشاہد حسین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آنے والی صدی ایشیا کے غلبہ کی صدی ہے جس سے فائدہ اٹھانے کے لئے اس خطہ کی عوام کو اختلافات کے باوجود متحد ہونا پڑے گا۔اکیسویں صدی میں ایشیا سیاست، کاروبار، ثقافت اور ایجادات کا عالمی رہنما ہو گا۔ ہم دو سو پچاس سال بعد عظمت رفتہ کی طرف لوٹ رہے ہیں اور اس ضمن میں کاروباری برادری اور سارک چیمبر کا کردار انتہائی اہم ہے۔

اس موقع پر سنیٹر حاجی عدیل نے کہا کہ دنیا کی اکثریت اس خطہ میں بستی ہے جس کی فلاح امن کے بغیر ممکن نہیں۔افتخار علی ملک نے کہا کہ اگر پالیسی بہتر ہو تو ہم خطہ سے دنیا کی نصف پیداوار فراہم کر کے اپنی عوام کو یورپ کا معیار زندگی فراہم کر سکتے ہیں۔ ویزا کا حصول ایک بڑا مسئلہ ہے جو دنیا کی بائیس فیصد آبادی والے خطے جس میں سے پینتالیس فیصد نوجوان ہیں کو ترقی نہیں کرنے دے رہا۔

افتخار ملک نے کہا کہ ہم وسائل سے مالا مال ہیں دنیا کا سب سے برا بلاک ہیں مگر ہماری باہمی تجارت دنیا میں سب سے کم ہے۔ ہمارے خطے میں پینتیس لاکھ چھوٹے کاروبار ہیں مگربرامدات دنیا کی کل برامدات کا ڈیڑھ فیصد ہیں۔اس موقع پر سارک ممالک کے سفیروں نے کہا کہ سیاسی عزم اور پالیسیوں میں تبدیلی سے ہم ایک نئے دور کا آغاز کر سکتے ہیں۔سیاسی کشیدگی اقتصادی ترقی کے راستے مین رکاوٹ بنی ہوئی ہے جسے حل نہ کیا گیا تو ہم آنے والے صدی میں عوام کی فلاح کے لئے کچھ بھی نہیں کر سکیں گے۔اقبال تابش نے کہا کہ ہمارے خطہ میں درامدات اور برامدات کی لاگت دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔اگر حساس فہرستوں کا معاملہ نمٹا دیا جائے تو تمام سارک ممالک کی معیشت تیزی سے ترقی کرے گی۔

متعلقہ عنوان :